اب بس کر دو بس


تحریر: صفدرعلی حیدری
یہ عید بھی عید کب تھی؟ ۔۔۔۔غم کی نوید تھی ۔۔۔۔سنگین تھی سو خون سے رنگین ہوئی۔کسی کا خون بہا تو کسی کی آنکھ ۔قوم کی دعائیں پھررد ہو گئیں ۔کاش یہ قوم واقعی قوم ہوتی تو دعاؤں سے ایسا سلوک کبھی نہ ہوتا۔یہ تو ایک ہجوم ہے جسے غلطی سے عوام کہہ دیا جاتا ہے۔اور ہجوم توصرف دھکے دیتا یا پھر دھکے کھاتا ہے ۔آپ نے بھی بارہا یہ فلمی سین دیکھا ہو گاجس میں کوئی ہیرو جب بد معاشوں کے نرغے میں آتا ہے تو 
با لکل اسی طرح مار کھاتا ہے جیسی پاکستانی ہجوم مار کھا رہا ہے۔کیا قیامت ہے کہ خوشی کے دن بھی دکھ کی چادر اوڑھ کر آتے اور ’’قوم‘‘ کو بار بار رلاتے ہیں۔چھوٹی عید بھی اس تاثر سے خالی نہیں گزری ۔ کتنی بڑی مصیبت لائی تھی کہ میرے وسیب کے پر امن اور نہتے لوگوں کو لوگوں کو شناختی کارڈ دیکھ دیکھ کر تہہ تیغ کر دیا گیا۔وہی وسیب جو مجھے ہمیشہ کسی نشیب سے کم نہیں لگاکہ جہاں کے باسیوں نے سداالٹی گنگا بہتے دیکھی ہے ۔اور وہ کچھ یوں کہ یہاں کے دریا ریت اگلتے ہیں یا سیلاب۔ ’’زرخیز‘‘ زمینیں بھوک اگلتی ہیں یا محرومیاں ۔سو زبانیں مایوسی اگلتی ہیں یا بے بسی ۔ اس کے ازالے کے لئے پھر سے نئے خواب ملتے ہیں جو سراب ہوتے ہیں۔۔نرے عذاب ۔۔۔اوراذیتیں قدم قدم پر گھائل کرتی ہیں تو اس تکلیف سے نجات دلانے والے مسیحاکی صورت تک دکھائی نہیں دیتی ۔وطن عزیز میں جاری قتل و غارت گری موجودہ عہد کا ایک عظیم المیہ ہے جسے روکنے کی سعی کبھی کی ہی نہیں گئی ۔ہوئی بھی تو کامیاب نہیں رہی ۔اور یقیناًیہ اس دھرتی کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔ایک ایسا المیہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے عظیم ترین فتنے کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔آدم زادکی ستم ظریفی دیکھئے کہ اسے دہشت گردی سے بچانے والے نام نہاد مسیحاؤں نے اصلاحِ احوال کے نام پر دہشت گردوں سے کہیں زیادہ گھناؤنا اور مکروہ کھیل کھیلا ہے ۔سچ ہی تو کہا ہے کسی نے کہ 
( قائم ہے اک روایتِ دیرینہ ظلم کی بازو بدل گئے کبھی خنجر بدل گئے )
ظالم بھیس بدل بدل کر آتے ہیں اور کاری وار کر جاتے ہیں ۔وہ جاتے ہیں تو ان کا کوئی اور وارث انکی جگہ لے لیتا ہے اوراپنے اجداد تک کو شرمانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔ظالم بدلتے رہتے ہیں ظلم نہیں ۔ظلم کی تاریک رات نام نہادعدل کی کمزور شمع بجھا نہیں پاتی کہ ظلمت کی یہ رات کسی سورج سے ہی بے نقاب ہو سکتی اور بد قسمتی سے ایسا سورج اس دھرتی سے ناجانے ابھی کتنا دور ہے؟ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ ہماری دھرتی کے مدار میں ایسا کوئی سورج پڑتا بھی ہے یا ۔۔۔یا یہ کہ دھرتی کہیں دور جا پڑی ہے اورہر گزرتا لمحہ اسے عدل کے سورج سے دورتر کرتا کئے جاتا ہے ۔خدا نہ کرے کہ ایسا ہو لیکن ۔۔۔موجودہ حالات تواسی تاثر کو مضبوط کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دکھ کی سیاہ رات ہے کہ قوم کے ایک ایک فرد کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اوردکھ تو یہ ہے کہ حکمرانوں کی روایتی بے بسی ،بے حسی اور بے پرواہی نت نئے خدشات کو جنم دیتی اور مایوس کرتی جارہی ہے۔ ہمارے کرتا دھرتاابھی بھی اپنے’’ فرمان‘‘ سے یہ گمان رکھتے ہیں کہ اسی سے پاکستان کی الجھن سلجھ جائے گی ،حالات سنور جائیں گے اور ہر سو پھر سے خوش حالی کی بہار آجائے گی ۔نہیں صاحب نہیں ۔۔۔یہ محض آپکی خوش خیالی ہے اور بس(جو یقیناً صاحبانِ اختیار کو زیب نہیں دیتی ) ۔باتوں سے پیٹ بھرتا تو اب تک کوئی نہ کوئی بہتری کہیں نہ کہیں ضرور اپنی جھلک دکھا تی ۔سابقہ’’نا اہل‘‘حکمرانوں کو تو جانے دیجئے کہ یہ کام ان کا بس کاہی نہیں تھا ۔ ہمیں تو آپکی رہبری سے غرض ہے ۔وہی رہبری جسکا دعوی آپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بار بار کیا تھا ۔آپ ہی چیخ چیخ کر یہ باور کرایا کرتے تھے کہ قوم کو تباہی سے بچانے کے تمام تر منصوبے فقط آپ ہی ہیں جو جیب میں لئے گھومتے ہیں ۔حضور نکالئے وہ منصوبے ۔۔۔آپ کے چہروں پر اڑتی ہوائیاں تو کوئی اور ہی داستاں سنا تی ہیں ۔اس داستان کا نام نامی ہے’’ اور جیب کٹ گئی ‘‘۔ سو اب آپ کے پاس قوم کو دینے کے لئے صرف کڑوی کسیلی گولیاں ہی رہ گئی ہیں ۔یہ بھی آپ ہی کی احتیاط پسندی تھی کہ یہ گولیاں کسی دوسری جیب میں آپ نے رکھ چھوڑی تھیں۔ باقی رہیں میٹھی گولیاں تواب باقی نہیں بچیں ۔وہ گولیاں تو سب کی سب آپ اپنی انتخابی مہم میں کب کی پوری قوم کو بانٹ بھی چکے۔ 
اس عید پر بھی ’’کے پی کے‘‘کو ایک بار پھر خاک و خون میں نہلا دیا گیا ۔ وہاں کے وزیرِ قانون ایک بم دھماکے میں ہلاک کر دیاگئے۔سوشل میڈیا پر اس جوانِ رعنا کی تصویر دیکھی تو جانے کیوں میری آنکھیں نم ہو گئیں۔حالانکہ نام کی حد تک جانتا تھا اورصورت سے آشنائی تب ہوئی جب وہ ایک المناک سانحے کا شکارہو چکے تھے ۔ یہ حادثے تواب اتنے عام ہو گئے ہیں کہ خبریت کے مقام تک سے گرگئے ہیں ۔پھر بھی ناجانے کیوں جب بھی کوئی ایسا سانحہ رونما ہوتا ہے تو مجھے بے ساختہ اپنے شفیق استاد افتخار شاہد کا یہ شعر یاد آجاتا ہے 
(دھڑکنیں معتدل رہیں کیسے؟ * ہر گھڑی کوئی ناگہانی ہے)
’’ طالبانی ڈرامے ‘‘ کا کوئی ڈائریکٹر،فلمساز،فنانسریا پیش کار اس کے اور کیا کہہ ہی کیا سکتے ہیں کہ اسے طالبان سے ہمدردی ہے ،یہ اب اس کااحترام کرتے ہیں ،یہ ہما ر ے اپنے بچے ہیں،حکومت نے مذاکرات کا موقع گنوادیا ۔۔۔یہ باتیں مجھے دکھ نہیں دیتیں ہاں یہ دیکھ کر ضرور ہوا کہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے باوجود کپتان سوشل میڈیا پر سروے کرا رہا کہ اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے یاطالبان۔ 
افسوس بھولا بادشاہ اب تک اتنا بھی نہیں سمجھ پایا کہ طالبان بیرونی ایجنڈ ے کا اندرونی ہاتھ یہی تو ہیں جومظلوم ماؤں کی ساری کمائی، ساری جمع پونجی لوٹنے پر تلے ہیں۔ اور ہمارے قائدین سرو ے کراتے پھر تے ہیں ۔احساسِ زیاں جاتارہے تو وہی سب ہوتا ہے جو ہم سب نمناک آنکھوں سے روز دیکھتے ہیں۔ ناصر ملک صاحب بے طرح یاد آئے۔ ( زندگی کیوں اجاڑ دی ناصر؟ * باپ ترکے میں د ے گیا تھا کیا ) 
جب کوئی بڑا سانحہ درپیش ہو ،ایک ایڈ اکثر ٹی وی پر دیکھنے کو ملتا ہے جس میں معصوم بچے اپنے بڑوں کو بڑے پیار سے بڑی ہی پیاری نصیحت کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔کتنے بھلے لگتے ہیں جب وہ کہتے ہیں ’’اب بس کر دو بس۔اب بس کر دو بس‘‘ ۔۔۔۔میں جانتا ہوں کہ عیار قسم کے لوگ نوجوانوں کے دینی جذبات کو مسلکی تعصب میں ڈھال کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں ۔حسن بن صباکے یہ سیاسی وارث آج بھی فدائی(انسانی بم) تخلیق کرتے ہیں اوراسکی خدائی میں موت بانٹے ہیں ۔کل اس نے نشہ پلا کر جنت کے خواب دکھایئے تھے اور آج اس کے جانشین مذہب کی افیون سے جنت کو بیوپار کرتے ہیں ۔یقیناًپروپگنڈے کے زور پر بہت سے لوگ ان سے آن ملے ہوں گے۔مغضوبین نے ہزاروں کو گمراہ کر ڈالا ہو گا ۔ان سے جا ملنے کے بعد بہت سوں پر بہت کچھ واضح ہوا ہو گا۔کچھ ایسا جو خود ان کیلئے بھی کچھ کم حیران کن نہیں ہوگا۔ کچھ ان میں یقیناًکچھ ایسے بھی ضرور ہوں گے جن کا ضمیر انہیں دن رات ملامت کرتا ہو گا ۔وہی ضمیر جو ایماندار منصف ہے اور کبھی رشوت قبول نہیں کرتا۔ میرے مخاطب وہی لوگ ہیں اور مجھے ان سے یہ کہنا ہے کہ خدا را اب بس کر دو بس ۔خود جینا نہیں چاہتے تو انہیں تو مت مارو جن کا جرم محض اتنا ہے کہ وہ جینے کی چاہ رکھتے ہیں اور اپنی طبعی عمر جینا چاہتے ہیں ۔خود کشی ہی کرنی ہے تو کوئی اور طریقہ ڈھونڈھ لو ۔تم بھی تو کسی ماں کی کمائی ہو ۔خدارا واپس لوٹ جاؤ ۔تمہاری ماؤں کو تمہاری کمائی کی نہیں صرف تمہاری ضرورت ہے ۔خدا را قوم کے بچوں کو جینے دو ۔فرعون مت بنوں کہ اسکے انجام سے بھی تم بخوبی واقف ہو ۔واپس لوٹ جاؤ کہ تمھاری ماؤں کی ابھی آس نہیں ٹوٹی ۔ابھی انکی آنکھیں نہیں پتھرائیں ۔لوٹ جاؤ کہ تمہاری ماؤں نے ابھی بھی گھرکا دروازہ بند نہیں کیا۔نگاہیں جمی ہیں آنسو رکے ہیں اور وقت تھم سا گیا ہے ۔جاؤ اور زندوں میں لوٹ جاؤ اور انہیں احساس دلا دو کہ تم ابھی بھی زندہ ہو ۔زندہ رہنا چاہتے ہو اور تمہیں زندہ لوگ اب بھی اچھے لگتے ہیں۔ جاؤ کہ وقت کا پہیہ چل پڑے، رکے آنسو پھر سے بہہ نکلیں، ہونٹ پھر سے کھل اٹھیں ،بہار یں پھر سے لوٹ آئیں ۔کلیاں چٹک جائیں پھول مہک اٹھیں ۔۔۔۔۔۔۔اور اور اور گھر کے معصوم چاند پھر سے کھلکھلا اٹھیں گھر کی سہمی سمٹی عورتوں کے قہقہے پھر سے ابل پڑیں اور بڑی بوڑھیاں بلائیں لیتے ہوئے صدقے واری جاتے ،صدقے اور منت کے سکے بچوں کی طرف اچھالیں اوربچے لپک لپک کر اور اچھل اچھل کر سکوں پر جھپٹیں اوران کی بھی چاندی ہو جائے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پیارے پڑھنے والے عدیم نے کہا تھا ’’بم کی آنکھیں بہیں ہوتیں کہ دیکھ کر پھٹیں اور اپنے ٹکرے مظلوموں سے دور پھینکیں ۔۔۔با لکل سچ ہے لیکن میں نے جن بموں کو مخاطب کیا ہے انکی آنکھیں بھی ہیں پہلو میں کہیں دلبھی رکھتے ہیں ۔۔۔ہیں ناں

0 comments

Write Down Your Responses