اللہ پا ک نے پاکستان کو ایک عظیم دریائی نظام جوسالانہ 13کروڑ78لاکھ ایکڑفٹ پانی لاتاہے

سرگودھا (بیورو رپورٹ) زرعی سا ئنسدا نوں کا کہنا ہے کہ اللہ پا ک نے پاکستان کو ایک عظیم دریائی نظام جوسالانہ 13کروڑ78لاکھ ایکڑفٹ پانی لاتاہے اورساتھ ایک آپیاشی کا نظام بھی عطاکیاجودنیامیں عظیم ترین مربوط نظام ماناجاتاہے پاکستان میں پورے سال کا83فیصدپانی یعنی11کروڑ47لاکھ ایکڑفٹ پانی صرف موسم گرمامیں آتاہے اورباقی6مہینوں کے موسم سرمامیں صرف17فیصدیعنی 2کروڑ31لاکھ فٹ پانی ہوتاہے کیونکہ ہمارے دریاؤں کے پانی کابڑاحصہ یعنی85فیصدزراعت کیلئے استعمال ہوتاہے موسم گرمافصل خریف میں دریاؤں میں11کروڑ41لاکھ ایکڑفٹ کے مقابلہ میں زراعت کی ضرورت 7کروڑ91لاکھ ایکڑفٹ ہوتی یعنی 3کروڑ50لاکھ ایکڑفٹ پانی ضرورت سے ز یا د ہ ہوتاہے اور اس کا زیادہ حصہ سیلابوں کی شکل میں سمندر میں جاگرتاہے لیکن موسم سرمافصل ربیع میں حالت مختلف ہوجاتی ہے اس موسم میں دریاؤں میں2کروڑ31لاکھ ایکڑفٹ پانی میسرہوتاہے لیکن زراعت کی ضرورت 3کروڑ82لاکھ ایکڑ فٹ ہوتی ہے یعنی 1کروڑ51لاکھ ایکڑفٹ پا نی کی کمی ہوتی ہے اس ناہموارپانی کی دستیابی اورضروریات میں فرق سے2نتائج برآمدہوتے ہیں ضرورت سے ز یا د ہ پا نی سے سیلا ب بنتے ہیں اس صورتحا ل سے نمٹنے کیلئے بڑے ڈیموں کی تعمیراشد ضروری ہے ان کا کہنا ہے کہ موجود ہ صورتحال کے مطا بق حکمت عملی تیا رکرناوقت کا تقاضاہے سمندربردہونے وا لی پانی کی قیمت بین الاقوا می تخمینہ کے مطا بق 7ارب ڈا لر ہے ا گریہ بچالیاجا ئے توپاکستان کی معیشت کو ہر حو الہ سے فائد ہ پہنچ سکتا ہے مو جو د ہ حکو مت ڈیموں کی تعمیراورزراعت کی بہتر ی کیلئے جو اقداما ت کر رہی ہے ا س کے دورس نتا ئج برآمدہوں گے 

0 comments

Write Down Your Responses