حکومت پاکستان وعدے کے مطابق قومی اسپورٹس پالیسی پر نظر ثانی کی رفتار اوراس حوالے سے حتمی تاریخ سے آگاہ کرے

کراچی(انویسٹی گیشن ٹیم) آئی او سی نے انٹرنیشنل اسپورٹس فیڈریشنز سے الحاق شدہ 36 پاکستانی فیڈریشنز کی حیثیت اور نمائندوں کی تفصیل ارسال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل(ر) سید عارف حسن کی زیرسربراہی پی او اے کو معمول کے مطابق کام کرنے دیا جائے۔
حکومت پاکستان وعدے کے مطابق قومی اسپورٹس پالیسی پر نظر ثانی کی رفتار اوراس حوالے سے حتمی تاریخ سے آگاہ کرے،آئی او سی کے این او سی ریلیشنز ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر پیرو میرو کی جانب سے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض الدین اورحکومتی نمائندے  وفاقی سیکریٹری فریداللہ خان کو ای میل ارسال کی گئی، اس میں کہا  گیا کہ 4 اکتوبرکو  ہمارے ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والے اجلاس کی روشنی میں  بھر پور تحقیقاتی انداز میں مرتب کردہ فہرست  پی اواے کی قانونی حیثیت میں معاون و مددگار ثابت ہوگی،پی او اے کی ارکان فیڈریشنزکے حوالے سے ہر قسم کا شک و شبہ بھی ختم ہو جانا چاہیے اوراسے طرفین قبول بھی کر لیں،آئی او سی کا کہنا ہے کہ اس اصول کے تحت پی او اے کو معمول کے مطابق کام کرنے کا موقع ملے گا جس میںاپنے دفتر اوربینک کے حسابات تک رسائی بھی شامل ہے،اس فریم ورک کے تحت تمام طرفین کو  قومی اولمپک ایسوسی ایشن  کے کسی بھی فیصلے کو قابل عزت جان کر قبول کرنا ہوگا،اسے چیلنج بھی نہیں کیا جاسکے گا جبکہ اس عمل کے ذریعے آئی او سی نے پاکستانی تنازع میں اپنا کردار مکمل کرلیا۔
مزید براں لوزانے میں ہونے والے اجلاس میں یہ بھی طے پایا تھا کہ حکومت پاکستان قومی اسپورٹس پالیسی میں پائے جانے والے چند اختلافی ایشوز  پر فوری نظر ثانی کرے گی، ان کو آئی او سی نے 2012 میں  واضح طور پر بیان کرکے وقتاً فوقتاً یاد دہانی بھی کرائی کہ اولمپک تحریک کی حاکمیت اور بنیادی اصولوں کے تحت پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، چنانچہ حکومت پاکستان اس حوالے سے حتمی تاریخ سے آگاہ کرے، دریں اثنا ذرائع کے مطابق آئی او سی کی جانب سے ارسال کی جانے والی فہرست میں3 انٹرنیشنل فیڈریشنز اس کی نمائندہ نہیں ہیں، ان میں کبڈی، جوجسٹو اور باڈی بلڈنگ شامل ہیں، دوسری جانب تسلیم کردہ پی اواے کے حلقوں کا دعویٰ ہے کہ 35 میں سے 22 قومی فیڈریشنز کا اس کے ساتھ الحاق ہے،3 فیڈریشنزمعطل ہیں ان میں بیڈمنٹن، باسکٹ بال اورگھڑ سواری شامل ہیں،ادھر پی ایس بی کے تحت کام کرنے والی  پی او اے کے حلقوں کا بھی دعویٰ ہے کہ  22 قومی فیڈریشنز ان کے ساتھ ہیں

0 comments

Write Down Your Responses