میرپورخاص ڈویزن سمیت سندھ میں افغان باشندوں کی آمد کا سلسلہ جاری

میرپورخاص ( ایم وی این نیوز بیورورپورٹ) میرپورخاص ڈویزن سمیت سندھ میں افغان باشندوں کی آمد کا سلسلہ جاری میرپورخاص ڈویزن میں بیس ہزار سے زائد افغان باشندوں کی موجودگی کا اطلاع جبکہ افغان باشندوں سمیت خطرناک دھشتگرد، منشیات فروش اور دیگر جرائم پیشہ افراد نے میرپورخاص ڈویزن کے مختلف شہروں اور گاؤں گوٹھوں میں پناھ لی ہوئی ہے شہروں میں جوتے پالش کرنے، چائے کے ھوٹل چلانے سے لیکر مختلف کاروبار کرتے ہوئے نظر آنے والے ان افراد کی کوئی بھی شناختی ڈیٹا موجود نہیں ہے اگر موجود ہے تو نادرا کی جانب سے دیئے جانے والے کارڈز کی طریقیکار موثر نہیں ہے ۔ قانوں نافذ کرنے والے اداروں ، سندھ حکومت اور پولیس کی جانب سے افغان باشندوں اور دیگر غیر متعلقہ افراد کی انکوائری کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کی ہوئی۔ غیر متعلقہ افراد کی میرپورخاص شہر سمیت ڈویزن کے مختلف علائقوں میں آمد کی اطلاع پر ایوان صحافت میرپورخاص کی جانب سے جب سروے کیا گیا تو ہزاروں کی تعداد میں افغانی باشندے جن کو مقامی افراد کا تعاون حاصل ہے وہ آچکے ہیں اور مختلف قسم کا ظاہری کام کر رہے ہیں جس میں لنڈے کا کپڑے اور جوتے کے دوکانداری کا کام، چائے کے ھوٹلوں کا کام جوتے پالش کرنے ، مختلف خشک میواجات کی فروخت کرتے ہوئے نظر آرھے ہیں اور اسکے علاوہ ٹرک کے اڈوں سے لیکر دیگر کاروبار میں مصروف یہ، گاؤں گوٹھوں میں کپڑے فروخت کرنا، چائنہ کے ریڈیو، ٹیپ ِ گھڑیا ں اور دیگر اشیاء فروخت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور جبکہ شہری آبادی میں موٹر سائکلوں کے شوروم سود اور اودھار پر گھریلو آلات کی فراھمی کے دکان لگائے ہوئے ہیں اور سرعام سود پر پئسے دے رہے ہیں اور اینٹوں کے بٹھوں سے لیکر دیگر مزدوری کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ان افراد کے ظاہری کام کے ساتھ ساتھ یہ افراد چرس، ھیروئن، ناجائز اسلح سے لیکر دیگر خطرناک کام بھی کرتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ شہروں کے بیچوں بیچ یہ لوگ کام کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ان حضرات سے آج تک کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے پولیس کے اھلکار نے پوچھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ میرپورخاص شہر کے مدھو شاھ پاڑا، میر کالونی، رحیم نگر، عالم ٹاؤن، گلشن کالونی میں مکلمل طور پر افغان باشندے اپنے گھر اور پلاٹ خرید کر یہاں رہائش پذیر ہیں۔ اسی طرح سے شاہی واٹر، بروھی ھوٹل ، کھان، مٹھی، ڈگری، بدین، جھڈو، نوکوٹ، سانگھڑ، کھپرو، ، سندھڑی، کنڈیاری، ٹنڈو �آدم کھپرو، پھلڈیوں، اور دیگر سندھ کے چوٹے بڑے شہروں میں یہ لوگ آچکے ہیں اور تیزی سے انکی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ شہریوں نے ایوان صحافت میرپورخاص کی ٹیم کو افغان باشندوں کی آمد سمیت بڑی تعداد میں غیر متعلقہ افراد کی میرپورخاص شہر سمیت ڈویزن اور سندھ کے دیگر علائقوں میں آمد پر سخت تفشیش ظاہر کرتے ہوئے بتایا ۔کہ افغان باشندوں اور غیر متعلقہ افراد کی بڑی تعداد میں آمد سندھ میں اب کراچی ، پشاور، کوئٹہ اور دیگر علائقوں کی طرح خطرے کی ایک گھنٹی ہے سندھ ایک وسیع دل رکھنے والے لوگوں کی آبادی کا صوبہ ہے جس میں رھنے والے سب سے پہلے پاکستانی ہے پھر کسی ذات پات اور مذھب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پشاور، کوئٹہ سمیت خیبر پختوں خواھ، بلوچستان اور کراچی کے حالات کو دیکھنے کے بعد وہ بہت زیادہ خوف زدہ ہیں اس قسم کے افراد کی تیزی سے آمد اور کاروبار مذدوری کی آڑ میں آھستہ آھستہ یہاں کا بھی ماحول تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک صاحب نے تو سندھ کے مشہور صوفی بزرگ فقیر عبدالرحیم گرھوڑی کے شعر۔ \"جڈھن کڈھن سندھڑی دوکو توکی قابل کندھار ماں \" جس کا مطب سندھ کو ایک عظیم دوکا افغانستان کے علائقے قابل کندھار کے رھنے والے باشندوں سے ہوگا اور وہ قبضہ کرنے کی کوشش کرینگے اور بڑے پیمانے پر سندھ میں قتل عام کرینگے۔ میرپورخاص کی باشعور عوام نے صدر وزیر اعظم، وفاقی وزیر داخلہ ، وزیر اعلیٰ سندھ سے اپیل کی ہے کہ میرپورخاص ڈویزن میں فوری طور پر غیر متعلقہ افراد کی آمد اور ہیاں کاروبار کرنے اور رہائش پذیر افراد کی مکمل انکوائری کرنے اور انکی نقل وہ حرکت پر نظر رکھنے کا مطالبہ کیا ہ

0 comments

Write Down Your Responses