محکمہ اوقاف کی ملی بھگت سے ہارون آباد میں متروکہ جائیداد کو مسمار کرنے کے اجازت نامے جاری کردیئے

ہارون آباد ( انویسٹی گیشن ٹیم ) محکمہ اوقاف کی ملی بھگت سے ہارون آباد میں متروکہ جائیداد کو مسمار کرنے کے اجازت نامے جاری کردیئے ۔پتری پاٹھ شالہ ،گاؤ شالہ ،مندر کالی ماں اور گوردوارہ جیسی اربوں روپے مالیت کی متروکہ املاک کو مسمار کرکے کمرشل کیا جا رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ہارون آباد میں محکمہ اوقاف کی غفلت و نااہل اہلکاروں کی ملی بھگت سے تاریخی ورثہ کی علامت واحد قدیم مندر حقیقی منظر اور نقشہ کو مسخ کرنے پر تل گئے ۔کروڑوں روپے مالیت کی جگہ کو چند سکوں کے عوض ملی بھگت کر کے ایک شخص کو تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا اجازت نامہ دیدیا ۔قیا م پاکستان سے قبل تعمیر کئے گئے ہارون آباد کے واحد تاریخی مندر کی نقشہ کو مسخ کرنے کے لئے تجارتی مقاصد کے لئے نئی دوکانیں تعمیر کر نے کا کام عروج پر پہنچ گیا ۔ہارون آباد میں قبل از ہی بھی محکمہ اوقاف کی ملی بھگت سے تاریخی ورثہ اور قیمتی جگہ اونے پونے دیکر ان کو برباد کیا جا رہا ہے ۔ہارون آباد شہر کے وسط میں واقع قیام پاکستان سے قبل تعمیر کئے گئے مندر کا برج اور اس کا منظر نامہ تاریخی ورثہ سمجھا جاتا ہے اس کی وجہ اس کا تاریخی پس منظر ہے جو ہارون آباد کی علامت کے طور پر ہمیشہ یاد کیا جاتا ہے ۔حال ہی میں محمد سعید ولد لعل خاں نے قائداعظم روڈ پر واقع مندر سے ملحقہ املاک کو محکمہ کی ملی بھگت سے مسمار کر کے نئی دوکانیں تعمیر کر کے ان کے اوپر چوبارہ بنانے کا مقصد کے تحت بڑی عمارت بنانا شروع کر دیا ہے جس سے قدیمی مندر کی اصل حیثیت ختم ہوتی جا رہی ہے اور مندر کے لئے وقف جگہ محکمہ کی ملی بھگت سے پلازوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے ۔اس سلسلہ میں ہندو کمیونٹی ہارون آباد کے سربراہ کشن لال ،صدر ہربنس لال ،ہیرا لال ،راجیش کمار ،شام لال،بنش لال و دیگر نے اس اقدام پر احتجاج کرتے ہوئے موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے بھر میں ہندو مذہب کے تمام عبادت گاہوں اور ان کی املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور قدیم مندر کی ملحقہ جگہ پر دوکانوں کی تعمیر کو روکا جائے اور ہندو مذہب سے منسلک تمام املاک کو ہندو کمیونٹی ہارون آباد کے حوالے کیا جائے ۔

0 comments

Write Down Your Responses