بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے لئے ووٹنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے جو شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔

کوئٹہ(انویسٹی گیشن ٹیم) بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے لئے ووٹنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے جو شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔
بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ اسٹیشنز، بیلٹ پیپرز اور سیکیورٹی معاملات کو حتمی شکل دی جاچکی ہے اور پولنگ کا تمام سامان سخت سیکیورٹی میں پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچایا جاچکا ہے۔ بلوچستان کے 32 اضلاع میں 8 سال بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں 7190 نشستوں میں سے 2507 نشستوں پر امیدوار سیٹ ایڈجسمنٹ کی وجہ سے بلامقابلہ ہی منتخب ہوجائیں گے جبکہ صوبے کے 34 لاکھ ووٹرز آج اپنے ووٹ کے ذریعے 4168 نشستوں پر لڑنے والے 18 ہزار امیدواروں کی جیت اور ہار کا فیصلہ کریں گے تاہم 500 سے زائد نشستیں ایسی بھی ہیں جہاں امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی فارم ہی جمع نہیں کرائے۔
انتخابات کے لئے صوبے میں 5 ہزار 305 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں جن میں سے 2 ہزار 776 کو انتہائی حساس، ایک ہزار 581 کو حساس جبکہ 958 کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔ انتخابات کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور تمام پولنگ اسٹیشنز پر پولیس کے 19 ہزار 322 اہلکار، لیویز کے 11 ہزار 123، بلوچستان کانسٹیبلری کے 2 ہزار اور ایف سی کے 16 ہزار 321 اہلکاروں سمیت پاک فوج کے 5 ہزار 325 جوان تعینات ہوں گے۔
سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے آج عام تعطیل کا اعلان کر رکھا ہے، جمعہ سے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے جو 10 دسمبر تک جاری رہے گی جبکہ حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے موقع پر صوبے بھر میں دفعہ 144 کا بھی نفاذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب ہرنائی اور ڈیرہ اللہ یار میں انتخابی فہرستوں میں رودو بدل کے خلاف سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا جس کے باعث پولنگ کا سلسلہ شروع نہ ہو سکا۔ مچھ اور مستونگ میں بھی انتخابی فہرستیں اور عملہ نہ پہنچنے کے باعث پولنگ شروع نہیں ہوسکی۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ناصر الملک بھی بلوچستان کے دورے پر ہیں جو مختلف پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ بھی کریں گے اور انہیں  پولنگ کے عمل سے متعلق بریفنگ بھی دی جائے گی۔

0 comments

Write Down Your Responses