آٹھ سالہ بچے کی نعش پر ورثاء کا احتجاج

میرپورخاص (ایم وی این نیوز بیورورپورٹ) کنری کے قریب گاؤں بھارانی میں زمیدار حبیب اللہ جٹ کی نجی جیل پر عدالتی حکم پر کنری پولیس کا نجی جیل سے ھاریوں کی بازیابی کے دوران پولیس کی موجودگی میں زمیداروں کی فائرنگ سے قتل ہونے والے آٹھ سالہ ھاری بچے کی نعش کو لیکر ورثاء نے کنری کی مین سڑک پر رکھکر کر احتجاج کیا۔ بچے کی نعش سڑک پر احتجا ج کے دوران بچے والدین ھاری خاندان کے افراد کی چیخ پکار پر ہر طرف دکھ کا سماء بندھ گیا۔ پولیس نے قتل کا مقدمہ پولیس پارٹی پر فائرنگ کے تحت مقدمات درج کرکے ایک زمیدار عمران کو گرفتار کرلیا جبکہ اس واقع میں ملوث دو جوابداروں اسد اور دلاور کو پولیس تاھال گرفتار کر نہیں سکی ہے۔ اس سفاقانہ واقع میں اس غریب ھاری بچے کا کیا قصو ر تھا۔ بچے کے والد ملوک بھیل نے زمیداروں کی جانب سے جبری مشقت لینے پھر زمیداروں کی جانب سے انہیں دن بھر کھیتوں میں کام لینے کے بعد رات کے وقت زنجیروں میں باندھنے حبس بے جا میں رھنے سے تنگ آکر عدالت کو درخواست دی تھی جس پر کنری پولیس نے ناکام کراوائی کی اور پولیس کی ہی موجودگی میں ایک بچہ قتل کردیا گیا جبکہ دو بچوں ایک خاتون سمیت چار ہاری افراد ایک ہی خاندان سے گولیاں لگنے سے زخمی کردئے گئے تھے۔ سندھ میں وڈیروں کی نجی جیلوں پر جبری مشقت کے ساتھ ھاری خاندان کی خواتین پر وڈیروں اور انکے کمداروں کی غلط حرکات سے بچنے کے لئے اگر پولیس عدالتوں کا سہارہ لیکر نجی جیل سے نکلنے کا وقت آتا ہے تو پھر بھی گولیاں کھانے کو ملتی ہیں۔ نجی جیل میں معصوم بچہ کے قتل پر حکومت، اعلیٰ عدالتیں اور میڈیا کو نوٹس لیکر انصاف کے تسلسل کو قائم رکھنا ہوگا

0 comments

Write Down Your Responses