اغیار کی سازشیں اور اتحاد امت کی ضرورت


تحریر : امیر افضل اعوان
نبی کریم ﷺ کے امتی ہونے کا بے مثل تاج سر پر سجانے والے کلمہ گومسلمان آج یہود و نصاریٰ کی سازشوں کا شکار ہو کر اپنی عظمت رفتہ سے یکسر محروم ہوتے اور اسلام دشمن عناصر کے ہاتھوں میں کھلونا بن چکے ہیں ، دنیا میں جہاں بھی نظر ڈالی جائے مسلمان پابہ ذوال نظر آتے ہیں ، کشمیر و فلسطین تو پہلے ہی امت مسلمہ کے رستے ہوئے زخم تھے مگرا ب ان زخموں میں افغانستان، عراق، فلپائن، اریٹریا ، یمن، لیبیا، مراکش اور صومالیہ کے علاوہ ترکی ، مصر، شام اور پاکستان و بنگلہ دیش سمیت دیگر
ممالک کا بھی اضافہ ہوچکا ہے کہ جہاں عملاًسوچی سمجھی سازشوں کے تحت مسلم حکومتوں کو کمزور و بے بس کرتے ہوئے ایک طرف کٹھ پتلی حکمران مسلط کئے جاچکے ہیں تو دوسری جانب مسلم امہ کو معاشرتی، اخلاقی، مذہبی، علاقائی و لسانی بنیادوں کے ساتھ ساتھ رنگ و نسل کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کئے جانے کاسلسلہ پورے زور و شور کے ساتھ جاری ہے، امت مسلمہ کے خلاف گرچہ دشمنانان اسلام روز اول سے مصروف عمل تھے مگر گذشتہ صدی کے آغاز میں یہ صورتحال ایک نیا رخ اختیار کرتے ہوئے مزید مکروہ شکل میں سامنے آگئی اور 1917ء میں برطانیہ اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے مابین طے پانے والے معاہدہ سائیکس، پیکو کے تحت عالم اسلام کی بندر بانٹ کی گئی اور بالشویک انقلاب کے بعد سویت یونین نے وسطی ایشیاء کے مسلمانوں کو نرغے میں لے لیا، دشمنانان اسلام نے ملت کے اند ہی اقتدار کا لالچ دے کر غدار چنے اور تجوریوں کے منہ کھول دئیے۔
اسلام دشمن عناصر نے 57ممالک اور مختصر و متخاصم ریاستوں پر مشتمل عالم اسلام کو آج بھی یر غمال بنا رکھا ہے،مسلم ممالک میں بیرونی مداخلت ہر گزرتے دن کے ساتھ جارحانہ صورت اختیار کرتی جارہی ہے، مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو الگ کرنے کے بعد اب دیگر ممالک میں تقسیم کا زہر بویا جارہا ہے، عراق میں امریکی قبضہ کے بعد فرقہ واریت کا بیج بویا گیا اور آج حالات یہ ہیں کہ شمال میں واقع کرد علاقہ اب ایک الگ ریاست کی حیثیت اختیار کرچکا ہے کہ جہاں پرچم، پارلیمنٹ حتیٰ کہ ایگ کرنسی کی بنیاد رکھی جاچکی ہے، بنگلہ دیش میں 43سال پرانے مردے اکھاڑے رہے ہیں اور 1971ء میں ہونے والے قتل عام کے یک طرفہ مقدمات چلائے جارہے ہیں متعدد افراد کو گرفتار کرکے کئی ایک کو پھانسی، عمر قید یاتاحیات قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں، بھارت اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں حد سے تجاوز کرچکی ہیں اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار جارہا ہے، مارچ2010ء میں ہونے والے مسلم کش فسادات اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہیں جس میں 2ہزار سے زائد مسلمان قتل، 6ہزار سے زائد زخمی اور لاکھوں بے گھر ہوگئے، مصر میں محمد مرسی کی منتخب حکومت کو ایک سال کے قلیل عرصہ بعد آمریت کی بھینٹ چڑھادیا گیا۔
ہمسایہ ملک افغانستان میں امریکی فوجی ملکی قوانین سے بالاتر اور کسی بھی فوجی آپریشن کے لئے مکمل آذاد ہیں، سعودی عرب کی سرحد پر واقع ھوثی قبائل اور حکومت کے مابین سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت لڑائی جاری ہے اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر بیرونی مداخلت بڑھا دی گئی ہے ، پاکستان میں بھی امریکی آزادانہ مداخلت اور نقل و حمل کے ساتھ ساتھ ڈرون گرائے جارہے ہیں جن سے بے گناہ مردوزن اور بچے موت کا شکار ہورہے ہیں دوسری طرف یورپ و امریکہ میں بھی مسلمانوں پر وہ پابندیاں نہیں جو وسط ایشیائی ریاستوں میں عائد کی جارہی ہیں، تاجکستان میں 18سال سے کم عمر نوجوان
مسجد نہیں جاسکتا، بچیاں سر پر دوپٹہ نہیں رکھ سکتیں، مسجد سے باہر بالخصوص دفاتر میں نما ز ادا نہیں کی جاسکتی ور اگر ایسا ہوتو امام پر بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، بھارت کی جیلوں میں مسلمان قیدیوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جارہی ہے جب کہ ان میں سے اکثر 10سے15سال قید بھگتنے ، جیلوں میں سسکنے اور عدالتوں میں گھسیٹے جانے کے بعد بے گناہ قرار دے دئیے جاتے ہیں، امت مسلمہ ابھی بابری مسجد مسمار کئے جانے کے غم سے باہر نہیں آئی کہ گذشتہ برس مسجد اقصیٰ کو شہید کرکے وہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی کئی خطرناک کوششیں کی گئیں۔
تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو بخوبی احساس ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی آمد سے جہاں دنیا جہالت کے اندھیروں سے پاک ہو کر علم و آگہی کے نور سے منور ہوئی وہیں اسلام کی اشاعت وفروغ کے نتیجہ میں کفار کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب سے وابستہ افراد دین حق کی آفاقی تعلیمات اور محمد مجتبیٰ ﷺ کی سیرت طیبہ سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے اس صورتحال کو یہود ونصاری نے اپنی اجارہ داری پر ضرب کاری جانتے ہوئے سازشوں کے جال بجھانے شروع کردئیے ، جس پر ارشاد ربانی نازل ہوا کہ’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ، یہ لوگ (تمہاری مخالفت میں) ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور (دیکھو،) تم میں سے جو کوئی ان کو دوست بنائے گا تو وہ بیشک ان ہی میں سے ہوگا، یقیناً اللہ ظالموں کو راہ (راست) نہیں دکھایا کرتا‘‘ سورۃ المائدہ، آیت51، اس آیت مبارکہ میں دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ’’وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے، قرآن کریم میں اسی حوالہ سے ایک اور مقام پرفرمایا گیاہے کہ ’’ (اے پیغمبر ﷺ!) تم اہل ایمان کے ساتھ عداوت رکھنے میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے ‘‘ سورۃ المائدہ، آیت 42، غور فرمائیے کہ اگر خود خالق کائنات یہودو نصاریٰ کو مسلمانوں کا دشمن قرار دے رہا ہے تو کیا ان سے بھلائی کی کوئی امید رکھی جاسکتی ہے۔
بلاشبہ یہودو ہنود مسلمانوں سے ازلی دشمنی رکھتے ہیں اور تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ انہوں نے مسلم دشمنی میں کبھی بھی کوئی ضابطہ ء اخلاق بھی سامنے نہیں رکھا اور اس میدان میں اسلام کی آفاقی تعلیمات سے خوفزدہ ہرکرحد سے گزرتے جارہے ہیں اور ہماری بدقسمتی یہ کہ ہم ان سازشوں اور چالوں کو سمجھ کر ان کا سدباب کرنے کی بجائے ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے ان کے حاشیہ بردار بنے ہوئے ہیں اور وہ ہماری مذہبی، اخلاقی و معاشرتی سرحدوں کو غیر محفوظ بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ دشمنانان اسلام کی ریشہ دورانیوں کے مقابل سیسہ پلائی دیورا بن کر کھڑی ہوجائے اور بلاجواز باہمی اختلافات کاخاتمہ ممکن بناتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہوجائے ورنہ اغیار کے یہ بڑھتے ہوئے قدم ہمارے گھروں تک پہنچ چکے ہیں اور اگر ہم اب بھی بیدار نہ ہوئے تو سوچئے کہ
ہم کس منہ سے اپنے خالق و مالک اور اپنے پیارے رسول ﷺ کا سامنا کریں گے اور یہ بھی ذہن میں رکھاجانا چاہئے کہ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو دنیا میں ذلت ورسوائی ہمارا مقدر بن جائے گی جس کے نتیجہ میں ہماری آئندہ نسلیں بھی غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں گی اور ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

0 comments

Write Down Your Responses