پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جیز ایم او) کی گزشتہ روز لاہور میں واہگہ بارڈر پر چودہ سال بعد ملاقات ہوئی جس میں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر برقرار رکھنے پر اتفاق

لاہور(انویسٹی گیشن ٹیم)  پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جیز ایم او) کی گزشتہ روز لاہور میں واہگہ بارڈر پر چودہ سال بعد ملاقات ہوئی جس میں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا۔
ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت پاک فوج کے ڈی جی ایم او میجر جنرل عامر ریاض جبکہ بھارتی وفد کی قیادت بھارتی فوج کے ڈی جی ایم او لیفٹننٹ جنرل ونود بھاٹیا نے کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات خوشگوار، مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی، دونوں ڈی جیز ایم او نے کنٹرول لائن پر جنگ بندی برقرار رکھنے اور سیز فائر معاہدے کے احترام کے عزم کا اظہار کیا، ملاقات میں طے پایا کہ اعتمادسازی کے موجودہ میکنزمز کو برقرار رکھا جائے گا اور انھیں مزید تقویت دی جائیگی۔ ڈی جیز ایم او کے درمیان ہاٹ لائن رابطے کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ غلطی اور نادانستگی سے کنٹرول لائن پار کرنیوالے شہریوں کے بارے میں ایک دوسرے کو فوری اطلاع دی جائیگی تاکہ ان کی واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس ملاقات کی مثبت روح کو آگے بڑھانے کیلیے اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بریگیڈ کمانڈرز کی مستقبل قریب میں دو فلیگ میٹنگز ہونگی تاکہ کنٹرول لائن پر امن برقرار رکھا جا سکے۔
دونوں اطراف نے کنٹرول لائن پر جنگ بندی اور امن برقرار رکھنے کیلئے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق پاک بھارت ڈی جی ملٹری آپریشنز کی ملاقات کا فیصلہ سیاسی سطح پر ہوا۔دونوں ڈی جیزایم او نے سیز فائر معاہدہ کو مزید موثر بنانے کا جائزہ لیا تاکہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی کم ہو۔ دونوں ملک کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر معاہدے کو برقرار رکھنے پر متفق ہوگئے ہیں اور موجودہ طریقہ کار کے مطابق ہی اس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا،مشترکہ اعلامیے میں وہی امور شامل کیے گئے جن پر اتفاق تھا جبکہ پاکستان نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (سیاچن) پر بھی سیز فائر پر زور دیا ہے۔ قبل ازیں میجر جنرل عامر ریاض نے واہگہ بارڈر پر بھارتی وفد کا خیر مقدم کیا اور انھیں پھول پیش کیے، دونوں وفود کی ملاقات واہگہ بارڈر پرکانفرنس روم میں ہوئی، میجر جنرل عامر ریاض نے بھارتی وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔
پاکستانی وفد میں شامل دو بریگیڈیئر اور دو کرنل جبکہ بھارتی وفد میں دو بریگیڈیئر اور تین کرنلز نے مذاکرات میں معاونت کی۔ آئی این پی کے مطابق دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی ملاقات میں پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں دیوار قائم کرنے کے حوالے سے اپنے موقف کے بارے میں بتایا اور بلا اشتعال بھارتی فائرنگ سے پاکستان میں ہونیوالے جانی اور مالی نقصان کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ملاقات کے بعد وطن واپس پہنچنے پر بھارت کے ڈی جی ایم او ونود بھاٹیا نے کہا کہ ان کی پاکستانی ہم منصب سے دوستانہ ماحول میں تفصیلی اور مفید بات چیت ہوئی۔ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف)کا13رکنی وفد ڈائریکٹر جنرل شری سبھاش جوشی کی قیادت میں پانچ روزہ دورے پر لاہور پہنچ گیا۔ گزشتہ روز واہگہ پہنچنے پر ڈی جی رینجرز میجر جنرل طاہر جاوید خان نے وفد کا استقبال کیا۔ آئی این پی کے مطابق پاکستان رینجرز اور بی ایس ایف کے وفود کے درمیان رینجرز ہیڈکوارٹرز میں مذاکرات کے دوران بارڈر سکیورٹی فورسز کے امور اور خصوصا غلطی سے سرحد پار کرنیوالے افراد کی واپسی پر بات چیت کی گئی۔
رینجرز نے بارڈر پر بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ‘ غیر قانونی تعمیرات اور منشیات کی سمگلنگ پر شدید احتجاج کیا اور بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ نہ صرف بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ بند کرے بلکہ غیر قانونی تعمیرات اور منشیات کی سمگلنگ بھی روکی جائے۔ بھارتی ہیلی کاپٹرز اور جاسوس طیاروں کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی‘ بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ بھارتی وفد28 دسمبر تک لاہور میں قیام کریگا، اس دوران دونوں وفود کے درمیان مزید ملاقاتیں بھی ہونگی۔

0 comments

Write Down Your Responses