اسلام آباد میں وزیر اعظم یوتھ بزنس لون پروگرام کا افتتاح

اسلام آباد(انویسٹی گیشن ٹیم) وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے آج تک اگر کسی چیز میں نام کمایا تو صرف کرپشن میں کمایا لیکن ہم ایسا نظام لائیں گے جس سے کوئی کرپشن کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکے گا۔
اسلام آباد میں وزیر اعظم یوتھ بزنس لون پروگرام کے افتتاح کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ نوجوانوں کو اس پروگرام کے تحت قرضے مکمل میرٹ پر دیئے جائیں گے جنہیں استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں نے محنت کرکے پیسے کمانا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جو باتیں انتخابات سے پہلے جو بات کی تھی حکومت پچھلے 5 مہینوں میں انہیں پورا کرنے کی پوری کوشش کی تاہم اب بھی ہمیں آگے بہت کچھ کرنا ہے جو عوام کی مدد اور تعاون سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل ہم نے جو بھی وعدے کئے وہ عوام کے دکھ درد کو سامنے رکھ کر کئے تھے، میں انتخابات سے قبل ملک میں بیروزگاری دیکھ کر پریشان ہوتا تھا اور ملک میں نوجوانوں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور نوجوان ہی ملکی معیشت کو بلندی کی جانب لے جاسکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ملک کے حالات نے ان کے ٹیلنٹ کو ماند کردیا ہے، آج ملک کے کروڑوں نوجوانوں کو کوئی ایک روپیہ بھی قرض دینے کے لئے تیار نہیں اور اس طرح نوجوانوں کو بے یارہ مددگار دیکھ کر دکھ ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ پروگرام یہی سوچھ کر شروع کیا کہ جب لوگوں کو اربوں روپے کے قرضے ملتے ہیں تو نوجوانوں کا کیا قصور اور اس پروگرام کو وہ تمام لوگ سپورٹ کریں گے جو چاہتے کہ پاکستان میں خوشحالی آئے اور ملک ترقی کرے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں بڑے اداروں کو نیشنلائز کیا گیا جس نے ملکی معیشت تباہ کردی لیکن وہی ادارے جو اربوں روپے کے خسارے کا سبب بن رہے تھے آج نجکاری کے بعد دوبارہ اربوں روپے کا فائدہ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اداروں کے خسارے پورے کرتی رہے بلکہ حکومت کا کام عوام کے جان ومال کا تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان اقتصادی لحاظ سے پوری دنیا سے پیچھے ہے جس کی بڑی یہی ہے کہ ملک کے نوجوانوں کو کبھی مواقع فراہم نہیں کئے گئے جبکہ اگر نظر ڈالی جائے تو جرمنی، جاپان، کوریا جیسے ممالک کی معیشت کا انحصار دراصل نوجوانوں پر ہی ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ امریکا کے دورے میں بھی امریکی صدر اور ان کے وزرا نے ان سے کئی بار پوچھا کہ آپ بتائیں کہ ہم پاکستان کے لئے کیا کرسکتے ہیں، کس طرح مدد کرسکتے ہیں جس کے جواب میں انہوں نے ان سے کہا کہ ہم کشکول لے کر نہیں آئے، ہم امداد نہیں ٹریڈ چاہتے ہیں اور آپ ہماری مصنوعات کو پنی منڈیوں تک رسائی دے۔ لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں پتا کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کس طرح کم ہوگئی، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 500 ارب کے گردشی قرضے کس طرح ادا کئے لیکن عوام کو اس حوالے سے حوصلہ رکھنا ہوگا کیونکہ ملک سے بجلی کے مسئلے کو ختم ہونے ابھی 3 سے 4 سال لگیں گے۔ انہوں نے ملکی مسائل کے حوالے سے کہا کہ کراچی میں امن وامان قائم کرنے کے لئے جو ٹارگٹڈ آپریشن آج کیا جارہا ہے وہ آج سے 5 یا 10 سال پہلے کیوں کیا گیا، پچھلی گزشتہ حکومتوں نے بجلی کے پلانٹس کیوں نہیں لگائے، آج گرین پاسپورٹ کی دنیا میں کہیں عزت نہیں لیکن ہم اس کی عزت کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دنیا میں اگر کسی چیز میں نام کمایا تو صرف کرپشن میں لیکن اب کرپشن نہیں ہوگی اور ہم اس طرح کا نظام لائیں گے کہ کوئی کرپشن کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکے گا۔

0 comments

Write Down Your Responses