کراچی ادبی میلہ اپنی خوبصورت یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا

کراچی(انویسٹی گیشن) کراچی ادبی میلہ اپنی خوبصورت یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا، ملک بھرسے شہریوں کی بڑی تعداد نے میلے میں شرکت کرکے اسے یادگار بنایا۔
 آکسفورڈیونیورسٹی پریس کے تحت 3 روزہ پانچویں کراچی ادبی میلے میں تعلیم، ادب اور ثقافت سمیت معاشرے کے اہم پہلوئوں پر مجالس اور تقاریب منعقد ہوئیں جن میں دنیا بھر سے آئے ہوئے قلمکاروں، فنکاروں، شاعروں اور ادیبوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، معروف شاعر امداد حسینی نے گفتگو میں کہا کہ مجھے ادبی میلے میں شرکت کرکے اس بات کا یقین ہے کہ ایسے میلے شہر کے حالات درست کردیں گے حکومت کو چاہیے کہ ملک بھر میں اسی اندازسے ادبی میلے منعقد کرے ، بھارتی مورخ ڈاکٹر راج موہن گاندھی نے کہا کہ پاکستانی عوام کا جوش دیکھ کرمجھے خوشی اورحیرانی ہوئی ہے کیونکہ ہمیں پاکستان کے بارے میں ہمیشہ منفی خبریں سنائی جاتی ہیں، ادبی میلے میں شرکت کے بعد مجھے الٹ دیکھنے کو ملا پاکستانی انتہائی ادب نواز اور محبت کرنے والے لوگ ہیں کراچی دل والوں کا شہر ہے مجھے اہل کراچی کے درمیان اجنبیت کا احساس نہیں ہوا کراچی کے شہری اپنی ثقافت اور ادب سے بہت قریب ہیں۔
ممتازناول نگارعبداللہ حسین کا کہنا تھا کہ ادبی میلوں میں شرکت کرکے پرانے دوستوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں ماضی کی نسبت آج ادبی تقاریب کم ہوتی ہیں مگر جتنی ہورہی ہیں ان پر منتظمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، قبل ازیںکراچی ادبی میلے کے آخری دن کا آغاز ’’بلوچ ادب اورقدرتی مناظر‘‘ کے عنوان کی مجلس سے ہوا جس کے شرکا ایوب بلوچ،طارق لونی، اورزبیدہ جلال تھیں، شرکا نے گفتگو میں کہا کہ بلوچ ادب 4 مختلف نظریہ خیالات پر مشتمل ہے، ادبی حوالے سے بلوچستان مالامال ہے اور ملک کے بڑے صوبے کو نظر اندازکرنا بڑی بھول ہے، دوسری مجلس ’’تاریخ سازی‘‘ سے خطاب میں جامعہ ملیہ دہلی کی سابق وائس چانسلراور بھارتی مورخ مشیرالحسن نے کہاکہ ہمیں کم ازکم تاریخ کے دقیانوسی تصورات کومحدودکردیناچاہیے۔
حمیدہ کھوڑو نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکسٹ کتابیں لکھتے ہوئے اعتدال پسندی کامظاہرہ کیا جائے انھوں نے صوبوں کی جانب سے ٹیکسٹ کتابوں کے خراب معیار پر تشویش ظاہر کی، ڈاکٹر مبارک علی نے کہاکہ تاریخ پر لکھی ان کی بہت سی کتابوں پر ملتان یونیورسٹی ،قائداعظم لائبریری اورکئی دوسرے تعلیمی اداروں میں پابندی عائد ہے اس پابندی کے باوجود نوجوان میری کتابیں پڑھتے اورسراہتے ہیں، ادبی میلے میں ’’برنگنگ ڈائون دی جینڈر والز‘‘ میں مندیرہ سین، ڈاکٹرامینہ یقین ، زویاحسن اور ڈاکٹر اسد سعید نے برصغیر میں خواتین لکھاریوں کی مختصر تاریخ پیش کی،’’ڈرامہ اورٹی وی‘‘ کے عنوان سے مجلس میں حسینہ معین، سرمد کھوسٹ، سلطانہ صدیقی،عطیہ دائود، اداکار شکیل صدیقی اور سیما طاہر خان نے ڈرامے کے حوالے سے گفتگو کی۔
معروف شاعر امداد حسینی کے ساتھ ایک شام بعنوان ’’دھوپ کرن‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی، ’’پاک امریکا تعلقات چل پائیں گے‘‘ کے عنوان سے خصوصی مجلس ہوئی، ممتاز ناول نگارعبداللہ حسین کے ساتھ نشست اور اداس نسلیں کاجوبلی ایڈیشن کے عنوان سے مجلس میں عبداللہ حسین نے کہا کہ میرا پہلا ناول اداس نسلیں بنیادی طور پر مختصر لو اسٹوری تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک بڑا ناول قراردے دیاگیا میں اس پر اپنے چاہنے والوں کاممنون ہوں،کراچی ادبی میلے کا اختتام ناہیدصدیقی کی کتھک رقص پر ہوا جبکہ اس سے قبل میلے کی خالق امینہ سید، ڈاکٹرآصف فرخی اور کاملا شمسی نے شرکا اور حاضرین کا شکریہ اداکیا۔

0 comments

Write Down Your Responses