ڈی ایچ کیو ہسپتال کی تعمیر نو ، منصوبہ بندی کا فقدان اور عوامی مسائل


تحریر: امیر افضل اعوان
سرگودھا میں ایک طویل عرصہ سے بنیادی ضروریات کا فقدان عوامی مسائل میں اضافہ کا باعث ہے اور حالات کے بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ ہے یہاں معاشرہ میں پائی جانے والی بے حسی اور خود غرضی کا عکس پوری طرح نمایاں نظر آتا ہے حالا نکہ یہ علاقہ وسطی پنجاب کا حصہ اور مذہبی، معاشرتی، تجارتی، دفاعی ، عسکری اور دیگر انواح کے حوالہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس صلاحتوں کے ساتھ ساتھ پیداوار کے لحاظ سے اس خطہ ء زرخیز کے سپورتوں کی فنی صلاحتوں کا لوہا پوری دنیا میں مانا جاتا ہے یہاں کے ہونہار باسی پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنی خدمات بھرپور انداز میں سرانجام دے رہے ہیں مگر یہاں پایا جانے والا بنیادی سہولیات کا فقدان اہل علاقہ کے لئے بے پناہ مسائل کا باعث بن چکا ہے، سرگودھا کو ایک طویل عرصہ تک تو یکسر نظرانداز کئے رکھا گیا مگر کچھ عرصہ قبل یہاں بھی تعمیراتی و ترقیاتی سہولیات کا ظہور ممکن ہونے لگا تو اہل سرگودھا نے سکھ کا سانس لیا۔
تبدیلی کی ہوا چلی تو باد صبا کے جھونکے سرگودھا میں بھی در آئے، یہاں بھی تعمیراتی و ترقیاتی کاموں کا سلسلہ شروع ہوا، رواں صدی کے آغاز میں سرگودھا یونیورسٹی کا قیام سرگودھا میں ایک نئے دور کی ابتدا ء کا باعث بن گیا کہ یونیورسٹی کے قیام کے ساتھ ہی یہاں سرگودھا میڈیکل کالج ، زرعی و انجینےئرنگ کالج کی بنیاد بھی رکھی گئی، سرگودھا میڈیکل کالج کا قیام اس حوالہ سے بھی مستحسن ثابت ہوا کہ یہاں کے تشنگان علم کو اپنے شہر میں میڈیکل کی تعلیم ممکن ہوگئی اور دیگر علاقوں کے طواف سے بھی نجات مل گئی اس کے ساتھ ساتھ علاقہ کے باسیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال کی سرگودھا میڈیکل کالج کے ٹیچنگ ہسپتال کی صورت میں تبدیلی کے باعث علاج و معالجہ کے حوالہ سے درپیش مسائل کے خاتمہ کی امید بھی لگی اور جب پنجاب حکومت کی طرف سے ہسپتال کی اپ گریڈیشن ، نئی بلڈنگ کی تعمیر سیمت دیگر سہولیات کی فراہمی کے حوالہ سے کام کا آغاز ہوا تو مزید بہتری کے آثار نمایاں ہوگئے۔
پنجاب حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی کے باعث ڈی ایچ کیوہسپتال کی اپ گریڈیشن ، نئی بلڈنگ کی تعمیر اور یہاں جملہ سہولیات کی فراہمی کے حوالہ سے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا گیا اور ہر ممکنہ کوشش کی گئی کہ منصوبہ کو بہتر انداز میں مکمل کیا جائے، اس منصوبہ پر ایک ارب چار کروڑ روپے لاگت آئی اور�آج جب نئی بلڈنگ آپریشنل ہوچکی ہے تو عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالہ سے درپیش مسائل کافی حد تک کم ہوچکے ہیں ، ہسپتال کی نئی بلڈنگ کی تعمیر کے لئے اگرچہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کام کیا گیا مگر یہاں کچھ خامیاں ایسی موجودہ ہیں جو کہ نہ صرف کافی مشکات کا باعث بن چکی ہیں بلکہ مستقبل میں اس کے بے پنا ہ منفی و مضر اثرات مرتب ہوں گے۔
ہسپتال کی تعمیر میں سنٹرل ویب کیم سسٹم بھی نہیں اور یہاں انٹر کام جیسی عام سی سہولت بھی مہیا نہیں کی گئی جو کہ بہت ضروری ہے ، ہسپتال میں ایم آئی مشین اور سنٹرل اے سی یونٹ بھی ختم کردیا گیا ، یہاں ملازمین ، نرسنگ سٹاف و ڈاکٹروں کی کمی ہے مگر بھرتی کا کوئی بھی سسٹم نہیں بنایا جارہا ، ہر کس و ناکس کو معلوم ہے کہ کسی بھی ہسپتال میں انٹر کام سسٹم مریضوں کی نگداشت اور ان کے بہتر علاج کے حوالہ سے بہت ضروری ہے کیوں کہ اکثر اوقات مریض کی تشویش ناک حالت کے پیش نظر میڈیکل و نرسنگ سٹاف کو بار با ر ڈاکٹروں اور دیگر عملی سے رابطہ کرنا پڑتا ہے اور حاملان حال واقف ہیں کہ اس حوالہ سے رابطہ نہ ہو تو بسااوقات مریض کی جان کو بھی شدید خطرات کاسامنا ہوتا ہے مگر افسوس کی بلڈنگ کی تعمیر میں اس حوالہ سے کوئی خیال نہ رکھا گیا یہی وجہ ہے کہ اس 3منزلہ بلڈنگ میں مریضوں کو موجودہ دور کی سہولیات کے مطابق ٹریٹ نہیں کیا جاسکتا جس کا سدباب ضروری ہے اسی طرح اگر یہاں ویب کیم سسٹم نصب کیا جاتا تو نہ صرف یہ کہ میڈیکل و نر سنگ سٹاف کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکتا تھا بلکہ اس طرح ڈاکٹز حضرات بچشم خود مریضوں کے حال اور حالات سے بھی واقف رہ سکتے تھے، ایم آئی مشین نہ ہونے سے بھی عوام کو شدید مسائل کاسامنا ہے اور سنٹرل اے سے یونٹ ختم کرنا بھی مناسب نہیں مگر کوئی اس سنگین صورتحال پر توجہ دینے کے لئے تیار نہیں، جو کہ لمحہء فکریہ ہے۔
ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے حوالہ سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ بلڈنگ کی تعمیرشروع ہونے کے بعد یہ منصوبہ کچھ عرصی کھٹائی کا شکار رہا، ہر چند کہ ممبران اسمبلی بھی اس سلسلہ میں مصروف عمل رہے مگر ڈی سی او طارق محمود نے از خود توجہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کی توجہ اس صورتحال کی طرف مبذول کروائی جس کے نتیجہ میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے پرچیز آرڈر جاری کردئیے تھے ، ڈی سی او طارق محمود کی یہ خدمات اہل سرگودھا کے لئے کسی احسان سے کم نہیں مگراب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس منصوبہ میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کیا جائے ورنہ یہ معمولی سے نقائص اس منصوبہ کی اہمیت خاک میں ملادیں گے، اس حوالہ سے ہماری آراء ہے کہ ڈی سی او سرگودھا اس منصوبہ کے حوالہ سے اپنے جیسے مخلص و درد دل رکھنے والے افراد کا انتخاب کریں تاکہ یہ منصوبہ اپنی اصل روح کے مطابق پایہء تکمیل تک پہنچ سکے، کیوں کہ ان کی کاوشوں اور خصوصی توجہ سے اگر اس منصوبہ میں پائی جانے والی خامیوں کا ازالہ ممکن ہوسکتا ہے ، بلامبالغہ اگر ان کی کوششوں سے اگر یہ منصوبہ حقیقی انداز میں مکمل ہو تو جب تک یہاں سے دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھا جائے گا، ان کو اس نیکی کا اجرء ملتا رہے گا اور اگر اس حوالہ سے نااہل افراد کا انتخاب کیا گیا اور اس منصوبہ کے لئے بھی کمیشن مافیا کو میدان میں لایا گیا تو یقیناًنہ صرف یہ منصوبہ اپنی افادیت کھو دے گا بلکہ اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی خرابیوں کے باعث متعلقہ افراد کو گناہ جاریہ کی صورت میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، اس حوالہ سے ضلع کے انتظامی سربراہ کی حیثیت سے ڈی سی او طارق محمود پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنی خداداد صلاحتوں کو بروے کار لاتے ہوئے اپنے جیسے نیک، ایمان دار اور دیانتدار افراد کا انتخاب کریں گے اور ہسپتال کی تعمیر میں پائی جانے والی ان خامیوں کو دور کردیں تو یقیناًاس کے ثمرات آئندہ نسلوں تک منتقل ہوں گے اور انہیں بھی صدقہ جاریہ کی صورت میں اس کا ثواب ملتا رہے 

0 comments

Write Down Your Responses