ٹیکسٹائل پروسیسنگ یونٹس میں ٹریٹمنٹ پلانٹس کی عدم تنصیب پر فیکٹریاں بند کر دینے کے نوٹسز صنعتی امن کو تباہ کر دیں گے،خالد حبیب شیخ

فیصل آباد (سلیم شاہ ،چیف انوسٹی گیشن سیل)پنجاب اسمبلی میں مذموم قرار داد پاس ہونے پر محکمہ ماحولیات کی جانب سے فیصل آباد کے ٹیکسٹائل پروسیسنگ یونٹس کو ٹریٹمنٹ پلانٹس کی عدم تنصیب پر فیکٹریاں بند کر دینے کے نوٹسز صنعتی امن کو تباہ کر دیں گے، ٹیکسٹائل انڈسٹری پچھلی ایک دہائی سے سخت مسائل سے دو چار ہونے سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی پروڈکشن اور اسکی ایکسپورٹ کا گراف کافی نچلی سطح پر آ گیا ہے۔ ایسے حالات میں اس طرح کے نوٹسز صنعتوں کے لئے مناسب نہیں کیونکہ ٹریٹمنٹ پلانٹ اپنے حجم اور قیمت کے باعث کسی فیکٹری کے لئے لگانا ممکن ہی نہیں، جبکہ فیصل آباد کے تمام پروسیسنگ اداروں نے اپنے طور پر ایسے سسٹم بنا رکھے ہیں،جہاں سے سے نکلنے والا 90فیصد پانی قابلِ استعمال ہو کر ڈسپوزل اسٹیشن کی طرف جاتا ہے ۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان کو حقائق کا علم ہی نہیں ، آنکھیں بند کر کے اُنہوں نے صنعتی اداروں کے خلاف قرارداد منظور کر لی۔ ان خیالات کا اظہار ریجنل چئیرمین آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن خالد حبیب شیخ نے اپٹپما ہاؤس میں جنرل باڈی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی بھی محکمہ کے لئے حقائق سے نظریں چُرانا بہتر نہیں ہوگا۔ محکمہ ماحولیات کو بھی علم ہے کہ کوئی ٹیکسٹائل یونٹ کروڑوں روپے کا پلانٹ نہیں خرید سکتا اور نہ ہی اس کو لگانے کے لئے کسی فیکٹری میں جگہ موجود ہے اور نہ ہی اس کی ورکنگ لاگت قابلِ برداشت ہے۔ اس کا ایک ہی بہترین حل ہے جس کی طرف بارہا توجہ دلائی جا چُکی ہے ، مگر اس طرف کسی کا دھیان نہیں، اُنہوں نے کہا کہ فیکٹریوں کا استعمال شُدہ پانی جس مین ڈسپوزل اسٹیشن پر جمع ہوتا ہے وہاں گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کر ے ۔ اس اقدام سے ٹیکسٹائل اداروں کو بے جا اُلجھنوں سے نجات ملے گی اور وہ اپنی تمام تر توجہ کاروبار میں لگا کر ٹیکسٹائل مصنوعات کی ایکسپورٹ میں اضافہ کر سکیں گے جس سے ملکی معیشت کو استحکام حاصل ہوگا۔ پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والی قرارداد بھی یکطرفہ عمل ہے جس میں بدنیتی کا عنصر شامل ہے اور یہ کسی بڑی سازش کا حصہ دکھائی دیتی ہے، جس میں کسی ایک پہلو کو اُجاگر کر کے اسے منظور کروایا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری بیوروکریسی میں لکیر پر لکیر کا عمل اس حد تک بڑھ چُکا ہے کہ آج 66برس گز ر جانے کے باوجود ہم لوگ دائروں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ ٹیکسٹائل اداروں کا استعمال شُدہ پانی صاف ہو کر ڈسپوزل اسٹیشن کی طرف جاتا ہے جہاں سے جا کر وہ ڈرین میں گرتا ہے اور یہ پانی فصل کی کاشت کے قابل ہوتا ہے تو لوگ اسے اپنی فصلوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں واقع ٹیکسٹائل پروسیسنگ ادارے جہاں سیوریج کی مد میں کثیر اخراجات ادا کرتے ہیں وہیں زمین سے پانی نکالنے پر علیحدہ چارجز واسا کو دینا پڑتے ہیں ۔ دُہرے اخراجات کے بعد انہیں ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لئے مجبور کرنا غیر اخلاقی اور غیر منصفانہ ہے۔ محکمہ ماحولیات کی جانب سے وقتا فوقتا نوٹسز کا اجراء صنعتکاروں کے لئے ٹینشن کے سوا کچھ نہیں ۔ حکومتِ پنجاب کوچاہیے کہ وہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کے مالکان اور پنجاب اسمبلی میں مذموم قرار داد پیش کرنے والوں کو آمنے سامنے بٹھا کر مناظرہ کر وائیں تاکہ حقائق بھی سامنے آئیں اور مذموم سازشوں سے بھی پردہ اُٹھے۔ پنجاب حکومت فیصل آباد میں مشترکہ ٹریٹمنٹ پلانٹ فیصل آباد سے گزرنے والی دو ڈرینز ،مدھوآنہ اور پہاڑنگ پر لگا کر مسائل کو حل کرے جو کہ پنجاب حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اجلاس میں شیخ محمد امجد، رضوان اشرف، اور محمد سعید شیخ نے بھی پنجاب اسمبلی کی مذموم قرار داد پر اظہارِ خیال کیا۔

0 comments

Write Down Your Responses