انسانی جان انمول ہے ،حادثات میں ضائع ہونے والی جانیں ناقابلِ تلافی نقصان ہے اس کا ازالہ نا ممکن ہے

فیصل آباد (سلیم شاہ ،چیف انوسٹی گیشن سیل) انسانی جان انمول ہے ،حادثات میں ضائع ہونے والی جانیں ناقابلِ تلافی نقصان ہے اس کا ازالہ نا ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن فیصل آباد ریجن کے زیرِ اہتمام اپٹپما ہاؤس میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کے دوران مہمانِ خصوصی ڈی سی او فیصل آباد نورالامین مینگل نے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ صنعتی اداروں میں ٹیکنیکل سٹاف کی روزانہ ریہرسل کا پروگرام ہونا چاہیے ۔ الیکٹرک سے متعلقہ آلات میں کوالٹی کو مدِ نظر رکھا جائے تاکہ وقتی بچت مستقبل میں نقصان کا باعث نہ بن سکے۔ سیفٹی کے عالمی معیار پر عملدرآمد مشکل کام ہے مگر ہمیں اس کے لئے کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہیے۔ بوائلر کے حادثات میں ملازمین کی غفلت انسانی جانوں اور املاک کے ضیا ع کا باعث بنتا ہے۔ ڈی سی او نے کہا کہ فیصل آباد کے لئے جو ماسٹر پلان تشکیل دیا جا رہا ہے اس کے لئے تاجروں ، صنعتکاروں اور سول سوسائٹی سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ ملکی معیشت میں صنعتوں کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کی بدولت لاکھوں لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔یہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری ورکرز کو روزگار مہیا کرنے کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ زرِ مبادلہ اور لوکل ٹیکسز کی شکل میں ملکی ریونیو کا بڑا ذریعہ ہونے سے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ فیصل آباد میں مشترکہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کے منصوبہ پر پالیسی بنا رہے ہیں۔ جس پر چیف منسٹر کی قائم کردہ کمیٹی کام کر رہی ہے، بہت جلد اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔ سیمینار میں محمد نوازڈسٹرکٹ آفیسر محکمہ ماحولیات ،محمد شہباز خان ڈسٹرکٹ آفیسر انڈسٹریز ،انجنئیر احتشام واہلہ ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکیو 1122 ، چوہدری اصغر علی ڈسٹرکٹ آفیسر سول ڈیفنس، شاہین زاہد خاں ، پرنسپل سول ڈیفنس ٹریننگ سکول فیصل آباداور بوائلر انسپکٹر میاں طلعت نے بھی شرکت کی اور ماحولیات اور حفاظتی تدابیر کے موضوع پر سیمینار کے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے ریجنل چئیرمین خالد حبیب شیخ نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ بدقسمتی سے انرجی بُحران نے جہاں ملکی معیشت کو تباہی کے کنارے پہنچایا ہے وہیں بجلی اورخاص طور پر گیس کی لوڈ شیڈنگ کے باعث صنعتی اداروں میں حادثات رُو نما ہو رہے ہیں ، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسا نہیں ہوتا

0 comments

Write Down Your Responses