ھندو خاندان کی دو معصوم بہنوں کی تین دن غائب رہنے کے بعد اچانک واپسی

میرپورخاص ( ایم وی این بیورورپورٹ) میرپورخاص کے علائقے اختر کالونی کی رہائشی ھندو خاندان کی دو معصوم بہنوں کی تین دن غائب رھنے کے بعد اچانک ظاہر محمود آباد پولیس نے دونوں بہنوں کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میرپورخاص میں پیش کردیا۔ ایس ایچ او محمود آباد پولیس ممتاز راہو کے مطابق گزرشتہ روز بھانسنگ آباد کے رہائشی رجب پٹھان دو بچیوں کو تھانے پر لیکر آیا جن میں دس سالہ نسرین اور چھ سالہ یاسمین تھی جس کے مطابق دونوں بچیاں انہیں رستے میں ملی ۔ عدالت نے دونوں بچیوں کا بیان سننے کے بعد انہیں دارلعمان حیدرآباد بھیج دیا۔ عدالت کے احاطے میں میڈیا سے بات چیت میں نسرین نے بتایا کہ وہ ھندو زات گواریا سے تعلق رکھتی ہیں اور اپنی ماں رجو اور شرابی باب سوموں کے ظلم سے تنگ آکر اپنی چھوٹی بہن یاسمین کے ساتھ تین دن قبل نکلی تھی اور انکے اصلی نام پوجا ا ور انکی چھوٹی بہن کا نام جمنا تھا جو کہ گھومتے گھومتے رجب پٹھان کے پاس پہنچے جس نے فیضان مدینہ پہچایا جہاں پر انییں مسلمان کیا گیا اور پولیس نے آج عدالت میں پیش کیا وہ بغیر کسی دباؤ کے مسلمان ہوئی ہیں انکے والد سومو شراب کے نشے میں تشدد کرتا تھا ان سے بھیک منگوائی جاتی تھی اور بہت تکلیف میں تھی وہ۔ جبکہ عدالت نے احاطے میڈیا سے بات چیت میں بیچوں ما ں راجو اور والد سوموں نے بتایا کہ انکی بیچوں کو ورغلا کر زبردستی مسلمان کیا گیا ہے وہ تو ابھی معصوم ہے انہیں دین کا کیا پتا اور انہوں نے عدالتی فیصلے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کا برا بھلا جانتے ہیں بچیوں کی کم عمری کا فائدہ اٹھا کر انہیں زبردستی مسلمان بنایا گیا ہے اور انکے ساتھ ظلم ہورہا ہے نا انصافی ہورہی ہے۔ متاثرہ والدین نے حکومت، عدلیا سے بچیوں کی واپسی کرنے اور انہی مسلمان کرنے ورغلانے کے الزام میں رجب پٹھان اور دیگر افراد کے خلاف کاروائی کی جائے

0 comments

Write Down Your Responses