جمہوریت کا مطلب لوگوں کو بااختیار بنانا ہے

کراچی(انویسٹی گیشن ٹیم) سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ان کی حکومت بہت زیادہ جمہوری تھی،جمہوریت کا مطلب لوگوں کو بااختیار بنانا ہے اور ہم نے مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرواکر اختیار عوام تک پہنچایا۔
 سابق صدر کا کہنا ہےکہ2002سے2007ء تک ہماری ایک باضابطہ منتخب حکومت تھی، جو اتنی ہی جمہوری تھی، جیسا کے دنیا میں ایک جمہوری حکومت ہوتی ہے۔ جب ان سے بار بار لگائے جانے والے اس الزام کے بارے میں پوچھا گیا کہ آیا انھوں نے کولن پائول کی ایک فون کال پر امریکا کی خواہش مان لی تھی ، تو جنرل مشرف نے کہا کہ یہ بالکل من گھڑت بات ہے۔ حقائق کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کراچی میں مجھے اس وقت کے امریکا کے وزیر خارجہ کولن پائول کی جانب سے ایک فون کال موصول ہوئی، جس میں انھوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملے کے بارے میں بریفنگ دی اور پوچھا کہ کیا پاکستان ان ممالک میں ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔ میں2د ن بعد اسلام آباد گیا جہاں پاکستان میں امریکا کی سفیر نے مجھے 7 نکاتی ایجنڈا دیا۔ میں یہاں ایک بات واضح کردوں کہ ہم نے اس وقت امریکا کو کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ ہم نے اس ایجنڈے پر غور کیا اور 3 دن بعد ان سے رابطہ کیا۔ ہم نے اس ایجنڈے کے کچھ نکات سے اتفاق کیا اور باقی کو مسترد کردیا۔ اس الزام کے جواب میں کہ انھوں نے ڈرون حملوں کی اجازت دی تھی، پرویز مشرف نے کہا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کے دور حکومت میں بمشکل7یا 8 ڈرون حملے ہوئے اور ان حملوں پر احتجاج کیاگیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے بہت سختی سے احتجاج کیا، جس پربہت سے لوگوں نے مشورہ دیا کہ میں احتجاج میں نرم رویہ رکھوں ۔ ذرائع ابلاغ کو آزادی دینے کے بارے میں پرویز مشرف نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا کہ ذرائع ابلاغ کو آزادی دی جائے کیونکہ ایک آزاد اور شفاف میڈیا ان کا خواب تھا اور وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ آزاد میڈیا کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ انھوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ آج میڈیا غیر متنازعہ باتوں میں متنازع مسائل پیدا کررہا ہے۔ انھوں نے ذرائع ابلاغ کے بارے میں کہا کہ وہ حکومت کے اہم بنیادی مسائل کی نشاندہی سے پہلو تہی کررہے ہیں اور جمہوریت و آمریت کے موازنے جیسی بیکار چیزوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ پرویز مشرف نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو غربت کے خاتمے، روز گار، تعلیم اور لوگوں کی فلاح و بہبود پرتوجہ دینی چاہیے اورکھل کر ملکی ترقی کے بارے میں بحث کرنی چاہیے

0 comments

Write Down Your Responses