قومی اسمبلی میں ملک کی اقتصادی صورتحال پر اسٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ برائے 201213 پیش

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں ملک کی اقتصادی صورتحال پر اسٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ برائے 201213 پیش کر دی گئی۔
اپوزیشن ارکان نے رپورٹ کو الفاظ کا گورکھ دھندا قرار دیتے ہوئے ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کردیا۔ جمعے کو پارلیمانی سیکریٹری برائے خزانہ رانا محمد افضل نے بینک دولت پاکستان کی سالانہ رپورٹ برائے 2012-13 پیش کی تو پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے ارکان نے اسے  الفاظ کا گورکھ دھندا قرار دیا اور اس کا ازسر نوجائزہ لینے اور نگرانی کیلیے کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ۔ تحریک انصاف کے رکن اسد قیصر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ایکٹ کے تحت حکومت جو قرضہ مرکزی بینک سے لیتی ہے وہ سہ ماہی کے آخر تک صفر پر لے جانا ہوتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے میاں عبدالمنان نے کہا کہ جب موجودہ حکومت آئی تو قرضوں کی شرح 63.4فیصد تھی جسے کم کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شازیہ مری نے کہا کہ رپورٹ میں سندھ حکومت کی شرح نمو منفی دکھائی گئی ہے جو درست نہیں ۔  اسپیکر نے کہا کہ یہ رپورٹ متعلقہ قائمہ کمیٹی میں زیر بحث لائی جا سکتی ہے۔ سلمان بلوچ نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ 300بلین روپے تک پہنچ چکا ہے ، حکومت اس پر توجہ دے۔ محمود اچکزئی کے نکتہ اعتراض پر جواب دیتے ہوئے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ جن 21 ارکان کے پاس پارلیمنٹ لاجز میں سرکاری رہائش نہیں ، انہیں منسٹر کالونی میں رہائش فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم کو سمری ارسال کر دی گئی ہے، گورنمنٹ ہاسٹل بھی خالی کرانے کیلیے ہدایات دیدی گئی ہیں۔

0 comments

Write Down Your Responses