الہام کی رم جھم


تحریر۔ صفدر علی حیدری 
اس آدمی کا چہرہ اور ظاہری حلیہ اس کی ناگفتہ بہ حالت کا آئینہ دار تھا۔ دریافت کیا گیا۔\"کیا یہ آدمی مالی تنگی کا شکار ہے؟ عرض کی \"نہیں یا رسول ؐ اللہ ۔ یہ آدمی تو اچھا خاصا مالدار ہے۔ ا س پر اللہ نے بڑا فضل کر رکھا ہے۔ \"اچھالیکن مجھے تو اس کے جسم پر اس فضل و کرم کے کوئی آثار نظر نہیں آتے \"۔ اللہ جمیل ہے اور جمال پسند بھی ۔ اسے ہر اچھی چیز پسند ہے جبھی تو اس کی بنائی ہوئی کائنات میں صرف حسن کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن انسان کی ستم ظریفی دیکھئے کہ وہ بدصورتی کوخوبصورتی سمجھ کر نفرت کی چلتی پھرتی تصویر بنا پھرتا ہے ۔ کس قدر دکھ کا مقام ہے کہ ہمیں کچھ نہ ملے تو واویلا کرتے ہیں اور سب کچھ پا کر بھی اس کے فضل کا چرچا نہیں کرتے ۔ یہ تو اس کی عام سی نعمتوں کاذکر ہے لیکن وہ جو نعمت عظمیٰ ہے اس کے بارے میں ہمارا طرز فکر کیسا ہونا چاہیے ؟ جو بذات خود رحمت العالمین ؐ ہیں جن کے وجود مسعود کی برکت سے اس امت پر سے عذاب اٹھا لیا گیا اور شکلوں کے مسخ ہو جانے کے سلسلے پر خط تنسیخ پھیر دی گئی ۔ جن کے سجدوں نے اس بت کدہ کو سجدہ گاہ بنا دیا ۔ ظلمت نے نور کے آگے ہتھیار ڈال دئیے ۔ جن کے آمد سے آتش کدے بجھ گئے او رتوحید کی شمع فروزاں ہوگئی ۔ جانی دشمن جگری یار بن گئے۔ شیطان کی فلک شگاف چیخیں گونچ اٹھی اور قدر ت کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلتی اور گہری ہوتی چلی گئی۔ وحشتوں کا عروج ذلت کی پستیوں میں غروب ہو گیااور تہذیب و شائستگی نے پھر سے جنم لے لیا۔ بدصورتیاں منہ چھپاتی پھریں اور لوگ پھر سے خوبصورتی سچائی اور حق کے گرد دیوانہ وارگردش کرنے لگے ۔قتل و غارت میں مصروف لوگ شفقتوں میں معروف ہونے لگے ۔ قلب و لسان کی دوری رفتہ رفتہ دور ہوتی چلی گئی ۔ بہار نے ڈیرے ڈال لئے اور خزائیں دکان اپنی بڑھا گئیں ۔ بخشش نے سائلوں پر اپنی جھولیاں خالی کرنا شروع کر دیں ۔ گویا ہر طرف الہام کی رم جھم کا سما ں تھا۔ الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے یہ دل کانگر ہے کہ مدینہ کی فضا ہے 
اللہ تعالی انسان بنا کر فخر کیا ہے تو اس نے نیاز کے پیش نظر وہ فخر موجودات ہستی تھی کہ جس کی محبت انسان کو محبوب الہٰی بنا دیا کرتی ہے ۔ جس کی اطاعت کو رب ذوالجلال نے اپنی اطاعت قرار دے دیا ۔ جس کے الفاظ وحی الہٰی کے ترجمان ٹھہرے ۔ چالیس برس دور جاہلیت میں زندگی گزارنا جس کے کردار کی چمک دمک کو ماند نہ کر پایا ۔ الٹا اسی معاشرہ میں یک زبان ہو کر آپ ؐ کے صادق و امین ہونے کی گواہی دے ڈالی ۔ اب یہاں انسان کا باطنی تضاد بے نقاب ہو جاتا ہے کہ ہدایت کا یہ طالب جانے کیوں ہادیان برحق کا مخالف بن جایا کرتا ہے ۔ عرب کے بدپرست مفاد پرست بن کر اسے جھٹلانے لگے کہ جس کی اس اعلان پر وہ کبھی سر ہلانے لگے تھے کہ پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر جرار حملہ آور ہوا چاہتا ہے ۔ اس اعتراف کی گواہی ان کے دلوں نے دی تھی کہ یہ انسان کامل جھوٹ سے آشنا ہی نہیں اور پھر تاریخ عالم نے یہ شرمناک منظر بڑی حیرت سے دیکھا کہ حق کی صدا بلند کرنے کی جزاء کے طور پر راستے میں کانٹے بچھائے جا رہے ہیں ۔غلاظتیں ڈالی جارہی ہیں۔ کوڑا کرکٹ اچھالا جا رہا ہے ۔ ادھر کردار کشی کی مہم جاری ہے اُدھر وہ انسان کامل پتھر کھا کر بھی کلامات خیر زبان سے ادا کرتا ہے تو تاریخ کو یہ منظر پہلے منظر سے کہیں زیادہ حیرت انگیز لگتا ہے ۔ سچ کہتے ہیں کہ بارش کا قطرہ سانپ کے منہ میں گرتا ہے تو زہر میں بدل جاتا ہے ۔ سیپ کے منہ میں گرے تو گوہر میں ڈھل جاتا ہے پیاسی زمین کو زرخیز بنا دیتا ہے ۔پھلواڑی پر گرے تو اسے مہکا دیتا ہے۔بے جان زمین میں زندگی کی لہر بن جاتا ہے اور جب گندگی کے ڈھیر پر گرتا ہے تو ماحول کا تعفن اور بڑھا دیتا ہے گویا ساری بات ظرف کی ہے ۔نیک دوسروں کو نیک اور برا ساری دنیا کو برا کہتا ہے تو اسی ذاتی ظرف کے بموجب ۔ کاش عرب کے تضاد پرست اپنی کہی ہوئی بات کا پاس کرتے تو کبھی نعمت ایمانی سے محروم نہ رہتے ۔ صادق کا لقب دے کر جھٹلانا انہیں کب زیب دیتا تھا۔ لسان حق پر یہ تہمت دھرنا کس قدر قابل مذمت ہے کہ انہوں نے معاذ اللہ ذاتی کلام کو رب باری کا کلام قرار دے دیا ہے۔ تلواریں ہاتھ میں لئے سر اڑانے کے لیے تیار کھڑے یہ لوگ اپنی امانیتں اب بھی اسی امین کے پاس رکھی تھی یہ ہے عظمت معراج انسانی کہ دشمن کو اپنے مالی خطرے کے لیے کوئی جائے پناہ ملی بھی تو اسی ذات کے پاس کہ جس کی جان کے وہ درپے تھے۔ شعیب ابی طالب کی سختیاں بھی میرے رسولؐ کے حوصلے کو کم نہ کر سکیں۔ جس کا عزم اس پائے کا ہو کہ اس کے ایک ہاتھ پر لا کر سورج رکھ دیا جائے اور دوسرے پر چاندتب بھی حق اور تبلیغ حق سے ہٹایا جا سکے ۔ وہاں یہ عارضی سختیاں کمزوری کی بجائے تقویت اور مظبوطی کا باعث بن جاتی ہیں۔ 
غار حرا کی تاریکی سے یہ الہامی روشنی آج کروڑوں دلوں میں فروزاں ہے۔ قرآن مجید میں بعثت کا مقصد تلاوت آیات ، تذکیہ ، تعلیم و کتاب و حکمت قرار دیا ہے ۔ لیکن میرے اچھے رسول ؐ نے ان چاروں مقاصد کو ایک نقطہ میں سمو کر ارشاد فرمایاکہ میری بعثت کا مقصد مکارمِ اخلاق کی تکمیل ہے ۔ قربان جایئے آقا کی حکمت پر کہ ایک ہی فقرے میں مقصد بھی بتا دیا اور مقصد کے حصول کا ذریعہ بھی ۔یہ ہے اعجازِ زبانِ حق بیان۔ خوش خلقی وہ خوبصورتی ہے جو چہرے کی بدصورتی(معروف معنوں میں ورنہ کوئی بھی چہرہ بدصورت نہیں ہوتا ۔ اگر یقین نہ آئے تو کسی ماں سے پوچھ لیں) کو چھپالیا کرتی ہے لیکن چہرے کی خوبصورتی اخلاق کی بدصورتی کو چھپا نہیں پاتی ۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ حسن خلق میں کوئی میرے رسول کی گردِ پا کو بھی نہیں چھو پایا اور کیوں نہ ہو ۔ وہی تو وہ واحد ہستی ہیں۔ کہ جہاں جبرائیل کے پر جلتے ہیں ۔محبوب ؐ خدا کی منزل کا آغاز وہاں ہوتا ہے ۔ شب معراج یہ راز کھلا ہے ہم پر آسمانوں سے گزرتا ہے زمین کا رستہ 
آج جب کہ تہذیب و تمدن اپنے کمال پر ہے تو انسان اخلاقی زوال کی مثال بن چکا ہے اور ستم ظریفی دیکھئے کہ اس سلسلہ میں ہم مسلمانوں کا ریکارڈ سب سے برا ہے ۔ ہم اختلافات(مسلکی ، لسانی ، علاقائی وغیرہ ، وغیرہ) کو فروغ دے کر دشمنی بلکہ جانی دشمنی میں بدلنے کے لیے دن رات متحرک رہتے ہیں۔ اپنے نقطہ نظر پر ڈٹ کر ہم اپنی ذات کا دفاع کرنے میں مصروف ہوتے ہیں ۔ ہم کج بحثی میں بنی اسرائیل کو بھی مات دے ڈالی ہے ۔ یہی رویہ ہمیں میلاد النبی ؐ کے حوالے سے دیکھنے کو ملتا ہے۔ کہیں منانے والوں کو معتوب سمجھاجاتا ہے تو کہیں نہ منانے والوں کو معطون۔ میں حیران ہوں کہ کیااظہار محبت کے لیے بھی کسی کتاب کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے ؟ قرآنی فرمان کے مطابق اللہ کی نعمتوں کا چرچا کرنے کو کہا گیا ہے اور میرے رسول ؐ تو نعمت عظمیٰ ہیں ہمارا مشترکہ سرمایہ ۔ ہمارا محور و مرکز ۔ آج تک کسی فرقے کو یہ کہنے کی جرات نہیں ہوئی کہ وہ اپنے فعل کو ذاتی فعل کہ سکے ۔ سبھی اپنے مذہنی فرائض کی تائید سنت نبوی سے لیتے ہیں(ہاں فہم حدیث میں اختلاف ممکن ہے) ہم سب اپنے نبی ؐ کے امتی اور نام لیوا ہیں اور ان کی پیروی ہمارا فرض منصبی ۔ آئیے آج ایک عہد کرتے ہیں کہ ہر میلاد پر اپنے رسول کریم ؐ کو ایک تحفہ بھیجیں گے ۔ ہر سال کسی ایک سنت نبی ؐ کو اپنی ذات پر ہمیشہ کے لیے نافذ کرنے کی کوشش کا عہد کر کے ۔ اس طرح ہم ناجانے کتنی سنتوں کے عامل بن کر رضائے الہٰی کے حامل اور مومن کامل بن جائیں گے اور یقیناًیہ بات ہمیں Man of Wordsکی بجائے Man of Deedsکے درجے پر پہنچا دے گی ۔ جو تقاصائے دین بھی ہے کہ ہم باتونی کی بجائے عملی بن جائیں۔ میں اپنے پڑھنے والوں سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اپنی آئندہ زندگی میں اس بار کے میلاد کی خوشی میں اس حدیث پر عمل پیرا ہونے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔ \"اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرو جو تمہیں خود اپنے لیے عزیز ہو \"اور اگر توفیق الہٰی شامل حال رہی تو اپنی محبوب چیزوں کو راہ خدا میں قربان کر کے قرب الہٰی کے حصول کی ہر ممکن کوشش کروں گا ۔ انشاء اللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی توفیقات خیر میں اضافہ فرمائے ۔ امین ۔ اپنے کالم کا اختتام سیرت کے حوالے سے پسندیدہ ترین شعر پر کرو ں گا۔ 
دنیا میں احترا م کے قابل ہیں جتنے لوگ میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفی ؐ کے بعد 

0 comments

Write Down Your Responses