پرویز مشرف حکومت کی گرفت میں نہیں ہیں، وہ قانون کی گرفت میں ہیں

لاہور(انویسٹی گیشن ٹیم) وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ پرویز مشرف حکومت کی گرفت میں نہیں ہیں، وہ قانون کی گرفت میں ہیں۔ ان کے بارے میں جو بھی فیصلہ ہونا ہے وہ عدالت نے ہی کرنا ہے۔کہ وہ معصوم ہیں یا مجرم، حکومت کے پاس کو ئی ایسا اختیار نہیں ہے کہ وہ ان کو ملک سے باہر بھیج دے یا ملک میں رکھے۔ مشرف پر مقدمہ سپریم کورٹ کے حکم پر بنا ہے ۔ مشرف کے معاملے میں ہمیں سعودی عرب ،امریکا ،برطانیہ کسی کی طرف سے بھی کچھ نہیں کہا گیا، جو بھی ہونا ہے پاکستان کی عدالت نے ہی کرنا ہے کیونکہ سب یہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوری نظام حکومت چل رہاہے۔ حکومت پاکستان میں قانون اورآئین کی بالادستی چاہتی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پرویزمشرف کو چاہیے کہ وہ عدالت کے سامنے پیش ہوں اور اپنے دلائل دیں اگر وہ عدالت کو تسلیم کرتے ہیں تو عدالت کا سامنا کریں یا پھر سیدھی طرح کہہ دیں کہ وہ عدالت کو نہیںمانتے۔انھوں نے کہا کہ جس پیسے کا کوئی حساب نہیں دے سکتا، اس اکائونٹس کو منجمد کردینا چاہیے۔مشرف کی سزاوجزا کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہے، اللہ مشرف کو ہمت دے صحت دے کہ وہ عدالت کا سامنا کریں عدالت جو بھی فیصلہ کریگی ہمیںقبول ہوگا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نواب علی وسان نے کہا کہ کوئی مائی کا لال پیدا نہیں ہوا جو سندھ کو تقسیم کرسکے، سندھ سب کاہے جس نے رہنا ہے پیار سے رہے جس نے نہیں رہنا سامنے سمندر ہے۔ہم مجبور تھے ہماری حکومت کو اتحادی کی ضرورت تھی، اس لیے ہم نے ان کو اپنے ساتھ حکومت میں رکھا تھا یہ کوئی بات نہیںہے کہ دہری شہریت والا باہر بیٹھ کر سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کرے اور سندھ تقسیم ہوجائے۔ انھوں نے کہا کہ مشرف وہیل چیئر پر بیٹھ کر باہر چلا جائیگا اور حکومت خود اس کو سی آف کریگی۔ایم کیو ایم کے رہنما طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ ہم مشرف کو بچانا نہیں چاہتے ہم کہتے ہیں کہ انصاف ہونا چاہیے، آرٹیکل 6 میں سب کچھ بہت واضح ہے اگر ایک آدمی اس طرح کے کسی معاملے میں ہے تو باقی لوگوں کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے کیونکہ کوئی بھی ایک آدمی آئین نہیں توڑسکتا۔ کوئی بھی ایک آدمی ’’کو‘‘ نہیں کرسکتا۔اگر مشرف کو نشانہ بنایا جائیگا تو یہ زیادتی ہوگی۔ ہم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے الطاف حسین نے اپنی تقریر میں لفظ اگر استعمال کیا ہے جس کو سمجھا ہی نہیں گیا۔اسطرح تو طالبان نے پاکستان کے آئین اور قانون کو پامال کیا ہے لیکن ہم ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کرمذاکرات کیلیے کوششیں کررہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ مشرف کا ٹرائل چلے گا سزا   نہیں ہوگی۔

0 comments

Write Down Your Responses