اسلامیہ یونیورسٹی میں آنے پر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے اور یہ بالکل میرے اپنے گھر کی طرح ہے

بہاول پور (انویسٹین گیشن ٹیم ) چوہدری محمد سرور گورنر پنجاب /چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے کہا ہے کہ مجھے اسلامیہ یونیورسٹی میں آنے پر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے اور یہ بالکل میرے اپنے گھر کی طرح ہے ۔ مجھے جو محبت اور عزت بہاول پور کے خطے سے ملتی ہے میں اُسے بدلے میں بھی اس قسم کے جذبات لوٹانا چاہتا ہوں۔ بہاول پور کا محلوں اور باغوں سے مرصع شہر علمی اور دانشورانہ سرگرمیوں کا ہمیشہ سے مرکز رہا ہے اور یہاں کے تعلیمی اِدارے سکول کی سطح سے یونیورسٹی تک بہت تعمیری ہیں۔ قومی شہرت کے حامل ماہرین تعلیم ، ادبی شخصیات، علمائے کرام ، کھلاڑی اور سائنسدان تخلیق کرتے رہے ہیں۔ میں اس سلسلے میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اساتذہ کو ان منفرد اعزازات کے حصول کے لیے کوششوں کو سراہتا ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاو لپور کانووکیشن میں ڈگری حاصل کرنے والے تمام طلبہ وطالبات کو مبارکبادپیش کرتا ہوں ۔ یہ ڈگری آپ کی زندگی میں ایک اہم اور بہت ہی ذمہ دارانہ رول ادا کرنے میں اُن کی رہنمائی کریں گی۔ آپ تمام گریجویٹس اب سندیافتہ سکالر ہیں اور قومی ایجنڈا یا پھر روزمرہ زندگی کا کوئی بھی مسئلہ حل کرنے کے قابل ہیں ۔ چانسلر/گورنر پنجاب نے کہا کہ میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی کارکردگی سے بہت متاثر ہوا ہوں ۔ کسی بھی پسماندہ علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے کسی اِدارے کو کامیابی سے چلانا آسان نہیں لیکن معجزے رونما ہوتے ہیں اور جناب وائس چانسلر میں آپ کی انتظامی اور تدریسی صلاحیتوں سے آگاہ ہوں اور آپ کی بصیرت کو سراہتا ہوں اور اللہ کے فضل وکرم سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور جلد ہی پاکستان کی سرفہرست کی جامعات میں شمار ہو گی۔ موجودہ حکومت اعلیٰ تعلیم کی سرپرستی کے لیے پوری طرح تیار ہے اور یہ ہماری توقع ہے کہ یہ تعلیمی ادارے قوم کے نوجوانوں کو اس طرح سے تربیت دیں گے اور پروان چڑھائیں گے۔ کہ وہ اس کرہ ارض کے بہترین انسان بن جائیں۔ اس سلسلے میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی ترجیحات میں تعلیم کے شعبے کو اولین فوقیت حاصل ہے اور وہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمت فراہم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صاحب نے نوجوانوں کی قائدانہ صلاحیتوں کو اُبھارنے کے لیے خود روزگار سکیم متعارف کروائی ہے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے طلبہ وطالبات پر زور دیا کہ آپ کو ایسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے کہ جس سے چولستان کے قدرتی اور مقامی ذرائع سے قابل قدر فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ اس لیے ہمیں لیبارٹریوں میں سائنسی تحقیق کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت کی اخلاقی اقدار کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں یونیورسٹی کی خواجہ فرید چےئر بہت ہی اہم کردار ادا کرسکتی ہے ۔ جس میں عظیم صوفی شاعر کے فلسفے کو پھیلانے کی ضرورت ہے جو محبت، امن اور ہم آہنگی سے لیس ہے۔ میں آپ کو کپاس کی بہترین ورائٹی IUB222دریافت کرنے پر بھی ہدیہ تہنیت پیش کرتا ہوں جسے تجارتی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ کی یہ پیش رفت اسی طرح جاری رہے گی اور آ پ مختلف تجارتی فصلوں کی بہتر اقسام بھی متعارف کروائیں گے۔ اس کے علاوہ میں جناب وائس چانسلر اور اُن کی ٹیم کو آن لائن ایڈمیشن سسٹم متعارف کروانے پر بھی مبارکباد دیتا ہوں۔ جو پنجاب کی دوسری یونیورسٹیوں کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبات کو آج کل طلبہ پر برتری حاصل ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی ترقی ملکی خوشحالی کے لیے خوش آئند ہے۔ وزیر مملکت برائے تعلیم ، ہائر ایجوکیشن اور سٹینڈرڈز انجینئر میاں بلیغ الرحمن نے اس موقع پر کانووکیشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ڈگریوں کا حصول دراصل ان طلبہ وطالبات کی محنتوں کا ثمر ہے اور اُنہیں عملی زندگی میں بھی منفرد مقام حاصل کرنے کے لیے اس جدوجہد کو جاری رکھنا ہوگا تاکہ یہ گریجویٹس قومی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں اور اسلامی اقدار کو فروغ دیں ۔ اُنہوں نے گریجویٹس کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس جذبے سے کام کرنا چاہیے کہ ہر روز اس میں بہتری ہو کیونکہ مومن کا ہر آنے والا دن گزرے دن سے بہتر ہوتا ہے۔ اس سے پہلے پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاو لپور نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے گورنر پنجاب /چانسلر چوہدری محمد سرور کو گرمجوشی سے خوش آمدید کیا اور کہا کہ کانووکیشن کے اس تاریخی موقع پر سوسائٹی کی قابل ذکر شخصیات کا یوں یکجا ہونا ہمارے گریجویٹس کی اُس محنت شاقہ کو خراج تحسین دینے کے مترادف ہے۔ جس کی بدولت آج نوجوان سکالرز کی ایک اور جماعت اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھ رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خطبہ بہاول پور ہمیشہ سے علم وادب کا گہوارہ رہا ہے اور اسی خطے میں صوبوں سے عظمت رفتہ کے حامل شہر اوچ شریف میں پہلی اسلامی یونیورسٹی قائم ہوئی اور اس علاقے کو اللہ تعالیٰ کے اولیائے کرام نے بھی اپنی تعلیمات کے ذریعے اسلام کے نور سے منور کیا اور جہالت کے اندھیرے مٹا دئیے۔ اس کے بعد سابقہ ریاست بہاول پور کے علم دوست نوابوں نے اپنے عباسی آباء کی روایت پر چلتے ہوئے علم کو فروغ دیا اور بہت سے نادر علمی ادارے متعارف کروائے جن میں 1925ء میں قائم ہونے والی جامعہ عباسیہ بھی شامل ہے۔ جس نے 1975ء میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی شکل اختیار کی ۔ آج اسلامیہ یونیورسٹی تعلیم کے ایک جدید ترقی یافتہ اور عملی گہوارے کے طور پر دنیا بھر میں پہنچانی جاتی ہے۔ اس وقت جامعہ میں تقریباً 18000طلبہ وطالبات بی ایس پروگرام سے پی ایچ ڈی تک 48شعبوں کے 78علوم میں زیر تعلیم ہیں یہ شعبہ جات یونیورسٹی کے چھ کیمپسز پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ہمارا تدریسی نصاب بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہے۔ اس وقت اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں 600اساتذہ تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ جس میں 200پی ایچ ڈی ہیں جو ہر سطح پر تدریس اور تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس کانووکیشن میں 3348گریجویٹس کو ڈگریاں دی جارہی ہیں۔ جن میں 46پی ایچ ڈی 143ایم فل اور 3032بی ایس اور ایم اے /ایم ایس سی شامل ہیں ۔ا س کے علاوہ 82طلبہ وطالبات کو سونے اور 81کو چاندی کے تمغے بھی دئیے جار ہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سے نئے پروگرام شروع کیے ہیں جن کے ذریعے اپنے نوجوانوں کو کمپیوٹر سائنس ، بائیو کیمسٹری، بائیو ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، جینڈر سٹڈیز، انٹرنیشنل ریلیشنز اور پبلک ایڈمنسٹریشن جیسے جدید تدریسی شعبہ جات میں تربیت دینا شامل ہے۔ مستقبل کے منصوبوں میں آرکیالوجی، سنٹر فار ماڈرن لینگوئجز، سول انجینئرنگ، جنیٹک انجینئرنگ، میڈیکل فزکس اور ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان جس میں ٹرانسلیشن بائیو ٹیکنالوجی شامل ہیں کے شعبوں کا اجراء کیا جائے گا۔ انسٹی ٹیوٹ تحقیق اور تفتیش کا مرکز ہوگا اور تربیت کے ذریعے ایسے افراد تیار کرے گا جو ملازمت تلاش کرنے کی بجائے اسے تخلیق کریں گے ۔ ہم آن لائن ایڈمیشن سسٹم کو کامیابی سے متعارف کروانے والی پہلی سرکاری یونیورسٹی ہیں ۔جس کی بہت پذیرائی ہوئی اور ہمیں 40,000درخواستیں موصول ہوئیں۔ لیکن اپنے محدود وسائل کے باعث ہم صرف 6000امیدواروں کو داخلہ دے سکے۔ ہمیں حکومت کی جانب سے غیر ترقی یافتہ جنوبی پنجاب کے مستحق طلبہ وطالبات کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مالی امداد کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی نے وسائل کی کمی کے باوجود چند بہت ہی منفرد پروگرام شروع کیے ہیں ۔ ہم نے بہا ولنگر اور رحیم یار خان میں سب کیمپسز قائم کئے تاکہ ان پسماندہ علاقوں کے خواہشمند طلبہ وطالبات اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکیں۔ اس وقت بھی ملتان سے لے کر خیر پور میرس سندھ کے درمیانی علاقے کے سینکڑوں طلبہ وطالبات اس جامعہ میں داخلے کے خواہشمند ہیں اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہمیں مزید کیمپسز، شعبہ جات اور پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے ہائرایجوکیشن کمیشن اور دوسری آٹھ جامعات کے ساتھ مل کر سوشل سائنسز کے شعبے میں ایک انٹریونیورسٹی کنسورشیم قائم کیا ۔ یہ اپنی طرز کا ایک منفرد اشتراک ہے جس میں ممبر جامعات کے مابین سکالر اور فیکلٹی کے تبادلے، مشترکہ نصاب کی تیاری اور اعلیٰ تعلیم کے معیار میں اضافہ کے اقدامات شامل ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نے کہا کہ یونیورسٹی زرعی کالج نے کپاس کی ایک ورائٹی IUB-222دریافت کی ہے جسے تجاری بنیادوں پر بہترین ورائٹی قراردیا گیا ہے اور جنوبی پنجاب میں کاشت کے لیے پنجاب سیڈ کونسل نے منظوری دے دی ہے اس طرح یونیورسٹی ملک کی معیشت کے استحکام میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں خواجہ فرید چےئر بھی قائم ہے جس کے ذریعے عظیم صوفی کی شاعری ، شخصیت او ر تعلیمات کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اب اس چےئر میں میوزیم ، لائبریری اور آرٹ گیلری قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ یہاں پر حضرت خواجہ غلام فرید اور اُن کی تعلیمات کے موضوع پر سیمنار ، کانفرنس اور توسیعی لیکچر منعقد ہو سکیں۔ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فوج کے اشتراک سے بہاول پور میں رینجرز کیمپس قائم کیا ہے اور اس اقدام کو تعلیمی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے ۔ یونیورسٹی نے فاصلاتی تعلیم کے سلسلے میں جدید ترین سہولتیں مہیا کی ہیں اور اس میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام بھی شامل ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم کھیلوں کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں اور انٹریونیورسٹی سپورٹس مقابلوں میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کا ایک منفرد مقام ہے اور گزشتہ چار سال سے مجموعی طور پر تیسری پوزیشن پر متمکن ہے۔ اُنہوں نے گزارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم زرعی بائیو ٹیکنالوجی ، ماحولیاتی بائیو ٹیکنالوجی میڈیکل ٹیکنالوجی، انڈسٹریل اور فارما سیوٹیکل ٹیکنالوجی قائم کرنے کے لیے یونیورسٹی کے پاس افرادی قوت موجود ہے۔ لیکن جدید سائنس کے ان بین الاقوامی معیار کے حامل مراکز قائم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے ۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایک دفعہ قائم ہونے کے بعد یہ بہت دور تک علاقے کی معاشی اور معاشرتی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرے گا ۔ وائس چانسلر نے کہا کہ آخر میں آپ کی توجہ اس حقیقت کی جانب مبذول کروانا چاہوں گا کہ کچھ عرصہ پہلے حکومت پنجاب کی مدد سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اساتذہ اور ملازمین کے لیے ایک ہاؤسنگ کالونی کا اعلان کیا گیا جس کے بعد یونیورسٹی کی ہاؤسنگ سوسائٹی رجسٹرڈ کروائی گئی لیکن ابھی تک اس سلسلے میں صرف اعلان پر اکتفا کیا گیا ہے ۔ اگر اس سلسلے میں آپ کی جانب سے کوئی مہربانی کی جائے تو یہ یونیورسٹی کے ہزاروں اساتذہ اور ملازمین کے لیے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہو گی اور ان کے ذہنوں میں ہمیشہ آپ کی محبت کی یادگار کے طور پرآپ کا یہ تحفہ محفوظ رہے گا۔ کانووکیشن 2013میں بین الاقوامی شہر ت یافتہ براڈ کاسٹر رضا علی عابدی کو اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا ۔ اُنہیں یہ ڈگری اُردو زبان وادب کے فروغ کے سلسلے میں دی گئی خدمات کے اعتراف میں عطا کی گئی ہے۔ رضا علی عابدی نے اس موقع پر جناب گورنر /چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور جناب وائس چانسلر ، اساتذہ ، طلبہ وطالبات اور بہاو لپور کے شہریوں کا اس منفرد اعزاز عطا کرنے پر شکریہ ادا کیا اور بہاول پور کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا۔ 

,

0 comments

Write Down Your Responses