تحریک طالبان پاکستان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ بامعنی ، پائیدار اور سنجیدہ مذاکرات کیلیے تیار

اسلام آباد(انویسٹی گیشن ٹیم) تحریک طالبان پاکستان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ بامعنی ، پائیدار اور سنجیدہ مذاکرات کیلیے تیار ہیں اگر حکومت سنجیدہ ہے تو پوزیشن واضح کرے، ساز گار ماحول فراہم کرنا ہمارا نہیں حکومت کا کام ہے۔
 شاہد اللہ شاہد کی جانب سے میڈیا کو جاری بیان میں کہا گیا ہے ’’طالبان نے بارہا یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان بامعنی، پائیدار اور سنجیدہ مذاکرات کیلیے ہمیشہ تیار ہے، طالبان کے پاس مولانا سمیع الحق کے قاصد سمیت جتنے بھی امن کے خواہاں وفود آئے، انہیں مثبت اور حوصلہ افزا جواب دیا جبکہ حکومت کی طرف سے صرف میڈیا پر بیان بازی ہوتی رہی ہے تاکہ عوام کو مغالطے میں ڈال کر حقیقت سے گمراہ کیا جاتا رہے،حکومت مذاکرات سے متعلق پروپیگنڈے اور دھمکی کی سیاست کر رہی ہے ، حکومتی میڈیا نے مذاکرات کے حوالے سے تحریک طالبان کے رویے سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈے کیے، الزام تراشیوں اورخود ساختہ انکار کے بعد ایک بار پھر قبائلی عوام پر جنگ مسلط کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے، یہ ایک جنگی چال اور امریکہ کو خوش کرنے کا آسان طریقہ ہے‘‘۔
شاہد اللہ شاہد نے مزید کہا کہ حکومت صرف وقت گزار رہی ہے اگر وہ سنجیدہ ہے تواسے اب مذاکرات شروع کر دینے چاہیئں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ جنگ چاہتی ہے تو ہم اس کیلیے بھی تیار ہیں آئیں اور ہم سے لڑ لیں ۔ تحریک طالبان نے ایک ہفتے یہ تیسرا بیان دیا، یہ تینوں بیانات تنظیم کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی جانب سے جاری کیے گئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی دوبارہ پیشکش پر ردعمل میں کہا ہے کہ آج پیر کو پارٹی کے اجلاس میں اس پیشکش کا جائزہ لیا جائیگا کہ آیا یہ سیاسی بیان ہے یا وہ واقعی ملک کے آئین کے مطابق زندگی گزارنے پر تیار ہو گئے ہیں۔
 وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ دنوں طالبان نے مسلح افواج،اسکولوں، عبادت گاہوں اور عام شہریوں پر متعدد حملے کیے اور اب ایک دم ان کا ذہن بدلا ہے تو اس پر ہم ضرور غور کریں گے۔ طالبان ترجمان کے اس بیان پرکہ ان کے پاس مولانا سمیع الحق کے قاصد سمیت جتنے بھی وفود آئے طالبان نے سب کو مثبت اور حوصلہ افزا جواب دیا ہے وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان سوالوں کا جواب انھیں دینا ہو گا کیونکہ اگر وہ خود کہتے ہیں کہ وہ بات چیت میں سنجیدہ تھے اور خود تسلیم کر رہے ہیں کہ ان کے پاس وفود آئے بھی تھے تو گزشتہ دنوں انھوں نے شدت پسندی کے جتنے بھی واقعات کیے ہیں اس کا بھی جواب بھی انھیں دینا چاہیے، ہمارے ذہن میں بھی بہت سارے سوالات ہیں اور ہم ان کا جائزہ لیں گے۔

0 comments

Write Down Your Responses