تعلیمی بورڈز میں اہم اسامیوں پر من پسندافرادکی تعیناتی کے لیے جامع منصوبہ بندی

کراچی(انویسٹی گیشن ٹیم): حکومت سندھ کے سیکریٹری برائے تعلیمی بورڈز اور جامعات کی جانب سے صوبے کے تعلیمی بورڈزکے قانون (ایکٹ) کی بدترین خلاف ورزی سامنے آئی ہے تعلیمی بورڈز میں اہم اسامیوں پر من پسندافرادکی تعیناتی کے لیے جامع منصوبہ بندی کرلی گئی ہے اورفرد واحد سیکریٹری بورڈز نے صوبے کے تعلیمی بورڈزکے قانون (ایکٹ) میں ازخود ترمیم کرتے ہوئے مختلف اسامیوں پر تقرری کا اختیار بورڈز سے لے لیا ہے، بورڈزکی سلیکشن کمیٹی کوغیرفعال کرکے ایک سلیکشن کمیٹی بنائی گئی ہے ۔
سیکریٹری تعلیمی بورڈزکی سلیکشن کمیٹی آج ہفتے کوکراچی سمیت سندھ کے تعلیمی بورڈزمیں خالی اسامیوں پرتقررکے لیے انٹرویوکرے گی،سندھ کے تعلیمی بورڈزکے سربراہوں کو جو اپنے بورڈزکے ’’بورڈآف گورنرز‘‘کے چیئرمین بھی ہوتے ہیں سلیشکن کمیٹی کارکن بناکر سیکریٹری بورڈز نے اپنے ماتحت کرلیا ہے دوسری جانب سیکریٹری بورڈز اور جامعات کے اس خلاف ضابطہ اقدام پر تعلیمی بورڈز کے ملازمین میں بے چینی پھیل گئی ہے اور ایکٹ کے برخلاف کسی بھی تقرری کی صورت میں ملازمین ہڑتال اوراحتجاج کی منصوبہ بندی کررہے ہیں جبکہ ملازمین قانون کے برخلاف کسی افسرکے تقرر پر اسے جوائنگ نہیں لینے دیں گے، سندھ کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے استدعا کی ہے کہ وہ سیکریٹری برائے تعلیمی بورڈزکو قانون (ایکٹ) کی خلاف ورزیوں سے روکیں ذرائع کے مطابق سیکریٹری تعلیمی بورڈز اور جامعات ریاض میمن ازخود سلیکشن کمیٹی کے سربراہ بن گئے ہیں۔
جبکہ سلیکشن کمیٹی کے دیگراراکین میں متعلقہ چیئرمین بورڈ، ایس اینڈ جی اے ڈی کے نمائندے اورصوبائی محکمہ تعلیم کے نمائندے کو شامل کیاگیا ہے یہ کمیٹی آج ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی اور ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈسکھرمیں انسپکٹرکالجزاورآڈٹ افسرکی خالی اسامیوں پرتقررکے لیے امیدواروں کے انٹرویوکرے گی، سندھ اسمبلی کے منظورکردہ قانون (ایکٹ) کے مطابق تمام تعلیمی بورڈزکے پاس خود ہی انسپکٹرکالجز کے تقررکا اختیار موجود ہے جس کے لیے ان تعلیمی بورڈزکی اپنی سلیکشن کمیٹی موجود ہے جواس اسامی پر تقررکرتی ہے اور اس کی منظوری متعلقہ تعلیمی بورڈ کے بورڈ آف گورنرز سے لی جاتی ہے اس بورڈ آف گورنرزکا سربراہ چیئرمین بورڈ خود ہوتا ہے تاہم ایکٹ میں بغیرکسی ترمیم کے سیکریٹری بورڈ نے پہلے متعلقہ اسامی پرتقررکے لیے خود اشتہارجاری کیے درخواستیں طلب کی گئیں اورسلیکشن کمیٹی بناکراب انٹرویوکیے جارہے ہیںاور متعلقہ تعلیمی بورڈزکے سربراہ جو بورڈ آف گورنرکا چیئرمین بھی ہوتا ہے اسے محض سلیکشن کمیٹی کا رکن بنادیا گیا ہے جوسیکریٹری بورڈ کے ماتحت اس سلیکشن کمیٹی میں کام کرے گا۔

0 comments

Write Down Your Responses