حکومت کو ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

اسلام آباد(انویسٹی گیشن ٹیم) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی کا مسودہ تیاری کے آخری مراحل میں ہے اور اس کے نافذ ہونے سے حکومت کو ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں سول اور فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور وہ اب آپس میں مختلف گروپوں میں تقسیم ہوگئے ہیں اس لئے سلامتی پالیسی ملک سے دہشت گردی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے طالبان سے مذاکرات کے لئے دوبارہ سے کوششوں کا آغاز کردیا ہے، ہم دہشت گردی کی لعنت کا پائیدار حل چاہتے ہیں تاہم مذاکرات پر یقین نہ رکھنے والوں کے خلاف  فوجی آپریشن آخری حربہ ہوگا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پالیسی 3 حصوں پر مشتمل ہوگی، اس کا پہلا حصہ حکمت عملی پر مشتمل ہوگا اور دوسرے حصے میں اس کا اطلاق کیا جائے گا جب کہ تیسرے اور آخری حصے کو خفیہ رکھا جائے گا۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت امریکا پر واضح کرچکی ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردی کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ ہیں اور ان سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں لہٰذا انہیں فوری طور پر بند کیا جائے۔

0 comments

Write Down Your Responses