جمہوری وطن پارٹی کے صوبائی صدر نوبزادہ شاہ زین بگٹی نے 175000بگٹی مہاجرین کے ساتھ 17جنوری کو ڈیرہ بگٹی جانے کا اعلان

کوئٹہ(انویسٹی گیشن ٹیم) بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اس وقت سخت سردی کی لپیٹ میں ہے اور درجہ حرات نقطہ انجماد سے بھی گر چکا ہے۔
شدید سردی کے باعث جہاں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ متاثر ہوا ہے وہاں سیاسی سرگرمیاں بھی ماند پڑ گئیں ہیں، خصوصاً بلدیاتی انتخابات کے بعد میٹروپولیٹن کوئٹہ کے میئر اور ڈپٹی میئراور کے انتخابات کے حوالے سے جو سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں سردی کی لہرنے انہیں بھی ٹھنڈا کردیا ہے۔ سیاسی جماعتیں اس حوالے سے صلاح اور مشورے میں مصروف ہیں جبکہ بڑی تعداد میں کامیاب ہوکر آنے والے آزاد اراکین نے سیاسی سرگرمیوں میں ٹھہراؤ کے باعث سکون کا سانس لیا ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق جونہی موسم میں کچھ تبدیلی رونما ہوئی تو سیاسی موسم پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونگے اور سیاسی سرگرمیوں میں جنوری کے آخری ایام اور فروری کے پہلے ہفتے میں تیزی آئے گی ۔ آزاد اراکین سے سیاسی جماعتوں کے رابطے جن میں کچھ دن پہلے کافی تیزی تھی اب کمی واقع ہوئی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں ان رابطوں میں تیزی آئے گی اور آزاد اراکین مختلف سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا اعلان کریں گے اس کے بعد کوئٹہ میٹروپولیٹن کے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی پوزیشن واضح ہو جائے گی ۔
جمہوری وطن پارٹی کے صوبائی صدر نوبزادہ شاہ زین بگٹی نے 175000بگٹی مہاجرین کے ساتھ 17جنوری کو ڈیرہ بگٹی جانے کا اعلان کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ 18جنوری کو سندھ اور پنجاب سے بگٹی مہاجرین کے قافلے کشمور پہنچیں گے، بگٹی مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری کے لئے وفاقی حکومت نے کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں ریٹائرڈ جسٹس رانا بھگوان داس، وفاقی وزیر جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ، عاصمہ جہانگیر ، ایاز میر اور اوریا مقبول جان شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں ٹینٹ سٹی بنایا جائے گا جس میں مہاجرین کو راشن بھی مہیا کیا جائے گا جس کے بعد نقصانات کا اندزاہ لگا کر انہیں امداد دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بگٹی مہاجرین کی علاقے میں دوبارہ آبادکاری کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے بگٹی مہاجرین کے نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے بنائی گئی کمیٹی خوش آئند ہے لیکن اس میں صوبائی حکومت کے بھی تین نمائندے شامل کئے جائیں۔ سیاسی حلقوں کے مطابق نوابزدہ شاہ زین بگٹی کا پونے دو لاکھ بگٹی مہاجرین کے ہمراہ ڈیرہ بگٹی جانے کا اعلان ایک مثبت فیصلہ ہے، تاہم حکومت کو چاہئیے کہ اس قافلے کو مکمل تحفظ فراہم کرے اور ڈیرہ بگٹی پہنچانے کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے ۔ ڈیرہ بگٹی پہنچنے کے بعد ان مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری اور ان کی ہر ممکن امداد کے لئے حکومت اقدامات کرے تو یقیناً اس کے مستقبل قریب میں اچھے اثرات مرتب ہوںگے جوکہ صوبائی حکومت کی امن و امان کے لئے کی گئی کوششوں کے لئے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
سابقہ دور حکومت میں بلوچستان میں تین سو سے زائد ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے، ان منصوبوں میں کرپشن کے حوالے سے تحقیقات کی ہدایت وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی خصوصی ہدایت پر شروع کی گئی ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ہدایت کی ہے کہ کرپشن میں ملوث کسی بھی شخص کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی خواہ وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو ۔ بتایا جاتا ہے کہ سابقہ دور حکومت میں مختلف محکموں میں سات ارب سے زائد کی کرپشن ہوئی اور دس فیصد کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوا اور ان میں سے ایسے منصوبے ہیں جن پر کام صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہے جب کہ زمین پر کوئی کام نہیں ہوا۔ سابقہ دور حکومت میں کئی وزراء نے بیوروکریٹس کے ساتھ مل کر جعلی ترقیاتی اسکیمیں شروع کیں اور خزانے کو نقصان پہنچایا اس سلسلے میں بلوچستان ڈویژن کے چھ کمشنر تحقیقات کر رہے ہیں ، بتایا جاتا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو رپورٹ دی جائے گی جس کے بعد سابقہ وزراء اور بیوروکریٹس جو کہ اس کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ثبوت کے ساتھ ان کے خلاف کیسز نیب کے حوالے کئے جائیں گے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق اس سے قبل بھی سابقہ حکومت کے بعض وزراء کے خلاف کرپشن کے کیسز پر نیب تحقیقات کر رہی ہے مزید کرپشن کے حوالے سے صوبائی حکومت کی سطح پر ہونے والی تحقیقات کے بعد مزید کئی وزراء اور بیوروکریٹس بھی اس شکنجے میں آجائیں گے۔ ان حلقوں کے مطابق پہلے ہی نیب کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کی خبروں نے سابقہ وزراء اور بیوروکریٹس کی نیندیں اڑا دی ہیں اور اب وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے سات ارب سے زائد کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کے اقدام نے سابقہ وزراء اور بیوروکریٹس کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ بعض سابق وزراء اور بیوروکریٹس ملک سے فرار ہونے کا بھی سوچ رہے ہیں، ان حلقوں کے مطابق نیب اور صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ جلد سے جلد ان پر ہاتھ ڈالے اور کرپٹ عناصر کو بے نقاب کرے ۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان نے بلوچستان بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذکرنے کا اعلان کرتے ہوئے امتحانی مراکز میں نقل کی روک تھام کے ساتھ ساتھ طلبہ اور طالبات کو امتحانی مراکز میں تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں اس بات کا اعلان وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کوئٹہ میں ایم اے کے امتحانی مراکز کے اچانک دورے کے موقع پر کیا وزیراعلیٰ کی ہدایت پر امتحانی مراکز کے علاقے کے چارسو میٹر کی حدود میں دفعہ 144نافذ کردی گئی اور ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ امتحان میں جو بھی بدعنوانی اور نقل میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ کے اس اقدام اور فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کو اس سے بھی زیادہ سخت سے سخت اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ بلوچستان میں معیار تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے ۔

0 comments

Write Down Your Responses