مولانا مفتی عثمان یار خان شہید کی کہانی ان کی اپنی زبانی


تحریر: مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی 
جمیعت علماء اسلام(س)سندھ کے جنرل سیکرٹری شہیداسلام مفتی عثمان یار خان گلستان جوہر کراچی میں جامعہ دارلخیر کے نائب مہتمم تھے جنہیں چندہفتوں پہلے کراچی میں نامعلوم افراد نے شہید کردیایقیناً مفتی صاحب اپنے رب کے ہاں سرخروہوکرچلے گئے ان کااپنی زندگی کاپس منظر جوان کی اپنی زبانی کراچی کے ایک مقامی اخبارمیں شائع ہواقارئین کے نظر کرتے ہیں ۔
میں کراچی کے علاقے لیاری کے محلہ علامہ اقبال ٹاؤن میں 1966 ؁ء میں پیداہوا،مادری زبان پشتوہے،بچپن کاوقت لیاری ،لی مارکیٹ کھڈہ مارکیٹ اورمیمن سوسائٹی میں گزارا۔میرے والد ماجد مولانامفتی محمداسفندیارخان کوشروع سے ہی دینی علوم حاصل کرنے کاشوق تھاوہ پاکستان آنے کے بعد کراچی کے علاقے کھڈہ مارکیٹ میں قائم انتہائی قدیم دینی درسگاہ ’’مظہرالعلوم ‘‘سے وابستہ ہوگئے یہ درسگاہ گھڈہ مارکیٹ میمن سوسائٹی میں قائم تھی جس کے مہتمم حضرت مولاناعبدل صادق تھے جوحضرت شیخ الہندکے سپاہی اور سپہ سالار تھے اوریہ ادارہ اس وقت سندھ میں تحریک ریشمی رومال کامرکز تھایہیں سے والد صاحب نے باقاعدہ تعلیم وتدریس کاآغاز کیااعلیٰ صلاحیت اورقابلیت کی بناپرچند ہی برسوں میں عطیم مقام حاصل کرلیاکہ نہایت کم عمری میں ’’شیخ الحدیث ‘‘کے منصب پہ فائز ہوگئے جوایک بہت بڑااعزازتھااس وق والدصاحب کی عمر 25 سال سے 30سال کے درمیان ہوگی اس عمر میں بہت کم علماء شیخ الحدیث بنتے ہیں اس زمانہ میں مظہرالعلوم دینی علوم کاایک بڑامرکزسمجھاجاتاتھاجہاں لوگ دوردور سے پڑھنے آیاکرتے تھے۔مظہرالعلوم اطراف میں واقع ممالک افغانستان،اورایران میں بھی مشہور تھایہی وجہ تھی کہ ان ممالک کے طلباء بھی دینی علوم کے حصول کے لیے ’’مظہر العلوم ‘‘آیاکرتے تھے ان میں مولاناعبدالرحمن چہباری اورمولاناعبدالکریم کے نام سرفہرست ہیں جن کاشماراب ایران کے بڑے جید علماء میں ہوتاہیاورانہوں نے ایران میں بڑے بڑے مذہبی ادارے قائم کیے ہیں ،والدصاحب کراچی آنے سے قبل سوات میں مقیم تھے اوروہاں بھی وہ زیادہ تردینی علوم کے حصول یادرس وتدریس میں ہی مصروف رہے ۔والدصاحب شیخ عبدالمالک صدیقی کے خلیفہ مجاز ہیں اورتصوف کی طرف بھی ان کا رجحان ہے ،کراچی کے مظہر العلوم میں طلبہ کوپڑھاتے پڑھاتے ان کی نظراتنی کمزور ہوگئی کہ وہ طلبہ کودووقت نہیں پڑھاسکتے تھے جس پرادارے والوں نے اعتراض کیاتووہ مظہرالعلوم کوچھوڑ کر کراچی آگئے اوریہاں بکڑاپیڑی کے علاقہ میں ایک ’چھپڑامسجد ‘کے امام وخطیب بن گئے اوریہاں پربھی درس وتدریس کاسلسلہ جاری رکھا،جوطلبہ آپ سے مظہرالعلوم میں دورہ حدیث اوردیگرجماعتوں میں پڑھاکرتے تھے وہ ان سے بہت محبت وتعلق رکھتے تھے انہوں نے یہ فیصلہ کرلیاتھاکہ پڑھناہے تومیرے والد صاحب سے ہی پڑھناہے وہ سب اس’چھپڑامسجد ‘میں آگئے اوروالد صاحب کی شاگردی میں اپنی تعلیم کوجاری رکھا۔اسی محبت اورتعلق نے حضرت مفتی نظام الدین شامزئی کواس ادارے سے منسلک کیااوربھی کئی جید علماء نے بھی اس چھپڑامسجد میں والدصاحب سے حفظ اورابتدائی جماعتوں کی تعلیم حاصل کی جبکہ مفتی شامزئی اوران کے والد دونوں نے مفتی اسفند یارخان کے ہاتھ پہ بیعت کی۔یہ چھپرامسجد ایک تنگ جگہ پہ واقع تھی لیکن اس کے طلبہ میں روزبروزاضافہ ہورہاتھا۔1970 ؁ء کے انتخابات میں یہ ’’چھپڑامسجد‘‘ہی جمیعت علماء اسلام کامرکز تھا،بڑے بڑے لوگ اورجید علماء یہاں آیاکرتے تھے اوراکثر ان کاقیام بھی یہیں ہوتاتھااورساری تحریک وہیں سے چلائی جارہی تھی۔مفتی محمود،مولاناہزاروی ،اورحضرت بنوری جیسی عظیم شخصیات یہاں پہ تھیں ،لیکن اس مسجد کی جگہ تنگ تھی چنانچہ والد صاحب نے اس قدیم چھپڑامسجد کوچھوڑ کر 1985 ؁ء میں گلستان جوہر کراچی کے بلاک 15میں ایک مدرسے جامعہ دارلخیر کی بنیاد رکھی اورہمیں فخر ہے کہ والد محترم کاقائم کیاگیایہ ادارہ گلستان جوہر کاوہ واحدادارہ ہے جوتمام قانونی تقاضے پورے کر کے قائم کیاگیا۔میں نے ابتدائی تعلیم جامعہ دارلخیرسے ہی حاصل کی اوردرجہ اولیٰ مدرسہ بنوری ٹاؤن میں پڑھاجس کے بعد جامعہ فاروقیہ میں داخلہ لے لیااوروہاں سے فراغت کے بعد میں سعودی عرب چلاگیااورریاض میں رہااورکچھ عرصہ بعد میں واپس کراچی آگیا۔میں نے پرائمری تعلیم میٹرک تک ریگولراسٹوڈنٹ کے طور پر سکول کے ذریعے مکمل کی جس کے بعد مزید انگریزی تعلیم پرائیویٹ امتحانات دے کر حاصل کی میرابچپن لیاری میں گزرا،جہاں ماحول بڑاعجیب وغریب ساتھااس وقت میری عمر بارہ یاپندرہ سال تھی ہم باہر کی دنیاسے ناواقف تھے کیونکہ جب میرے والد صاحب صبح سویرے’’مظہرالعلوم ‘‘کھڈہ مارکیٹ جاتے تھے تو میں ان کے ساتھ ہوتاتھااورجب شام کوواپس آتے تومیں ان کے ساتھ واپس آجاتاتھامیں شروع سے ہی اپنے والد کے قریب تھاوالد صاحب بچوں کے ساتھ محبت وشفقت رکھتے تھے انہوں نے مجھے کبھی نہیں ڈانٹااوروہ اپنے شاگردوں کے ساتھ بھی شفقت کامعاملہ کرتے تھے لیکن میں بہت شرارتی بچہ تھااورجووقت مجھے اپنے گھر پرملاکرتاتھااس میں اپنے بہن بھائیوں اورکزنزسے چھوٹی موٹی شرارتیں کرتارہتاتھااپنی دوشرارتیں ایسی یاد ہیں جو میں کبھی نہیں بھول سکتاکیونکہ میری ان دوشرارتوں میں سبق بھی ہے کہ ایک توماں باپ کی بددعانہیں لینی چاہیے کیونکہ اگرقبولیت کاوقت ہوتوبددعاپوری بھی ہوجاتی ہے اوردوسرایہ کہ کبھی کسی کامذاق اس کے کسی جسمانی عیب کونشانہ بناکر نہیں کرناچاہیے ورنہ نقصان بھی پہنچ سکتاہے ایک روز میں گھر میں اپنے بھائی کے ساتھ مسلسل شرارت کر رہاتھااورایک دروازے سے باہر جاکر دوسرے دروازے سے باہرآنے کاسلسلہ جاری تھاجس سے میری والدہ پریشان ہورہی تھی انہوں نے کئی بارسمجھایالیکن میں اپنی شرارت سے باز نہ آیاتوآخر کارمیری والدہ نے تنگ آکر غصہ میں کہاکہ جاتجھے ’’کتا‘‘کھالے اورکچھ دیر بعد جب میں گھر سے باہر نکلااورکوئی کام کرکے واپس گھر آرہاتھاتوراستے میں مجھ پر کتے نے حملہ کر کے زخمی کردیااورمیری والدہ کی کہی ہوئی بات سچ ثابت ہوگئی ۔ اسی طرح ہمارے مدرسے میں میرے ساتھ ایک شاگرد پڑھتاتھاجس کی عمر زیادہ تھی اورقد بہت چھوٹاتھامیں اکثر اس کا مذاق اڑایاکرتاتھااوراسے بوناکہہ کرچھیڑاکرتاتھاجب وہ میرے قریب آتاتومیں بھاگ جایاکرتاتھاایک دن ایساہواکہ میں اس کواپنے ماموں کے ساتھ مل کر چھیڑ رہاتھاکہ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی لکڑی سے ہم دونوں پر حملہ کر دیامیراماموں توبھاگ گیااورمیں پکڑاگیاجس پر اس نے میری خوب پٹائی کی اورمیری آنکھ پرایک ایساوار کیاکہ میری آنکھ بال بال بچی،لیکن آنکھ سے اوپر کاحصہ پھٹ گیااوراس میں سے خون بہہ نکلا۔گھر والے مجھ اسپتال لے کر گئے جہاں میرے زخم پر ٹانکے لگائے گئے جس کانشان آج بھی باقی ہے اوراس وقت سے میری پتلی متاثر ہے اورمیری اس آنکھ کی بنائی پہ بھی اثرپڑاہے ،ہم لیاری میں جس جگہ رہتے تھے وہ غریبوں کاعلاقہ تھااس لیے وہاں کوئی بڑے کھیل تونہیں کھیلے جاتے تھے البتہ گلی ڈنڈااورفٹبال کاکھیل مقبول تھاجوکبھی کبھار میں بھی کھیل لیاکرتاتھالیکن مجھے صرف تیراکی کاشوق تھااورمیں سوئمنگ بہت شوق سے کرتاتھااوریہ شوق اب بھی باقی ہے اورمجھے اچھی خاصی سوئمنگ آتی ہے کبھی نہیں سوچاتھاکہ عالم دین بنوں گا۔یہ سب اللہ کی جانب سے ہوتاہے اللہ ہی اپنے بندے کوکسی بھی کام کے لیے منتخب کرتاہے اور میں اللہ تعالیٰ کاشکر اداکرتاہوں کہ اس نے مجھے اپنے دین کی خدمت کے لیے منتخب کیاجس کی وجہ سے میں آج عالم اورمفتی ہوں۔1970 ؁ء کے الیکشن میں میرے والد صاحب نے باقاعدہ حصہ لیااورپیپلزپارٹی کے عبدالحفیظ پیرزادہ کے مدمقابل الیکشن میں کھڑے ہوئے چونکہ میرازیادہ وقت والد صاحب کے ساتھ گزرتاتھااس لیے سیاستدانوں کوبہت قریب سے دیکھنے اوراورسیاست کے اسرارورموزسیکھنے کاموقع ملا،مجھے شروع سے ہی لکھنے لکھانے کاشوق ہے اورشعروسخن کاذوق بھی رکھتاہوں جبکہ بڑے بڑے سیاستدانوں اورشخصیات سے بھی ہماراہر وقت رابطہ تھامیں اپنی شوق کی خاطر کافی پہلے اپنی جیب خرچ سے ایک رسالہ ’’پاسبان ملت‘‘کے نام سے شائع کیاتھاصحافت اورسیاست کے اسی شوق نے مجھے ’’جامعہ دارلخیر‘‘گلستان جوہر کراچی کے ماہنامہ نذرالخیرکامدیراعلیٰ اورجمیعت علماء اسلام کراچی کاجنرل سیکرٹری بنانے میں کلیدی کرداراداکیاجبکہ اس وقت میں جمیعت علماء اسلام (مولاناسمیع الحق گروپ)کامرکزی جنرل سیکرٹری اورمتحدہ مجلس عمل کارابطہ سیکرٹری ہوں اورہماری پارٹی کے بہت سے لوگ انتخابات میں حصہ لے کر ایم پی اے بھی بن چکے ہیں لہذااگر میں عالم دین نہ ہوتاتویقیناصحافی یاصرف سیاستدان ہی ہوتا۔شادی کاتوہمارے علاقے میں رواج ہے کہ بہت جلدی کر دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ میری پہلی شادی 18سال کی عمر میں ہوئی جس سے میرے تین بیٹے اورایک بیٹی ہے ،پہلی شادی کرنے کے تین سال بعد میں نے دوسری شادی کرلی لیکن دوسری شادی میں میراعمل دخل نہیں وہ میں نے اپنی والدہ کی پسند سے کی ہے دوسری بیوی سے میراایک بیٹااورچاربیٹیاں ہیں اوردونوں بیویوں کومیں نے بیک وقت رکھاہواہے ،پانچ وقتہ نما ز کی پابندی مذہبی ماحول میں ایک عام بات ہے جوبچے مذہبی گھرانوں میں پرورش پاتے ہیں اورمذہبی اداروں سے تعلیم وتربیت حاصل کرتے ہیں ان کوبچپن سے ہی نماز روزے کی عادت ہوتی ہے میں توشروع سے ہی والدصاحب کے ساتھ رہتاتھاصبح سے لے کر رات تک میراوقت ان کے ساتھ گزرتابلکہ میں توسوتابھی ان کے ساتھ تھااس لیے مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی کسی نماز کاناغہ کیاہواوریہی حال روزے کابھی تھایہی وجہ ہے کہ میں نے اپناپہلاشوقیہ روزہ صرف 12سال کی عمر میں رکھالیکن میری کوئی روزہ کشائی وغیرہ نہیں کی گئی کیونکہ ہمارے ہاں روزہ کشائی وغیرہ کارواج ہی نہیں تھا،روزہ فرض ہونے کے بعد سے لے کر آج تک پابندی سے روزہ رکھنے کی توفیق اللہ نے مجھے دے رکھی ہے جبکہ میرے بچے بھی ایسے ہی ہیں اوران سب نے بھی وقت سے پہلے روزے رکھناشروع کر دئیے تھے یہ سب ماحول کااثر ہوتاہے بچہ بڑاہوکر ویساہی بنے گا۔جب جمیعت علماء اسلام دولخت ہوئی اورحضرت مولانامفتی محمود اورمولاناغلام غوث ہزاروی میں تقسیم ہوگئی یہ وہ لمحہ تھاجوفیصلے کاوقت تھاکہ کس کاساتھ دیناہے ؟تومیرے والد محترم نے اس وقت مولاناہزاروی ؒ کاساتھ دیامیں یہ سمجھتاہوں کہ یہ ایک انقلابی لمحہ تھاجسے کبھی فراموش نہیں کیاجاسکتاایک اورواقعہ کوبھی میں کبھی نہیں بھلاسکوں گایہ ان دنوں کی بات ہے جب میرے والد محترم اسفند یار خان نے روزنامہ صداقت کاڈیکلریشن لیاتھااس وقت ملک بھر میں نظام مصطفی کی مہم چل رہی تھی جس میں علماء بھی اپناکردار اداکر رہے تھے اس زمانہ میں میرے والد صاحب اپنے ایک بڑے بھائی اورڈرائیور کے ہمراہ کسی ضروری کام سے سفر پر روانہ ہوئے توان کے ڈرائیور نے اونچائی پر گاڑی لے جاکر گاڑی کوروک کر اس کاہینڈ بریک کھینچااورخود نیچے اتر گیااورپھر ہینڈ بریک کوڈھیلاچھوڑ کروہاں سے فرار ہوگیاجس کی وجہ سے ایک خوفناک حادثہ پیش آیاجس میں میرے تایاکاامتقال ہوگیااور میرے والد کوبہت شدید چوٹیں آئیں اوران کے جسم کی ہڈیاں جگہ جگہ سے ٹوٹ گئیں لیکن اللہ نے ان کوبچالیااس ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ہمیں والد صاحب کے آپریش کی ضرورت پیش آئی تومعلوم ہواکہ اس آپریشن کے لیے 25ہزار روپے خرچ کرنے ہونگے لیکن اس وقت ہمارے مالی حالات ایسے نہیں تھے کہ ہم یہ خرچہ اٹھاسکتے اس وقت ہمارے کوئی کام نہ آیااورہمیں اچھوت بنادیاگیا،حد تویہ ہے کہ کوئی والد صاحب کی عیادت کرنے بھی نہ آیاکہ ان کی حالت کیسی ہے ،روزنامہ صداقت کاڈیکلریشن ہمارے والد صاحب کالیاہواتھااس کے کرتادھرتابھی کام نہ آئے اورستم ظریفی دیکھئیے کہ اس اخبار میں والدصاحب کے ایکسیڈنٹ کی خبر تک شائع نہ کی گئی اوربراوقت آتے ہی سب نے آنکھیں پھیر لیں یہ وہ لمحات ہیں جو میں کبھی نہیں بُھلاسکتاان واقعات نے ہمیں بتایاکہ کس طرح لوگ بُراوقت آتے ہی ساتھ چھوڑجایاکرتے ہیں ،پہلے کراچی میں سب زبانیں بولنے والے ساتھ ساتھ رہتے تھے اور ان کے گھر بھی آپس میں ملے ہوئے تھے اورجہاں چاہتے تھے آتے جاتے تھے لیکن اب توکراچی میں مختلف نوگوایریابنے ہوئے ہیں جہاں مسلح افراد کی حکمرانی ہے ، کراچی میں جاری دہشت گردی قتل عام اوربدامنی کوروکنے کاطریقہ صرف یہی ہے کہ پاکستانیت کوفروگ دیاجائے اورایسے قوانین بنائے جائیں کہ لسانیت اورقومیت کی بنیاد پر سیاست کرنے والی جماعتیں یاتوقومی دھارے میں شامل ہوجائیں ورنہ ان پرپابندی عائد کر دی جائے جس طرح اس بات کاشور مچایاجاتاہے کہ یہ طالبان ہیں اوریہ فلاں کالعدم تنظیمیں ہیں جس کی وجہ سے ملک میں نفرت کی آگ بھڑکتی ہے۔۔

0 comments

Write Down Your Responses