دو ہندو بچوں کومچھلی پکڑنے کے الزام میں چوبیس گھنٹوں تک حبس بے جا میں رکھا گیا

میرپورخاص (ایم وی این بیوروپورٹ) ایک ہفتہ قبل کھپرو پولیس اسٹیشن کی حدود میں دو ہندو بچوں گھمن اور کولہی کو وڈیرے اور اسکے کمدار کی جانب سے مچھلی پکڑنے کے الزام میں پکڑ کے چوبیس گھنٹوں تک حبس بے جا میں رکھنے اور سر کے بال اتارکر ، سگریٹ سے جسموں کو جلانے تذلیل کرنے اور ایف آر درج کرنے کے باوجود کھپرو پولیس کی جانب سے جوابداروں کی عدم گرفتاری کے خلاف بچوں کے ورثاء خواتین ، مرد بچوں اور جسقم کھپرو کے کارکنان کا کھپرو سے پیدل مارچ میرپورخاص پہنچا۔۔ گزرشتہ روز ڈی آء جی آفس میرپورخاص کے سامنے تیس سے زائد متاثرہ بچوں کے ورثاء نے جسقم آریسر گروپ کے رھنماء محمد حیات سمیجو کی قیادت میں تین گھنٹوں تک دھرنا دیا اور کھپرو پولیس کے ڈی ایس پی، ایس ایچ او اور بچوں کی تذلیل کی ایف آء آر میں ملوث جوابدار غلام مصطٖفی عرف للو راجڑ اور میر راجڑ کی عدم گرفتاری پر احتجاج کیا۔ اس موقع پر تذلیل ہونے والے بچوں کی بوڑھی ماں ریشماء ، تذلیل ہونے والے بچوں گھمن اور چمن کولہی نے ایوان صحافت میرپورخاص کی ٹیم کو بتایا کہ مچھلی پکڑنے کی کوشش پر وڈیرے اور انکے کمداروں نے پکڑ کے اپنی اوطاق پر چوبیس گھنٹوں تک حبس بے جا میں رکھا اور سگریٹ سے جسم کو جلا کر لال مرچی اور نسوار لگائی گئی اور انکے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ۔ اس موقع پر ڈی آء جی آفس میں تعینات سب اسنپیکٹر خدا بخش پھنور نے انصاف کے لئے آنے والے مظاہرین کو انصاف کا یقین دلانے کہکر ٹال دیا۔ مظاہرین نے بتایا کہ ڈی ایس پی کھپرو پرویز اختر اور ایس ایچ او کھپرو پولیس اسٹیشن عارف بھٹی نے وڈیروں سے بھاری رشوت لیکر انکی سپورٹ کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس۔ سندھ ھاء کورٹ کے چیف جسٹس۔ وزیر اعلیٰ سندھ، آجی پولیس سندھ اور ڈی آء جی پولیس میرپوخاص سے بچوں کی تذلیل کرنے والے وڈیروں اور انکی سپورٹ کرنے والے راشی پولیس افسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

0 comments

Write Down Your Responses