سندھ کی ایجوکیشن کو جان بوجھ کر تباہ کیا جارہا ہے: غلام نبی مورائی

سانگھڑ(انویسٹی گیشن ٹیم)سندھ کی ایجوکیشن کو جان بوجھ کر تباہ کیا جارہا ہے ایجوکیشن کی تباہی میں حکومتی حلقوں کا بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے رشوت کے عوض ایجوکیشن میں جعلی استادوں کو بھرتی کیا ان خیالات کا اظہار غلام نبی مورائی نے ڈسٹرکٹ کونسل حال میں ایک روزہ ایجوکیشن سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پرڈی سی سانگھڑ سکندر علی خشک ۔فقیر محمد اسماعیل مہر۔روف چانڈیو۔ڈاکٹر فاروق اعوان ۔پروفیسر اﷲ ورایو بھن۔حسن عسکری۔نواز کنھبر۔منصور میمن۔ سمیت بڑی تعداد میں علمی ادبی سماجی شخصیت نے شرکت کی ایجوکیشن کے پروگرام میں ضلع بھر کی کسی بھی سیاسی شخصیت نے شرکت نہیں کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے غلام نبی مورائی کا کہنا تھاضیاء دور سید غوث علی شاہ کے دور سے پہلے سندھ میں ایجوکیشن کا معیار بہتر تھا مگر ضیاء دور اور سید غوث علی شاہ کی وزارت کے دوران سندھ میں رشوت اور سفارش کی بنادوں پر ایجوکیشن میں نااہل استادوں کی بھرتی نے سندھ میں ایجوکیشن کی تباہی کی بنیاد رکھی اس کے بعد آنے والی کسی بھی حکومت کا ضمیر نہ جاگا بلکہ انھوں نے اس کام کو منافع بخش سمجھ کر جاری رکھا ان کا کہنا تھا کہ سیاسی لوگوں سمجھتے ہیں کہ الیکشن استاد کرواتے ہیں اس لیئے جتنے ان کے استاد ہوں گئے الیکشن جیتنے میں اتنی ہی سہولت ہوگئی ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک نے جب سندھ کی ایجوکیشن میں کرپشن دیکھا تو این جی او کے حوالے سندھ کی ایجوکیشن کی گئی مگر این جی اوز والوں نے بھی ہاتھ دیکھائے تحریک پاکستان سے لیکر ون یونٹ تک شاگرد تحریک فعال تھیں مگر آج شاگرد وں کی کوئی بھی یونین فعال نہیں ہے سیاسی پارٹی پر اس وقت لازم ہے کہ وہ ایجوکیشن کی بحالی کے لئے کام کریں مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہورہا منتخب ہونے والا سیاسی نمائندہ اپنے آپ کو آسمانی مخلوق سمجھنے لگتا ہے جب وہ وزیر بن جاتا ہے تو ساتوں آسمان پر پہنچ جاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ آج سندھ میں ایجوکیشن کی بحالی کے لئے صرف وہ لوگ ہی کام کر پائیں گئے جنہوں نے سندھ کا نمک کھایا ہوگا اس دھرتی سے پیار کرتے ہوں گئے ان کا کہنا تھا جو اپنے شہر یا صوبے کی بہتری کا نہیں شوچتے وہ پاکستان کی فلاح کے لئے کیسے شوچ سکتے ہیں ان کے بے ضمیر کو جگانا پڑے گا65فیصد ریونیو حکومت پاکستان کو دینے والی قوم آج تباہی کی طرف جارہی ہے 72فیصد تیل و گیس ہم دیتے ہیں ملک کو پھر بھی ہماری ایجوکیشن تباہ کیوں ڈی سی سانگھڑ سکندر علی خشک کا کہنا تھا کہ استاد کا رتبہ تمام عہدوں سے بالا تھا استاد کے رتبے کے سامنے ڈی سی کا کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی تھی مگر آج کی صورت حال دیکھ کر میں استادوں کے سامنے ہاتھ باندہ کر عرض کرون گا کہ آج کے استاد کی حالت دیکھ کر میرا دل درد سے روتا ہے آج کے نوجوان استاد پر لازم ہے کہ پرانے استادوں سے سیکھیں اگر وہ ایسا کریں گئے تو وہ اپنی دھرتی کی سچے دل سے خدمت کرسکیں گئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایک اسکول کا وزت کیا تو کسی بچے کو یہ نہیں پتہ تھا کہ شاہ لطیف کی درگاہ کدھر ہے جہاں تک کہ استاد کو بھی نہین جس استاد کو بھٹائی کی درگاہ کا نہ پتہ ہو وہ بھٹائی کی سندھ کی کیا خدمت کرے گا ان کا کہنا تھا کہ سانگھڑ کے لوگ باشعور ہیں میری خواہش ہے کہ سانگھڑ کے استاد ماڈل کے طور پر سامنے آئیں حکومت نے اسکول بھی بنا کر دیئے ہیں ٹیچر بھی دیئے ہیں اب یہ آپ کا کام ہے کہ اس اسکول میں بچوں کو تعلیم دلاوئیں یا پھر جانوروں کے استعمال میں لائیں ان کا کہنا تھا کہ ضرورت سے زائد اسکول بنا دیئے گئے ہیں جو ویران نہیں ہوں گئے تو کیا ہوگا آج استاد سیاسی لوگوں کے پرائیویٹ سیکٹریٹری بنا کر خوش ہوتے ہیں ان کو یہ نہیں پتہ کہ ان کا رتبہ سیاسی لوگوں سے زیادہ ہے مگر جب استاد خود ہی اپنے رتبے کو نہیں سمجھے گا اس کی معاشرے میں عزت نہیں ہوگئی اور سندھ میں ایجوکیشن فروغ نہیں پائے گا فقیر محمد اسماعیل مہر کا کہنا تھا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ایجوکیشن کی فلاح کے لئے پیرصاحب پاگاڑہ کے حکم پر آج پوری جماعت میں بچیاں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہی ہے سندھ کی تعلیم کو بچانے کے لئے سب کو سامنے آنا ہوگا حاجی ناظر کا کہنا تھا کہ جب تعلیم کی بات کی جاتی ہے تو اس میں نصاب نچے اور والدین کو بھولا دیا جاتا ہے آج ملک کی صورت ھال میں ایجوکیشن کے ساتھ صحت کا شعبہ بھی اہم ہے سول ہسپتال کراچی میں ادیب رضوی مخصوص رقم سے ایک شعبہ چلا سکتا ہے تو ہم کو اس سے نصیحت لینی ہوگئی ان کا کہنا تھا کہ ادارے خراب نہیں ہوتے ہیں فرد خراب ہوسکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف آپ تعلیم کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف آپ استادوں کے کردار کو نفی میں پیش کرتے ہیں تو اس صورت میں سندھ میں سندھ مین تعلیم کا معیار کس طرح بہتر ہوسکتا ہے جب آپ میڈیا پر اسکول میں کتے اور جانور دیکھتے ہیں تو دوسری طرف آپ مثالی اسکولوں کی بات کیوں نہیں کرتے جہاں استاد دو بجے کے بعد بھی بچوں کو فری میں ٹیوشن بھی پڑھاتے ہیں اس کی بھی تعریف کرنی چاہیے جو نہیں ہوتی ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی سیمنار میں استادوں والدین آفسران سول سوسائی میڈیا اور باقی لوگوں کی نمائندگی بھی ہونی چاہیے ان کا کہنا تھا کہ آج کا دور بادشاہی دور نہیں ہے میڈیا کا دور ہے جو دیوئی نہیں کرتا سب کا حساب کتاب ہونا چاہیے نہ کہ صرف کسی ایک کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کی پالیسی بنائی جائے روزانہ کسی نئے ڈاکٹر سے اس کا ااپریشن نہ کروایا جائے جس سے مرض میں اضافہ تو ہوسکتا ہے اس میں بہتر نہیں آسکتی تعلیمی ماہر پروفیسر اﷲ وریو بھن کا کہنا تھا کہ آج کے جو حالات ہیں اس میں بڑی تیزی سے سندھ کو دورے جہالیت کی طرف دکھیلا جارہا ہے آج سندھ کی تعلیمی صورت ھال دیکھ کر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے آج جس صوبے کے تعلیمی استاد بغدادمیں تعلیم دیتے تھے ان کے سوبے کی تعلیمی صورت دیکھنے جیسی نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ سانگھڑ مین میڈل اور ہائی اسکول چلانے کے لیئے مارکیٹ لگی ہوئی ہے جو بزنس پوائنٹ کے تحت چل رہے ہیں سندھ میں استاد اسکول جانے کی بجائے میڈیا کی بندوق لیکر بدمعاشی کرتے ہیں استادوں کی ٹرینگ فیشن شو بن گئی ہے اسکول کا تقدس آج پامال ہورہا ہے اس موقع پر ای ڈی او یار محمد بالادی نے ضلع میں ایجوکیشن کی صورت حال بیان کی

0 comments

Write Down Your Responses