بھر پور پیداوار کے حصول کیلئے فصل کو مختلف بیماریوں کے حملہ سے محفوظ رکھیں

بہاول پور ( انویسٹی گیشن ٹیم) نظامت زرعی اطلاعات پنجاب نے آلو کے کاشتکاروں کو سفارش کی ہے کہ وہ بھر پور پیداوار کے حصول کیلئے فصل کو مختلف بیماریوں کے حملہ سے محفوظ رکھیں۔ تنے اور آلو کا کوڑھ کی بیماری سے پودے کے متاثرہ حصے سیاہ ہو جاتے ہیں جبکہ شدیدحملہ کی صورت میں پودا مر جاتا ہے۔آلو کا سوکا / مرجھاؤ کی بیماری کے جراثیم متاثرہ آلو کے بیج اور زمین میں پائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات پودے اگتے ہی نہیں یا اگتے ہی مرجھا جاتے ہیں جبکہ مرض کی شدت میں جڑیں گل سڑ جاتی ہیں، یہ بیماری پودے پر کسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتی ہے۔ آلو کے اگیتا جھلساؤ کی بیماری کے حملہ سے متاثرہ پتے مڑمڑا کر سوکھ جاتے ہیں ، بعض اوقات بیماری سے تنے اور ڈنٹھل بھی متاثر ہوتے ہیں ۔آلو جسامت میں چھوٹے رہ جاتے ہیں اور زیادہ دیر تک رکھنے کے قابل نہیں رہتے۔ فضا میں نمی کا تناسب بڑھنے اور درجہ حرارت کم ہونے سے فصل پر پچھیتا جھلساؤ کی بیماری حملہ آور ہوتی ہے جس سے پتوں پر نمدار ٹیڑھے دھبے نظر آتے ہیں جو فوراً زردی مائل ہو کر تمام پودے پر پھیل جاتے ہیں ۔ وبائی حملہ کی صورت میں اگر فوراً سد باب نہ کیا جائے توساری فصل ایک دو دن میں تباہ ہو جاتی ہے۔ موزیک کی بیماری پتے کے اوپر نیچے دونوں حصوں پر ظاہر ہوتی ہے جس سے پتوں پر شکنیں پڑ جاتی ہیں۔ آلو کے پتہ لپیٹ وائرس کے حملہ سے پودے کے متاثرہ پتے اکڑ جاتے ہیں، کنارے اوپر کو مڑ کر درمیانی رگ کے ساتھ گول ہو جاتے ہیں اور پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔ مائیکو پلازما کی بیماری پودے کو دو طرح سے نقصان پہنچاتی ہے ۔ پہلی قسم میں پودے قد میں چھوٹے رہ جاتے ہیں ، تنوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے، پتے چھوٹے اور اوپر کی جانب مڑ جاتے ہیں۔ دوسری قسم میں پودوں کا قد بہت بڑا ہو جاتا ہے، آلوؤں کی تعداد زیادہ لیکن سائز چھوٹا رہ جاتا ہے۔ آلو کی فصل کو ان مختلف بیماریوں کے حملہ سے محفوظ رکھنے کیلئے جڑی بوٹیوں کی تلفی کریں جبکہ شدید حملہ کی صورت میں کیمیائی تدارک کیلئے زہروں کا سپرے محکمہ زراعت (توسیع و پیسٹ وارننگ) کے مقامی فیلڈ عملہ کے مشورہ سے کریں۔ 

0 comments

Write Down Your Responses