عنوان: اسامہ بن لادن القاعدہ کی داستان( حصہ اؤل)


تحریر: آصف یٰسین لانگو 
اسامہ بن لادن کا مکمل نام اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن ہے ۔ اسامہ بن لادن 10 مارچ 1957ء کو سعودی عربیہ کے دارالحکومت ریاض میں پیدا ہوئے ۔ امریکہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں ان کا نام شامل ہے ۔ امریکی فوج و حکومت کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کو 2011ء کو ایبٹ آباد پاکستان میں قتل کر دیا ہے ۔
خاندانی پس منظر: 
اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب کے مشہور رئیس خاندان ’’ بن لادن خاندان ‘‘ سے ہے۔ اسامہ بن لادن محمد بن عوض بن لادن کے صاحبزادے ہیں جو شاہ فیصل کے خاص دوستوں میں شمار کیے جاتے تھے ۔ بن لادن کا کاروبار پورے مشرقی وسطیٰ میں پھیلاہوا ہے ۔ اسامہ بن لادن کے بقول ان کے والد نے امام مہدی علیہ اسلام کی مدد کے لئے کروڑوں ڈالرز کا ایک فنڈ قائم کیا تھا اور وہ ساری زندگی امام مہدی کا انتظام کرتے رہے ۔ ایک انٹرویو میں اسامہ بن لادن نے اپنے والد کے بارے بتاتے ہوئے کہا کہ ’’ شاہ فیصل دو ہی شخص کے موت پر روئے تھے ان د و میں سے ایک میرے والد محمد بن لادن تھے اور دوسرا وزیر اعظم پاکستان زولفقار علی بھٹو تھے ۔
تعلیم :
اسامہ بن لادن نے ابتدائی تعلیم سعودی عرب سے ہی حاصل کی بعد ازاں انہوں نے ریاض کی کنگ عبد العزیز یونیو رسٹی سے ماسٹر ان بزنس ایڈمنسٹریشن MBA کیا ۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں بعض مغربی صحافیوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے لندن کی کسی یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی ، تاہم اسامہ بن لادن کے قریبی حلقے سے اس بات کی نفی ہوئی ہے ۔
80 کے عشرے میں اسامہ بن لادن مشہور عرب عالم دین شیخ عبداللہ عظائم کی تحریک پر اپنی تمام خاندانی دولت اور عیش و آرام کی زندگی کو خیر باد کہ کر کمیونسٹو ں سے جہاد کرنے افغانستان آگئے ۔ جب مجاہدین کے ہاتھوں روس کی شکست کے بعد جب مجاہدین کی قیادت افغانستان میں اقتدار کے حصول کے لیے آپس میں جھگڑ پڑے تو اسامہ بن لادن مایوس ہو کر سعودی عرب چلے گئے ۔ جب اسامہ بن لادن تھے تو صدام حسین نے 1991ء میں کویت پر حملہ کر کر اس پر قبضہ کر لیا ۔ اس موقع پر جہاں دنیا کے اکثر ممالک نے عراق کے اقدام کو کھلی جارحیت قرار دیا وہاں باقی عرب ممالک عراق کے اس قدم کو مستقبل میں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھنے لگے اور موقع سے فائد ہ اٹھاتے ہوئے جہاں امریکہ نے ایک طرف کویت کا بہانہ بنا کر عراق پر حملہ کر دیا تو دوسری طرف وہ سعودی عرب کو سلامتی کا لا حق خطرات کا بہانہ بنا کر شاہ فہد کی دعوت پر مقدس سر زمین میں داخل ہو گیا ۔ تاہم اس موقع پر اسامہ بن لادن نے مقدس سر زمین پر امریکی فوجیوں کی آمد کی پر زور مخالفت کی اور شاہ فہد کو یہ تجویز دی کہ عراق کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اسلامی فورس تشکیل دی جائے اور امید دلائی کہ وہ اس کام کے لیے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کریں گے تاہم خادم حرمین الشرفین شاہ فہد نے شیخ اسامہ کے مشورے کو یکسر نظر انداز کر کے امریکیوں کو مدد کی اپیل کر دی ۔ جس کے نتیجے میں شاہی خاندان اور اسامہ کے مابین تلخی پیدا ہوگئی اور بالآخر 1992 ء میں اسامہ بن لادن کو اپنا ملک چھوڑ کر سوڈان جانا پڑا ۔
اسامہ بن لادن نے سوڈان میں بیٹھ کر مقدس سر زمیں پر ناپاک امیریکی وجود کے خلاف عرب نوجوانوں میں ایک تحریک پیدا کی اور اس کے ساتھ دنیا بھر میں جاری دیگر اسلامی تحریکوں سے رابطے قائم کئے۔
اسی دوران اسامہ بن لادن نے دنیا بھر میں امریکی مفادات پر حملوں کا مشہور فتوی ٰ جاری کر دیا ۔ جس کو ساری دنیا میں شہرت ملی یہاں تک کہ اسامہ بن لادن کی امریکہ مخالف جدو جہد کی باز گشت امریکی ایوانوں میں سنائی دینے لگی ۔ یہ وہ وقت تھا جب تنظانیہ اور نیروبی میں امریکی مفادات پر کامیاب حملوں کے بعد سوڈانی حکومت اسامہ بن لادن کی سوڈان میں موجودگی پر شدید دباؤ کا سامنا کر نا پڑ رہا تھا ۔
اسی دوران طالبانی پاکستانی ایجنسیوں کی مدد سے کابل فتح کر کے تقریباََ 60 فیصد افغانستان پر قدم جما کر ایک مستحکم حکومت قائم کر چکے تھے ۔ اسی سال یعنی 1996 ء میں اسامہ بن لادن اپنے ایک پرائیویٹ جہاز کے زریعے افغانستان پہنچے جہاں انہیں طالبان کے امیر ملا محمد عمر کی جانب سے امارات اسلامیہ افغانستان میں سرکاری پناہ حاصل ہوگئی ، اسامہ بن لادن نے افغانستان کے مانوس ماحول میں بیٹھ کر اپنی تنظیم القاعدہ کی از سر نو منظم کی اور دنا بھر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کاروائی تیز کر دی ۔ اسامہ بن لادن نے اپنے جہادی ٹھکانے زیادہ تر جلال آباد سے قریب تورا بورا مین قائم کیے تھے ۔ 
1997 میں امریکی صدر بل کلنٹن نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالا مگر طالبان نے اپنے مہمان کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد طالبان اور امریکہ میں تلخی کافی بڑھ گئی۔
القاعدہ کا قیا م:
1988ء میں امریکہ نے کروز میزائل سے افغانستان اور سوڈان پر حملہ کیا اور دعوی کیا کہ حملے میں اسامہ بن لادن کے جہادی کیمپ کو نشانہ بنا یا گیا ہے اور حملوں کا مقصد اسامہ بن لادن کی زندگی کا ختم کرنا تھا ۔ اس حملے کے بعد اسامہ بن لادن کو اسلامی دنیا میں ایک نئی شناخت ملی۔ پورر دنیا میں ان کی شہرت ہوئی اور ہر جگہ انہی کا تزکرہ ہونے لگا ۔ اس حملے کے بعد القاعدہ کے قدرے کم مقبول رہنما پوری دنیا میں امریکی عزائم اور جارحیت کے سامنے واحد مد مقابل کے طور پر پہچانے جانے لگے ۔ ان حملوں کے بعد القاعدہ کو رضا کار بھرتی کرنے میں بھی آسانی ہو گئی ۔ ان حملوں کے بعد اسامہ بن لادن رو پوش ہوگئے اور عوامی اجتماعات میں شرکت سے اجتناب برتنا شروع کر دیا امریکہ حکومت نے 11 اکتوبر 2001ء کو امریکہ کے شہر نیو یارک اور واشنگٹن میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائی کا الزام محض ایک گھنٹے کے اندر ہزاروں میل دور بیٹھے اسامہ بن لادن پر لگا دیا ۔ تاہم اسامہ بن لادن نے اس واقع میں ملوث ہونے سے واضع انکار کیا ۔ اسکے باوجود دنیا کے سب طاقت ور ملکوں نے اقوام متحدہ کی منظوری کے ساتھ کم از کم چالیس دوسرے خوشحال ممالک کے ساتھ مل کر اکتوبر 2001ء کی وسط میں دنا کے کم زور ترین اور پسماندہ ترین ملک میں سے افغانستان پر دھاوا بول دیاْ تاہم سات سال گزر جانے کے باوجود اسے اپنے بنیادی مقصد یعنی اسامہ بن لادن کے پکڑنے اور القاعدہ کو ختم کرنے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے ۔ آج بھی امریکیوں کے پاس میڈیا کو جاری کرنے والے دعوے تو بہت میں لیکن درحقیقت ان کے دامن میں ناکامی کے سوا کچھ نہیں ۔

0 comments

Write Down Your Responses