وزیراعظم نے طالبان سے مذاکرات کا برملا اور واضح نقشہ پیش کردیا لیکن بہتر ہوتا اس فیصلے سے پہلے حکومت کا اتحادی ہونے کے ناطے ہم سے مشاورت کرلی جاتی

 اسلام آباد (انویسٹی گیشن ٹیم) قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے طالبان سے مذاکرات کا برملا اور واضح نقشہ پیش کردیا لیکن بہتر ہوتا اس فیصلے سے پہلے حکومت کا اتحادی ہونے کے ناطے ہم سے مشاورت کرلی جاتی تو ہم وزیراعظم کو حساس معاملات سے بھی آگاہ کرتے، اگر وزیراعظم آج جنگ کا طبل بجا دیتے تو ہمارا لب و لہجہ کچھ اور ہوتا، ملک کی موجودہ صورتحال پر تمام سیاسی جماعتیں اختلافات کے باوجود متحد ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے پاس اختیارات نہیں اہم فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں جس کی وجہ سے پارلیمنٹ میں طے پانے والے معاملات اور فیصلوں پر اتفاق رائے کے باوجود عمل درآمد نہیں ہوتا۔
نے کہاکہ ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور ہمیں یہ بات چھپانی نہیں چاہئے اور اس وقت پہلا سوال ملک کی سلامتی کا  ہے،30 سال سے ہماری مغربی سرحدوں پر جنگ ہورہی ہے جس کی وجہ سے بہت خون بہہ چکا،  سویت یونین کے خاتمے اور نائن الیون کے بعد ہمیں امریکا کی وہ بات  نہیں بھولنی چاہئے کہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کی جغرافیائی حدود حتمی نہیں۔ ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے جب امریکا نے کہا تھا کہ 20 ویں صدی تاج برطانیہ کی تھی اور 21 صدی ہماری ہے اور دنیا کی جغرافائی تقسیم ازسرنو ہمارے مفادات کے مطابق بنے گی


0 comments

Write Down Your Responses