جب جانیں تم بتادو


تحریر : محمد صدیق پرہار

ہمیں تو دنیا والوں کی اس دوغلی پالیسی کی سمجھ نہیں آتی اگر آپ کو آتی ہے۔ تو بتادیں تاکہ ہمیں بھی اس بات کی سمجھ آجائے کہ ایک طرف کہتے ہیں کہ سوال کرنااچھا نہیں ہوتا۔جو سوال کرتاہے وہ لوگوں کی نظروں میں گرجاتاہے۔ دوسری طرف کہتے ہیں کہ جو زیادہ سوال کرتاہے وہ زیادہ سیکھتا ہے۔ سوال کرنا برا ہے تو پھر اس سے سیکھنے کا عنصرکہاں سے آگیااوراگر اس سے سیکھنے کا عمل بہتر ہوتاہے تو پھر یہ کام برا کیوں۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ آپ ہمیں سوال کرنے والے جس گروپ میں شامل کریں یہ آپ کو اختیارہے۔ ہم اس پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔ تاہم ہم آپ سے تما م دانشوروں سے ، تمام عقلمندوں سے، تمام شعوروالوں سے سیاستدانوں سے اورعوام سے یہ چند سوالات ضرورکرنا چاہیں گے۔ ہم نے ان سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی ہے۔ ہم اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمیں ان سوالوں کے جوابات نہیں ملے۔ آپ کے سامنے یہ سوال اس لیے لارہے ہیں۔ کہ آپ ہماری مدد کریں تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہو۔ اورہمیں ان سوالات کے جوابات سے آگاہی حاصل ہوسکے۔ یہ سوالات ہیں کسی پر کوئی تنقید نہیں۔ کسی کو کوئی سوال برا لگے تو ہم پہلے ہی اس سے معافی مانگتے ہیں۔ یہ یاد رہے کہ یہ کوئی امتحانی سوالات بھی نہیں ہیں کہ جواب نہ دینے کی صورت میں آپ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نہ ہی یہ انعامی سوالات ہیں کہیں یہ بھی نہ سمجھ لیں کہ ان سوالات کے جوابات دینے سے آپ کوانعام دیئے جائیں گے۔ اس سے یہ بھی خیال نہ کریں کہ آپ کو تنگ کیا جارہا ہے یا آپ کا وقت برباد کیا جارہا ہے۔ یہ سیکھنے اورسکھانے کا کام ہے۔سیکھنے اورسیکھانے میں جو وقت صرف ہو وہ بہترین مصرف ہوا کرتاہے۔ یہ سوالات ہم نے درآمد نہیں کیے ۔ یہی روزمرہ کے ہی سوالات ہیں۔ ہم نے صرف یہ کام کیا ہے کہ ان سوالوں کوایک جگہ اکٹھا کرکے آ پ کے سامنے پیش کردیا ہے۔ آیئے اب ان سوالات کو پڑھیے اورسوچئے کہ ایسا کیوں ہے۔ 
مقابلہ چاہے کسی بھی میدان میں ہو۔ انتخابات میں سیاسی امیدواروں کے درمیان ہویا کسی بھی میچ میں دویا اس سے زیادہ ٹیموں کے درمیان ہو۔ یہ بات تو طے ہے کہ ان میں سے ایک فریق نے جیتنا ہوتا ہے اوردیگر فریقین نے ہارنا ہوتا ہے۔ کامیابی اورناکامی ، فتح اورشکست مقابلہ کا حصہ ہے۔ یہ بات سب مانتے بھی ہیں اوراس کا پرچاربھی کرتے ہیں۔ تو پھر شکست کی صورت میں دھاندلی، میچ فکسنگ، جانبداری اوراس طرح کے دیگر الزامات کیوں عائد کیے جاتے ہیں۔ کہیں جیتنے اورہارنے کے فلسفہ کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہماری ٹیم ہی جیتے اوردیگر سب ٹیمیں ہارجائیں۔ 
کسی بھی سکول میں جب سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا جاتاہے تو اس میں یہ بھی کہاجاتاہے کہ جو طلباء اس امتحان میں کامیاب نہیں ہوسکے وہ افسردہ نہ ہو وہ اب دل لگا کر محنت کریں اس کے ساتھ ان کا دل رکھنے کے لیے کہا جاتا ہے کہ ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ ایسا ہی ہے تو پھر امتحان میں فیل ہونے والے ہر کسی کی نظروں میں گر کیوں جاتے ہیں۔ پاس ہونا اورفیل ہوجانا یہ بھی امتحان کا حصہ ہے۔ یہ سب مانتے بھی ہیں تو پھر اس کے ایک حصہ کو قبول اوردوسرے حصہ ناکامی کو قبول کیوں نہیں کیاجاتا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جو امتحان میں کامیاب نہیں ہوتے وہ محنت نہیں کرتے اس لیے وہ فیل ہوجایا کرتے ہیں اس لیے ان طلباء کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ضروری تو نہیں کہ جو محنت نہ کرے وہ ناکام ہوجائے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں جو امتحان میں پاس نہیں ہوئے انہوں نے محنت نہیں کی۔ اس کی ناکامی کے اوراسباب بھی تو ہوسکتے ہیں۔ ہم ان دیگر اسباب کی طرف توجہ کیوں نہیں دیتے۔ اس کا سارا الزام اس طالب علم پر ہی کیوں عائد کردیتے ہیں۔ 
ہم جہاں سے روزانہ گزرتے ہیں وہاں ریلوے پھاٹک ہے۔ شہریوں کی ہی حفاظت کے لیے جب بھی ریل گاڑی آرہی ہوتی ہے یا جا رہی ہوتی ہے تو ریلوے پھاٹک بند کردیا جاتاہے۔ تاکہ کوئی ناخوشگوارواقعہ پیش نہ آجائے۔ پھاٹک بندہونے کی صورت میں ٹریفک کے ہجوم میں اضافہ ہوجاتاہے۔ ہم نے یہ منظر باربار اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ کہ پھاٹک جلدی سے جلدی کراس کرنے کے چکر میں لوگ اپنی گاڑیوں کو پھاٹک کے ساتھ یا زیادہ سے زیادہ قریب جا کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اپنی سائیڈ نہیں دوسری سائیڈ کی طرف جا کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اوریہ منظر پھاٹک کے دونوں اطراف میں ہوتاہے۔اب جلدی پھاٹک کراس کرنے کی بجائے اوربھی زیادہ وقت صرف ہوجاتا ہے۔وہ اس لیے دونوں طرف کھڑے ہونے والے ایک دوسرے کا راستہ روک لیتے ہیں۔ راستہ بنانے ،راستہ دینے اورآگے نکلنے میں بہت وقت لگ جاتاہے۔ اس کی سزا ان کو بھی ملتی ہے ۔ جو قطارمیں قانونی طورپر اوراصولی طورپر اپنی ہی سائیڈپر کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا وقت اوربھی زیادہ ضائع ہوجاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم جو سب اصول اورضابطے بائی پاس کرکے آگے آگے جاکر کھڑے ہوجاتے ہیں اورہمیں ہی جلدی ہوتی ہے۔ ہم نے منزل مقصودپرجلد سے جلد پہچنا ہوتاہے۔ جن افرادکودیر سے پہچنے کی پاداش میں سزاکا خوف ہو۔ ان کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جاسکتاکہ جلدبازی ان کی مجبوری ہوتی ہے۔ وہ کتنی ہی صفائیاں اوراپنی مجبوریاں دیتے رہیں ۔ ان کی ایک نہیں سنی جاتی۔ اس کے علاوہ ہم سب کو ہی جلدی ہوتی ہے۔ تو کیا جو اورلوگ اس ہجوم میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کو جلدی نہیں ہوتی کیا۔ کیا وہ گھر سے فارغ ہوتے ہیں اوروقت گزارنے کے لیے سڑکوں پر آئے ہوئے ہوتے ہیں۔ 
آپ نے یہ منظربھی متعددباردیکھا ہوگا کہ خواتین جب بھی چلتی ہیں راستہ کے عین درمیان میں اوراسے بلاک کرکے چلتی ہیں۔ اب شریف انسان نہ تو انہیں راستہ دینے کے لیے کہہ سکتاہے کہ کہیں کوئی اورمصیبت گلے میں نہ پڑجائے ۔ اورنہ ہی وہ انہیں کراس کرکے آگے بڑھ سکتاہے۔ عورت کو شرم وحیاکی پیکر ہوتی ہے۔ ان کو راستہ کے ایک طرف چلنا چاہیے ۔ جہاں سڑک کھلی ہو وہاں توانہیں کراس کرنے کے لیے راستہ مل ہی جاتاہے۔ لنک روڈز اورتنگ گلیوں میں تو کراس کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف بن جاتاہے۔ کیا کوئی بتاسکتاہے کہ ایسا کیوں ہوتاہے۔ وہ ہی بتا دیں جو خواتین کے حقوق اورآزادی کا پرچارکرتے رہتے ہیں۔ کیا اس طرح شاہانہ اندازمیں چلنا اورکسی اورکے لیے راستہ نہ چھوڑنا یہ آزادی نہیں تو کیاہے۔ کبھی مردبھی ایسے راستے اورگلیاں بلاک کرکے چلتے ہیں؟
ہم جب بھی کوئی چیز خریدنے جاتے ہیں۔ تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ چیز رعائت سے مل جائے۔ رعائت کرانا بھی چاہیے۔ اگر ہم کوئی چیزمسجد میں دینے، کسی دینی طالب علم کو دینے، کسی فقیر کو دینے یا کسی دینی مدرسہ میں دینے کے لیے خریدکرتے ہیں تو دکاندارسے ضرورکہتے ہیں کہ ہم نے اس کو کہاں مصرف میں لانا ہے۔ اس ارادے سے نہیں کہتے کہ چیز اچھی اورمعیاری مل جائے بلکہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں خصوصی رعائت کردی جائے۔ ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس لیے بتاتے ہیں کہ چیزاچھی اورمعیاری مل جائے۔ اگر دکاندارمطلوبہ چیزکی قیمت ہماری توقع سے زیادہ بتادے۔ اور مزید رعائت دینے پر آمادہ نہ ہو۔ تو ہم اس کو تبلیغ کرنا شروع کردیتے ہیں کہ بس ہم سے یہ کرنسی لے لیں باقی جو اس کی قیمت بچتی ہے ۔ وہ آپ کا حصہ شامل ہوجائے گا۔ جتنا ثواب ہمیں ملے گا اتنا ہی آپ کو بھی ملے گا۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ہم جس ارادے سے خریداری کررہے ہوتے ہیں وہ ارادہ اچھا اورنیک ہوتاہے۔ یہ بھی اچھی بات ہے کہ ہم اپنے نیک کام میں دکاندارکو بھی شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم ایسا کرتے ہیں کہ کوئی چیز ایک سو روپے میں مل رہی ہوتو ہم کوشش کرتے ہیں کہ یہی چیز ہمیں ساٹھ روپے میں مل جائے۔ ساٹھ روپے میں نہ مل سکے تو کم ازکم ستر روپے میں ضرورمل جائے۔ ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ چاہے دکانداروہی چیز پچانوے روپے میں ہی کیوں نہ خریدلایا ہو۔ ہم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ جو چیز ایک سوروپے میں فروخت ہورہی ہوہم ایک سو بیس روپے دے دیں کہ اللہ کے نام پر دینی ہے ۔ اس سے اچھی اورمعیاری چیز مل جائے۔ چیز جتنی اچھی اورمعیاری ہوگی۔ اس کا اجر بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا صرف شرط اخلاص کی ہے۔ اخلاص نہیں ہے تو کچھ نہیں ملے گا۔ کیا خریداری کرتے وقت تشہیر کرنا ضروری ہوتاہے کہ ہم اسے مسجد میں مدرسہ میں یا کسی اورجگہ اللہ کے نام پردے رہے ہیں تاکہ کم سے کم دکاندارکی نظروں میں توہم سخی مشہورہوجائیں۔
ہم کسی بینک یا پوسٹ آفس میں بل جمع کرانے جائیں یا یوٹیلٹی سٹورپر کوئی چیزخریدنے جائیں یا ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ لینے جائیں اس کے علاوہ جہاں بھی ایسی جگہ جائیں جہاں ہمیں قطارمیں کھڑاہونا پڑے تو ہمیں ایسا کرنا اپنی توہین معلوم ہوتی ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہمیں قطارمیں کھڑا نہ ہونا پڑے۔ ہم قطارمیں کھڑے ہوئے سب لوگوں کوبائی پاس کرکے اپناکام کرانا چاہتے ہیں۔ صرف ہمیں ہی جلدی ہوتی ہے۔ صرف ہم نے ہی ضروری کام کرنا ہوتاہے۔ سوال یہ ہے کہ اورجو لوگ قطارمیں کھڑے ہیں چاہے وہ جتنے بھی ہیں کیا ان کوکوئی جلدی نہیں ہے۔ کیا وہ گھرسے فارغ ہوتے ہیں۔ ان کو کوئی کام نہیں ہوتا۔
جب بھی کسی سیاسی جماعت سے وابستہ کوئی شخصیت کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت اختیارکرتی ہے تو جس سیاسی جماعت کو اس نے چھوڑاہوتاہے تو اس سے وابستہ کسی نہ کسی شخصیت کا یہ بیان سامنے آجاتاہے کہ کسی کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایساہی ہے تو پھر ایسا بیان دینے کی کیاضرورت ہوتی ہے۔ اورکسی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتوکیا کسی کے آنے کوئی فرق پڑتاہے۔ ایک اوربات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ کسی کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو جب کسی دوسری سیاسی جماعت کاکوئی فرد آپ کی جماعت میں شامل ہوتاہے۔ تو ا س وقت ایسا بیان کیوں نہیں دیا جاتا۔ 
خوبیاں اورخامیاں ہر انسان میں ہوتی ہیں۔ جس سے ہماری دوستی ہوتی ہے یا جس سے ہم کوئی کام لینا چاہتے ہوںیا جس کی نیک نامی کو مشہورکرنا چاہتے ہوں تو ہم اس کی خامیوں کو چھپا لیتے ہیں اوراس کی خوبیوں کا خوب چرچاکرتے ہیں۔ اوراس کے برعکس کسی سے ہمیں نفرت ہو۔ کسی سے ہمیں دشمنی ہو، ہم کسی کے خلاف لوگوں کو متنفرکرنا چاہتے ہوں تو ہم اس کی خوبیوں کو چھپا لیتے ہیں اوراس کی خامیوں کی خوب تشہیر کرتے ہیں۔ کسی کی شخصیت کو اجاگرکرنے میں ہم اپنی پسند اورناپسند کو کیوں دیکھتے ہیں۔ کیا کسی کی خوبیاں چھپانے سے اس کی شخصیت داغدارہوجاتی ہے۔ کبھی ہم نے سوچاہے کہ کوئی اورہمارے بارے میں ایسے ہی ریمارکس دے ہم کیا محسوس کریں گے۔ 
اسی سلسلہ میں ایک اوربات یہ ہے کہ جب ہم کسی کے بارے میں منفی بات پھیلاتے ہیں تو اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے تو سچ کہا ہے۔ واقعی اس میں ایسی بات ہے۔ اورکوئی دوسراہمارے بارے میں ایسی ہی بات کہہ دے تو ہم اس کی تردیددرتردید کرتے ہیں۔ کہ ایسا نہیں ایسا ہے۔ جو بات ہم اپنے بارے میں سننا پسند نہیں کرتے وہ دوسروں کے بارے میں کیوں کہتے ہیں۔ کیا اسی کو ڈپلومیسی کہاجاتاہے۔ 
ہم کوئی چیزخریدنے جائیں یا کسی بھی جگہ ہمیں کرنسی دینی پڑے تو ہم لینے والے کہتے ہیں کہ کچھ تو رعائت کردو۔ وہ کہتا ہے کہ رعائت نہیں ہوسکتی۔ ایک سوروپے دینے ہوں تو ہم اسی روپے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ساتھ یہ تبلیغ بھی کردیتے ہیں کہ پیسہ کسی نے ساتھ لے کر نہیں جانا۔ ان الفاظ میں ہم پیسے لینے والے سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ آپ جوہم سے ہمارے ارادے سے زیادہ پیسے لے رہے ہیں وہ آپ قبر میں نہیں لے کرجائیں گے۔ یہ پیسہ اوردولت سب کچھ اسی دنیا میں رہ جائے گا۔ اسی لیے بہتر ہے کہ ہم جو کچھ دے رہے ہیں وہ لے لو۔ یہی بات ہم اپنے بارے میں کیوں نہیں سوچتے۔ اس نے تو پیسہ ساتھ لے کر نہیں جانا۔ اورہم جو اس کو کم پیسے دینے کی کوشش کرتے ہیں کیا ہم وہ ساتھ لے کر جائیں گے۔ 
جب بھی ہم سے کوئی فقیر خیرات مانگنے یا کوئی مسجد یا مدرسہ کا چندہ مانگنے آتا ہے تو اکثرلوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے پاس کم سے کم مالیت کا جو نوٹ یا سکہ ہے وہ دیا جائے۔ لینے والا لینے سے انکارکردے یا یہ کہے کہ بھائی جان کچھ اوردو۔ تو ہم اس کو سمجھانے لگ جاتے ہیں کہ جس کو جتنی توفیق ہو وہ اتنا دے۔ ایک اوربات ہم یہ کرتے ہیں کہ اللہ کے نام پہ جتنا دے سکتے ہیں دیں۔ اس کی کوئی حد مقررنہیں ہے۔ اس لیے جو دے رہے ہیں لے جاؤ۔ اس سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ ہم نے یہ درست سوچ رکھا ہے کہ اللہ کے نام پر جو جتنا دے سکتاہے دے۔ اس کے ساتھ یہ بھی سمجھ رکھا ہے کہ جو جتناکم دے سکتاہے دے۔ یہ بات تو درست ہے کہ جو جتنا دے سکتاہے دے تاہم یہ کہاں لکھا ہواہے یا یہ کس مفتی یا عالم دین نے کہا ہے کہ جتنا کم دے سکتے ہیں اللہ کے نام پردیں۔ یہ ہم کیوں نہیں سوچتے یا اندازہ نہیں لگا لیتے کہ جتنا زیادہ دے سکتے ہیں دیں۔ جب حد مقرر نہیں ہے ۔ یہ کس نے کہہ دیا کہ کم سے کم دیا جائے۔ زیادہ سے زیادہ بھی تو دیا جاسکتاہے۔ 
اسی سلسلہ میں ایک اوربات بھی ہے کہ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ جتنا کوئی دے سکتاہے دے۔ لینے والا اعتراض نہ کرے اسے جو مل رہا ہے وہ لے لے۔ کیا ہم یہ جو کہہ رہے ہوتے ہیں اس پر عمل بھی کررہے ہوتے ہیں۔ کہیں ہم خودہی اپنے قول فعل کے تضاد کا شکارتو نہیں ہوجاتے۔ اس سے آگے جو بات لکھنے جارہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہم کیا کررہے ہوتے ہیں۔ یہ جو ہم کہہ رہے ہوتے ہیں کہ جو جتنا دے سکتاہے دے۔ لینے والا خاموشی سے لے لے ۔ کیا ہم نے اپنے گریبان میں جھانک کردیکھا ہے۔ کبھی ہم نے تنہائی میں سوچاہے۔ کبھی ہمارے ضمیر نے ہمیں جھنجھوڑاہے کہ ہم جو دے رہے ہیں یا جو کچھ اللہ کے نام پر کسی فقیر یا دین کے طالب علم کودیا ہے۔ کیا ہم یہی کچھ دے سکتے ہیں یا اس سے زیادہ بھی دے سکتے ہیں۔ اگر اس سے زیادہ دے سکتے ہیں تو ہم نے خودہی اپنے فعل سے اپنے قول کی نفی کردی۔ جس کی روزانہ کی آمدنی ایک ہزارروپے ہے اوروہ گداگر یا فقیر کو ایک روپیہ دیتا ہے تو کیا وہ ایک روپیہ ہی دے سکتاہے۔ ہم تو اللہ کی راہ میں ایسی کرنسی بھی دے دیتے ہیں جسے ہمارا دوسال کا بیٹابھی نہیں لیتا کہ اس نوٹ کو کوئی دکاندارنہیں لے گا۔ 
یہ جو کہا جاتا ہے کہ خواتین مظلوم ہیں ۔ کیا خواتین واقعی مظلوم ہیں۔ کیا صرف مرد ہی ظالم اورمتشدد ہوتے ہیں۔ کیا خواتین ایسا نہیں کرتیں۔ کہیں ہم یکطرفہ بات کرکے ایک نیا طوفان تو پیدا نہیں کررہے کیا ہم نے کبھی سوچاہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ مردتشددنہیں کرتے۔ تاہم یہ ضرورکہتے ہیں کہ مرد کیوں تشدد کرتے ہیں کبھی اس پر بھی غورکیا ہے۔ نہیں کیا ۔ کیوں۔ جو طالب علم سبق یاد کرکے آئے ، وقت پر سکول آئے اوروقت پر سکول جائے، اپنا ذمیہ کام بھی کرکے آئے ، کلاس میں ادب اورتوجہ سے بیٹھا رہے اورکوئی شرارت نہ کرے کبھی کسی نے سنا ہے کہ کسی ٹیچر نے ایسے بچے کو سزا دی ہو۔ ہم یہ تو کہتے ہیں کہ خواتین پر تشدد ختم ہونا چاہیے یہ بات درست بھی ہے ہم خواتین سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ ایسا کام نہ کریں کہ جس سے انہیں مردوں کا تشدد برداشت کرنا پڑے۔ ہم میاں بیوی کو مل جل کراوراتفاق سے رہنے کی تاکید کیوں نہیں کرتے۔ 
یوں تو اس طرح کے اوربھی بہت سے سوالات ہیں تاہم اس تحریر میں آخری سوال یہ ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے خلاف اخبارات میں بہت لکھا جارہا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل یہ ہے کہ کسی کوشک ہوتاہے کہ اس کی رشتہ دارکے کسی کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں تو اس کی غیرت بھڑک اٹھتی ہے اوروہ اس رشتہ دار کو قتل کردیتاہے ۔ محض شک کی بنیا د پر ایسا کام کرنا کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے۔ جب مکمل ثبوت اورگواہ نہ ہوں اس وقت تک ایسی کارروائی کرنا غیر قانونی ہوتاہے۔ اوراگر کسی کے خلاف ایسے شواہد ہوں تو اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔ یہاں تک تو بات درست ہے۔ اورغیرت کے نام پر قتل یوں بھی ہوتا ہے کوئی اپنے کسی رشتہ دار کو قابل اعتراض حالت میں کسی کے ساتھ دیکھ لیتا ہے تو وہ اسی وقت طیش میں آکر قتل کردیتاہے۔ یہ بات تو درست ہے کہ قانون کسی کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔ یہ ایسا مرحلہ ہوتا ہے جو کسی سے بھی برداشت نہیں ہوتا۔ لکھنے والوں کے مطابق غیرت کے نام پر قتل جائز نہیں ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا وہ کام جائز ہوتا ہے جسے دیکھ کر غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتاہے۔ ہم ایسے قاتلوں کے خلاف تو بہت لکھتے ہیں کیا جو اس وجہ سے قتل ہوتے ہیں ان کو بھی کوئی بات سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ہم مردوں سے تو کہتے ہیں کہ وہ غیرت کے نام پر قتل نہ کریں حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ اس کو روکے۔ جو غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں ۔ ان سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ ایسا غلط کام کیوں کرتے ہیں جس کو دیکھ کر اس کے رشتہ دار برداشت نہیں کرسکتے۔ ہم غیرت کے نام پر قتل کے خلاف تو لکھتے ہیں اوربولتے ہیں۔ اس کام کے خلاف کیوں نہیں لکھتے اوربولتے جس کی وجہ سے غیرت کے نام پر قتل ہورہے ہیں۔ 

0 comments

Write Down Your Responses