میرپورخاص شہر سمیت ضلعے بھر میں مضر صحت گٹکے کی تیاری میں نشہ آور ڈوڈا ملانے کا انکشاف

میرپورخاص ( ایم وی این نیوز بیورورپورٹ) میرپورخاص شہر سمیت ضلعے بھر میں مضر صحت گٹکے کی تیاری میں نشہ آور ڈوڈا ملانے کا انکشاف ، گٹکے کا استعمال اسکول کے بچے ، خواتین بھی کرنے لگی۔ معصوم بچوں کو گٹکے کی لعنت میں دکھیلنے والے با اثر گٹکہ بنانے والے اور فروخت کرنے والے افراد متعلقہ تھانوں سمیت ایک درجن سے زائد پولیس کے منتھلی سیل کو پئسے دیتے ہیں۔ دو سال میں میرپورخاص شہر میں چار بچوں سمیت ایک درجن افراد سے زائد افراد گٹکہ کھانے سے منہ ، گلے اور معدے کی کینسر میں مبتلا ہوکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ گٹکے کی فروخت سرعام جاری ہے۔ شہریوں کی شکایات پر ایوان صحافت میرپورخاص کی ٹیم نے جب سروے کیا تو میرپورخاص شہر سمیت ضلعے بھر میں گیلے گٹکے کی تیار ی اور فروخت ِ مین پڑی، بھارت سے بر آمد شدہ گٹکے کی فروخت جاری ہے شہر میں ہزاروں پان کی کیبنوں پر گیلے گٹکے، کے ساتھ ساتھ بھارت سے بر آمد شدہ گٹکہ مین پڑی سرعام فروخت کی جارہی ہے ۔ زرائع کے مطابق گیلے گٹکے کے چند مالکان جن میں یونس قریشی گٹکہ جوکہ جمناں داس کے علائقے مہران پولیس اسٹیشن میرپورخاص کی حدود میں تیار ہورہا ہے ، وش گٹکہ جوکہ محمود آباد پولیس اسٹیشن کی حدود والکرٹ میں شریف بلوچ نامی شخص کی پشت پناھی میں تیار ہورہاہے اور گجو گٹکا جوکہ رشید عرف گجو، فرید اور عرفان کی پشت پناھی میں تیار ہورہا ہے ان گٹکو میں خطرناک نشہ آور ڈوڈا بھی ملایا جاتا ہے۔ ڈوڈے سے آفیم، چرس اور ہیروئن بھی تیار کی جاتی ہے۔ گٹکے میں خطرناک چیزیں ملانے کے بعد یہ گٹکے میرپورخاص شہر بھر کے علاوہ اولڈ میرپور پولیس اسٹیشن کی حدود نیو بس ٹرمینل، کھا ن پولیس اسٹیشن کی حدود میں کھان شہر ، بروھی ھوٹل اور دیگر علائقوں میں فروخت ہورہا ہے جبکہ وش گٹکہ پورے سٹلائٹ ٹاؤن ، جرواری چوک، محمود آباد اور دیگر علائقوں میں فروخت کیا جارہا ہے۔ ایوان صحافت کی ٹیم نے جب سروے کیا تو شہر سمیت ضلعے بھر میں چالیس فیصد لوگ، جن میں خصو صا بچے نوجوان طبقہ اور خواتین بھی گیلا ٖگٹکا ، بھارت سے بر آمد شدہ گٹکہ، جے ایم، اکیس سو، رتنا، فٹ ، مین پڑی ِ ، ماوہ اور دیگر مضر صحت چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ پولیس کی جانب سے ہر مہنے منتھلی کی مد گیلے گٹکے، مین پڑی، بھارت سے بر آمد شدہ خشک گٹکہ کے مالکان سے لاکھوں روپئے منتھلی لی جاتی ہے۔ مہران تھانے کی حدود میں سب سے بڑے پیمانے پر یونس قریشی اور کامران قریشی گٹکے بناتے ہیں جن کے روزانہ چالیس ٹپ تیار ہوتے ہیں اور ایک لاکھ پڑی گٹکے کی فروخت کی جاتی ہیں جو کہ ایس ایچ او مہران پویس ا سٹیشن کو بیس ہزار روپئے متھلی دیتا ہے، ایس ایچ کھان پولیس ا سٹیشن کو پندرہ ہزار روپئے، ایمرجنسی پولیس 15 کے اھلکاروں کو روزانہ کی بنیاد پر ا لگ پئسے جبکہ انچارج کی پانچ ہزار روپئے متھلی اسی طرح ایس ایچ او غریب �آباد پولیس، ڈی ایس پی کی متھلی ، سی آء اے پولیس کی متھلی سمیت ایک درجن سے زائد پولیس سیل کے افسران اور عملے کو متھلی دیتا ہے اسی طرح وش گٹکے کا مالک شریف بلوچ کی سب سے زیادہ متھلی محمود آباد پولیس ا سٹیشن اور سٹلائٹ ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ اوز کو دیتا ہے اور اسکے بعد تمام پولیس کے ٹیم کے انچارجز اور عملے کو متھلی دیتا ہے۔ میرپورخاص شہر میں سب سے زیادہ بھارتی گٹکہ ہول سیل پر چلانے والے ھلال مارکٹ کے دکانداروں کی متھلی ٹاؤن پولیس سمیت شہر کی تمام پولیس کے ا یس ایچ اوز کو دی جاتی ہے۔ شہر سمیت ضلعے کے دیگر علائقوں میرواھ گورچانی، ڈگری، جھڈو، نوکوٹ، کوٹ غلام محمد، ٹنڈو جان محمد ، فلھڈیوں سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر گیلے گٹکے، مین پڑی، بھارت سے بر آمد شدہ گٹکے کی سپلائی کی جارہی اور اور اس جان لیوا کاروبار میں سب سے زیاد متاثر ہونے والے غیر تعلیم یافتہ اور غریب آبادی ہورہی ہے۔ ا ور منہ ، گلے، معدے کی کینسر میں درجنوں بچے نوجوان اور عمر رسیدہ افراد مبتلا ہوچکے ہیں اور ایک درجن سے زائد افراد شہر میں پچھلے دو سالون میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔۔ ایوان صحافت کی ٹیم نے جب سروے کیا تو عالم ٹاؤن، کاہو جو دڑو، مہران ٹاؤن، سیال کالونی ، نواب کالونی اور دیگر علائقوں کا دورہ کیا تو گاڑیوں کے گیراج میں کام کرنے والے بڑے چھوٹے معصوم بچے ، پسماندہ آبادی میں رھنے والے پانچ سالوں سے دس سالوں کے معصوم بچے بچیاں خواتین گٹکہ استعمال کرتی ہیں اور بڑی آبادی تیزی سے اس لعنت میں مبتلا ہورہی ہے۔ میرپورخاص کے سیاسی، سماجی، مذھبی رھنماؤں نے گٹکے کی تیاری ا ور فروخت اور گٹکے میں نشہ آور ڈوڈے ملاکر بچوں اور دیگر لوگوں کو عادی بنا کر چند پیسوں کے عیوض ملک کی نسلوں کو تباھ کرنے والے گٹکہ فروش افراد اور گٹکہ تیار کرنے والے مالکان کو گرفتار کرکے ایف آء آرد درج کرکے کڑی سے کڑی سزا دینے اور انکی سرپرستی کرنے والے متعلقہ تھانوں کے ایس اوز ، متھلی انچارج پولیس اھلکاروں کو معطل کرکے انکے خلاف ڈپارٹمینٹل کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے

0 comments

Write Down Your Responses