تنظیم طلبہ اسلام کا مقصد وطن عزیز کی سلامتی اور اس کو روشن تر بنانے کے لیے جدوجہد کرنے کا عزم کرتے ہیں

اسلام آباد(ایم وی این نیوز انویسٹی گیشن ٹیم) تنظیم طلبہ اسلام کے کارکن ملک دشمن سرگرمیوں میں نہ ملوث ہیں اور نہ ہی ایسی افراد کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔تنظیم طلبہ اسلام تحفظ اسلام و تحفظ پاکستان کویقینی بنانا اپنی اساسی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ تنظیم طلبہ اسلام کے مرکزی صدر سیدحسان اکبر گیلانی اور اسلام آباد کے نگران عبدالرحمن کی بلا جواز گرفتاریاور ان کی نامعلوم مقام پر منتقلی باعث تشویش ہے ۔تنظیم طلبہ اسلام مفکر اسلام سید ابولحسن علی ندوی رحمۃ اللہ کے دعوتی منہج پر خالص انفرادی و اجتماعی کردار سازی پر کام کر رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار تنظیم طلبہ اسلام کے مرکزی ترجمان عتیق الرحمن نے تنظیم کے مشاورتی اجلاس کے بعد کیا۔انہوں نے کہا کہ تنظیم طلبہ اسلام کی تاسیس یوم آزادی 14اگست2010کے موقع پر کی گئی۔تنظیم کی یوم آزادی کے دن تشکیل کا مقصد یہ تھا کہ ہم وطن عزیز کی سلامتی اور اس کو روشن تر بنانے کے لیے جدوجہد کرنے کا عزم کرتے ہیں۔یہ وطن عزیز نوجوانوں کی خدمات و کارناموں کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا اور اس کے تحفظ کے لیے بھی طلبہ ہی کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔تنظیم طلبہ اسلام نے اپنے کارکنان سے حلف ناموں میں یہ عہد لیا کہ ہم نہ کسی ملک دشمن سرگرمی کا حصہ ہیں اور نہ ہی ایسے افراد کی کسی طرح ہمدردی و حمایت کرتے ہیں۔ہماری تنظیمی پالیسی روزروشن کی طرح عیاں ہے اور ملک کے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ بھی ان کے استفسار پرمکمل تعاون کرتے رہے۔ تعجب اس امر پر ہے کہ تنظیم طلبہ اسلام کے ذمہ داران کو چادرو چار دیواری کا تقدس پامال کر کے ان کے گھروں سے حراست میں لے لیا گیا،جب کہ 16دن گزرچکے ہیں مگر ابھی تک ان کو لاپتہ کردیا گیاہے ۔تنظیم طلبہ اسلام انتظامیہ و سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہمارے ذمہ داران کو فی الفور رہاگیا جائے اوراگر ان پر بشری تقاضوں کے تحت کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے تو اس پر قانونی کارروائی کرنے کا وہ مکمل حق رکھتے ہیں مگر ان کی بنا کسی وجہ بتائے گرفتاری اور ان کو نامعلوم مقام پر منتقل کردینا شدید تشویشناک امر ہے۔تنظیم طلبہ اسلام چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ بے گناہ افراد کی گرفتاری و نامعلوم مقام پر منتقلی پراز خود نوٹس لیں۔

0 comments

Write Down Your Responses