ٹیلی وژن نے بھی کتب بینی کی روایت ختم کردی۔ اگررات کولائبریری کی لائٹ جل رہی ہوتوسمجھ لوترقی ہورہی ہے اوراگرلائبریری بندجبکہ بلےئرڈاورسی ڈیزشاپس کھلی ہوں توجان لوکہ ترقی نہیں ہورہی۔( کمشنرڈیرہ اسماعیل خان محمدمشتاق جدون)

ڈیرہ ا سماعیل خان(سید توقیر زیدی سے)ماڈریٹ کنکریٹ کوہی ترقی سمجھ لیاگیاہے اورغیرترقیاتی منصوبوں پرزورہے۔جب لیڈرشپ کم پڑھی لکھی ہوتی اورکتاب پڑھتی تھی توبہترقیادت میسرتھی مگراب توطالبعلم سے لیکرمعلم تک کوئی بھی کتب بینی نہیں کرتا۔ان خیالات کااظہار کمشنرڈیرہ اسماعیل خان محمدمشتاق جدون نے انجمن ترقی پسند مصنفین ڈیرہ اسماعیل خان کے زیراہتمام ایس پی او کے تعاون سے ضلع کونسل ہال میں سیدحفیظ اللہ گیلانی کے سرائیکی ناول ’’ نت کرلاوے کونج‘‘کی تقریب رونمائی سے بطورمہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ ٹیلی وژن نے بھی کتب بینی کی روایت ختم کردی ۔اب توبیوروکریٹس بھی کتاب نہیں پڑھتے۔جن لوگوں کوکتابیں پڑھنی چاہئے تھیں۔انہوں نے بھی کتب بینی ترق کردی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگررات کولائبریری کی لائٹ جل رہی ہوتوسمجھ لوترقی ہورہی ہے اوراگرلائبریری بندجبکہ بلےئرڈاورسی ڈیزشاپس کھلی ہوں توجان لوکہ ترقی نہیں ہورہی۔انہوں نے کہاکہ سارے کام پیسے سے نہیں ہوتے بغیرپیسوں کے بھی بہت سے کام ہوجاتے ہیں۔مجھے خوشی ہوئی ہے کہ میرے دس ماہ کی ملازمت کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان میں کوئی ادبی تقریب بھی منعقدہوئی ہے ورنہ حالات کے جبرنے سب کچھ ختم کردیاہے۔انہوں نے انجمن ترقی پسندکیلئے دس ہزارروپے کااعلان بھی کیا۔صدرمجلس اورایس پی اوڈیرہ کے ریجنل ہیڈشفیع اللہ بلوچ نے کہاکہ مجھے اورمیرے ادارے کویہ اعزازحاصل ہے کہ ڈیرہ میں ادبی ثقافتی سرگرمیوں کوفروغ دینے کیلئے کوشاں ہیں اورادبی ثقافتی تنظیموں کیساتھ تعاون کررہے ہیں۔انجمن کے سرپرست ثناء اللہ شمیم ایڈووکیٹ نے کہاکہ مفتی محمودمیموریل لائبریری ہال ادبی ثقافتی سرگرمیوں کیلئے مفت فراہم کیاجائے یاٹاؤن ہال کی عمارت کی مرمت کرکے اسے ادبی ثقافتی تنظیموں کے سپردکیاجائے۔انہوں نے کہاکہ حفیظ اللہ گیلانی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں انکی ادبی خدمات سب کے سامنے ہے۔صدرانجمن سیدارشادحسین شاہ نے کہاکہ دامان آرٹس کونسل کی بحالی اورفعالیت کیلئے غیرجانبدارلوگوں پرمشتمل کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے۔کمشنرمحمدمشتاق جدون سے گزارش ہے کہ وہ سابق کمشنرسیدمظہرعلی شاہ کی طرح ادب پرورتنظیموں اورثقافتی آرگنائزیشن کی براہ راست سرپرستی کریں کیونکہ سرکاری سرپرستی کے بغیرادب وثقافت کی ترویج تیزترنہیں ہوتی۔انہوں نے کہاکہ ڈسٹرکٹ آڈیٹوریم بہترحالت میں لاکرادبی ثقافتی تنظیموں کودیدیاجائے۔سعیداخترسیال نے’’ نت کرلاوے کونج ‘‘پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ مصنف نے سرائیکی زبان لفظیات اورجملوں کابہترین استعمال کیا۔اورانہیں نئی زندگی بخشی ہے۔منظرنامہ بھی بیحدخوبصورت اوریہ ناول ہرلحاظ سے منفردہے۔کہانی اورکرداربہت حساس ہیں اورتخلیقی بلندیوں پرہیں۔نجانے اکیڈیمی ادبیات اسلام آبادسرائیکی خطہ کی جانب توجہ کیوں نہیں کررہی۔محمدموسیٰ کلیم ‘خوشحال ناظر اورعلی آصف سیال نے بھی کتاب پرتبصرہ کیا۔آخرمیں حفیظ اللہ گیلانی نے شرکاء اورتنقیدنگاروں کاشکریہ اداکیا۔

0 comments

Write Down Your Responses