وفاقی حکومت کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہے گے :وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق

میرپورخاص (ایم وی این نیوز ۔محمد انور شیخ ) وفاقی حکومت کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہے گے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ملک کے بڑے ریلوے اسٹیشن میرپورخاص ریلوے اسٹیشن کی تباھ حالی ا ور ایک درجن سے زائد ٹرینوں کی مسلسل سات سالوں سے بندش کا نوٹس نہیں لیا ریلوے کی اربوں روپئے کی زمیں پر قبضہ ہوچکا ہے، ریلوے اسپتال ، ریلوے اسکول سمیت ریلوے کے تمام ادارے تباھ ہوچکے ہیں پلیٹ فارم بچوں کی کرکٹ کھیلنے کے لئے استعمال ہونے لگا جبکہ پرویز مشرف کی حکومت میں اس روٹ سے بھارت جانے اور آنے والی ٹرین تھر ایکسپریس کے ساتھ کاروباری ٹرین (گڈس) ٹرین چلانے، پاسپورٹ ویزا آفس کی تعمیر، اور کمپیوٹرائزڈ ریلوے رزرویشن کی آفس کے قیام کا اعلان پر بھی عمل نہیں ہو سکا ہے۔ سندھ کے چوتھے بڑے شہر اور ملک کا سب سے بڑا پلیٹ فارم رکھنے والہ میرپورخاص ریلوے اسٹیشن وفاقی حکومت اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق صاحب کی توجہ مانگ رہا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے دنوں میں بند ہونی والی ایک درجن سے زائد ٹرینین جو میرپورخاص سے حیدرآباد، میرپورخاص سے کراچی اور میرپورخاص سے کھوکھروپار عمرکوٹ چلتی تھی وہ گزرشتہ سات سالوں سے بند ہے۔ عوامی شکایات پرایوان صحافت میرپورخاص کی ٹیم نے جب میرپورخاص ریلوے اسٹیشن، ریلوے پلیٹ فارم اور دیگر ریلوے کے اداروں کا جائزہ لیا تو ہر طرف ویرانی نظر �آئی، پلیٹ فارم پر بچے کرکٹ کھیلتے ہیں اور شہری واک کرتے نظر آتے ہیں میرپورخاص سے حیدرآباد اپ ڈاؤں ایک درجن سے زائد ٹرینیں بند ہیں۔ جبکہ کراچی سے میرپورخاص آنے جانے والی دو ٹرینیں مہران ایکسپریس اور شاھ لطیف ایکسپریس بھی بند ہیں۔ شہریوں نے ریلوے افسران عملے عوام اور وفاقی وزارت ریلوے کو ریلوے کی تباھی کا زمیوار قرار دیا ہے۔ میرپورخاص ریلوے اسٹیشن جوکہ ھندستان اور پاکستان کی آزادی کے بعد سے ابتک سرحدی ریلوے ا سٹیشن کی بھی حیثت رکھتا ہے اور ہر ہفتے جمع کی رات دیر سے کراچی سے موناباؤ (بھارت) تھر ایکسپریس ٹرین میرپورخاص سے جاتی ہے لیکن اس ٹرین میں کسی بھی قسم کی سہولیات موجود نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے سانحے کے بعد میرپورخاص ریلوے نظام بہت متاثر ہوا ہے۔ میرپورخاص ریلوے ا سٹیشن پر ٹکٹ گھر سے لیکر تمام افسران کے دفاتر اکثر بند رھتے ہیں اور پلیٹ فارم پر ہیروئنچیوں کی آرام گاھ میں استعمال میں آتا ہے۔ ریلوے پلیٹ فارم پر بچے کرکٹ کھیلتے ہیں یا شہری واک کرتے ہیں۔ اسی طرح سے میرپورخاص سے نوابشاھ، میرپورخاص سے کنری، نوکوٹ، جھڈو کے لئے چلنے والی میٹر گیج ٹرین بھی پچھلے کئی سالوں سے بند ہے جس کے باعث ریلوے کی قیمتی ایراضی، پر بااثر افراد نے قبضہ کردیا ہے۔ ریلوے ٹریک چوری ہوچکے ہیں ریلوے ٹریک کے نیچے آنے والی لکڑی (سلیپر) کو لوگ سردیوں سے بچنے کے لئے نکال کر جلا رہے ہیں اور آگ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اربوں روپئے کا قیمتی ریلوے کا لوہا چوری ہوچکا ہے۔ ریلوے کے کوارٹروں میں افسران ا ور عملے کی ملی بھگت سے غیر متعلقہ افراد کو کرائے پر دیا گیا ہے۔ ریلوے اسکول ، اسپتال اور ریلوے کے فلٹر پلانٹ کی حالت قابل رحم ہے۔ ریلوے کے ملازمیں بڑی تعداد میں ویزا پر جا چکے ہیں جبکہ ریلوے پولیس ا سٹیشن مکمل طور پر غیر فعال ہے۔ حکومت کو مکمل طور پر خسارہ دینے والے اس ادارے کے ہزاروں ملازمین کو گھر بیٹھے عوام کے پئسے سے تنخواھ دی جارہی ہے۔ ریلوے کی سرکاری ایراضی پر لگے ہوئے قیمتی درخت بھی افسران نے بھیچ دئے ہیں۔ ریلوے اسٹیشن ماسٹر، اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر، اے ای او، پرمننٹ وے انسپکیٹرز سمیت تمام افسران اور عملہ غیر حاضر رہتا ہے ۔ محکمہ ریلوے کی حالت زار اور بند پڑی ہوئی ٹرینوں کی بحالی کے لئے حق پرست ایم پی اے ڈاکٹر ظفر کمالی ، مسلم لیگ فنکشنل سندھ کونسل کے رکن میجر رٹائرڈ مسرور بیگ، مسلم لیگ ن لیڈیز ونگ سندھ کی رھنماء اور مرکزی کونسل کی رکن ڈاکٹر شاھین سعید آرائیں، جمیعت علماء اسلام میرپورخاص کے ا میر مولانہ حفیظ ا لرحمان ٖفیض، اھلسنت والجماعت کے ضلع میرپورخاص کے رھنماء حافظ عطاء اللہ حیدری ، پ پ پ کے رھنماء حنیف میمن، جمیعت علماء پاکستان کے صوبائی رھنماء مفتی شریف سعدی، سنی تحریک کے صوبائی رھنماء التماس صابر، اور دیگر نے ایوان صحافت کی ٹیم کے توسط سے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، وفاقی وزیر ریلوے خوجہ سعد رفیق سے اپیل کی ہے کہ فوری طور سندھ کے چوٹھے بڑے شہر اور ڈویزنل ہیڈ کوارٹر میرپورخاص ریلوے ا سٹیشن کی حالت زار اور بند ہونے والی ٹرینوں کا نوٹس لیکر ٹرینیں بحال کی جائیں اور نوابشاھ سمیت دیگر ٹریکس کو بھی بحال کرکے ٹرین سروس شروع کی جائے، میرپورخاص میں پاسپورٹ آفس کا قیام، ویز ا آفس کا قیا م اور کمپیوٹرائزڈ رزروشن کا قیام جلد کیا جائے ۔ 

0 comments

Write Down Your Responses