آئی سی سی پر اجارہ داری کے خواہشمند بگ تھری آج 3 ملکی دیوار مسمار کرنے کیلیے کوشاں

سنگاپور(انویسٹی گیشن ٹیم) آئی سی سی پر اجارہ داری کے خواہشمند بگ تھری آج 3 ملکی دیوار مسمار کرنے کیلیے کوشاں ہوں گے ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس میں پاکستان، جنوبی افریقہ اور سری لنکا کو دبائو میں لانے کیلیے پورا زور لگایا جائے گا۔
بی سی سی آئی نے مضبوط بھارت کو انٹرنیشنل کرکٹ کیلیے فائدے کا سودا قرار دیتے ہوئے اپنی بات منوانے کیلیے مہم تیز کردی، بورڈ کے صدر سری نواسن مہم سر کرلینے کا یقین دلانے لگے۔آئی سی سی کے ہیڈ آف لیگل افیئرز ای این ہیگنز نے پوزیشن پیپرز پر سری لنکن اعتراضات مسترد کردیے، انھوں نے کہا ہے کہ  مجوزہ سفارشات کسی کو پسند نہ ہوں تو اختلاف رائے کیلیے ووٹ کا حق استعمال کرسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی سی سی پر 3 ملکوں بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کی اجارہ داری کا منصوبہ دبئی اجلاس کے دوران 4 بورڈز کی تحفظات کی وجہ سے مکمل نہ ہوسکا، متنازع ڈرافٹ پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے حتمی فیصلہ اگلی میٹنگ تک موخرکردیا گیا، بنگلہ دیش نے تو جلد ہی مصلحت کوشی سے کام لیتے ہوئے بگ تھری کی حمایت کا اعلان کردیا لیکن پاکستان، جنوبی افریقہ اور سری لنکا اپنے بورڈ عہدیداروں سے مشاورت کے بعد بھی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں، اس دوران سابق کرکٹرز، آفیشلزاور مختلف ملکوں میں شائقین کا شدید رد عمل بھی سامنے آیا۔
سنگاپور میں  ہفتے کو شروع ہونے والے دوسرے رائونڈ میں اس 3ملکی دیوار کو گرانے کی کوشش کی جائے گی، انتظامی فیصلوں کی طاقت حاصل کرنے کیلیے بیتاب بگ تھری کو  منصوبے کی تکمیل کیلیے 10 میں سے 8ارکان کے ووٹ درکار ہونگے۔ نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز،بنگلہ دیش اور زمبابوے کی حمایت پہلے ہی حاصل ہونے کے بعد ابھی تک مزاحمت کرنے والے اسمال تھری میں سے ایک بھی نئے ڈرافٹ کے حق میں ووٹ دینے کیلیے تیار ہوگیا تو مستقبل کی عالمی کرکٹ کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق بگ تھری کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی کا سبز باغ دکھاکر مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے،تمام تر مالی وسائل اور انتظامی فیصلوں کی طاقت حاصل کرنے کی شقوں میں کچھ نرمی کا امکان بھی رد نہیں کیا جاسکتا، اتفاق رائے  کا مقصد پانے کیلیے اجلاس سے قبل بورڈز کے حکام کی غیر رسمی ملاقاتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہونگی۔آئی سی سی کے انتظامی امور اور وسائل کی بندر بانٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرنے والے تینوں ملکوں کے باہمی صلاح مشورے اور مشترکہ موقف ڈرافٹ کی منظوری کو دوبارہ موخر بھی کراسکتی ہے۔ بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن نے ایک بار پھر نئی سفارشات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے ہاتھ مضبوط کرنے میں عالمی کرکٹ کا فائدہ ہے۔
دوسری طرف  پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ بگ تھری کے معاملے پر بھارت کی طاقت کی پرواہ نہیں،آئی سی سی کے اجلاس میں اپنا مؤقف بہتر انداز میں پیش کرینگے، ادھر آئی سی سی کے ہیڈ آف لیگل افیئرز ای این ہیگنز نے بگ تھری ڈرافٹ کے پوزیشن پیپرز پر سری لنکا کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ  فارمولا آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے سامنے لایا گیا ہے، مجوزہ سفارشات کسی کو پسند نہ ہوں تو اختلاف رائے کیلیے ووٹ کا حق استعمال کرسکتا ہے، مالی معاملات، خاص طور پر آمدن کے حوالے سی کسی کے تحفظات ہیں تو ان پر بات کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے، ہیگنز نے آئی سی سی کا فل کونسل اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے ڈرافٹ کو منظوری سے  3 ماہ قبل مطالعہ کیلیے فراہم کیا جانا بھی ضروری نہیں تھا۔

0 comments

Write Down Your Responses