ایس آئی انوار الحق کی پھر تیاں بے گناہ شوہر کو سسرالیوں اور بیوی کی ایماء پر ملزم بنا دیا

بہاول پور (ایم وی این نیوز) ایس آئی انوار الحق کی پھر تیاں بے گناہ شوہر کو سسرالیوں اور بیوی کی ایماء پر مقدمہ نمبر527/13 مورخہ03-10-2013 بجرم324 میں ملزم بناکر چالان عدالت بھجوادیا۔ ملزم شہزاد حسین کی والدہ سردار مائی کی میڈیا سے گفتگو۔ تفصیلات کے مطا بق سردار مائی زوجہ محمد بلال قوم بلوچ سکنہ بھٹہ نمبر2 بہاول پور بتایا کہ میرے بیٹے شہزاد حسین کی شادی ہمراہ ناصر پروین مورخہ04-08-2008 کو ہوئی۔ شادی کے بعد سے ہی اس کا بیوی کا رویہ میرے بیٹے شہزاد حسین سے ٹھیک نہ رہا ، بات بات پر روٹھنا اور لڑائی جھگڑا کرنا معمول بنالیا اس کے باوجود میرا بیٹا شہزاد حسین اس کی جائز و ناجائز خواہشات کو پورا کرتا رہا اور ناصرہ پروین اسے آج تک مقدمات میں الجھاتی چلی آئی ہے مزید بتایا کہ ناصرہ پروین نے مورخہ13-10-2011 کو بعدالت جناب مس فوزیہ افضل صاحبہ سول جج /فیملی جج بہاول پور کی عدالت میں دعویٰ بعنوان ناصرہ پروین بنام شہزاد حسین دائر کروادیا اور میرے بیٹے سے کہا کہ تم کرناں بستی والا مکان جو تمہارے نام ہے میرے نام منتقل کر ادو ورنہ میں تمہیں اسی طرح مقدمات میں پھنساتی رہی ہوں۔ میرے بیٹے شہزاد حسین نے سسرالیوں کی بات مانتے ہوئے کرناں بستی والا مکان جس کی مالیت لاکھوں روپے میں بنتی ہے ناصرہ پروین کے نام انتقال نمبر17469 مورخہ03-11-2011 کو منتقل کیا۔ اس کے بعد ناصرہ پروین نے بعد الت جناب مس فوزیہ افضل صاحبہ سے مورخہ02-11-2011 سے اپنا دعویٰ واپس لے لیا۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ناصرہ پروین نے میرے بیٹے شہزاد حسین کے خلاف دو بارہ خرچہ نان و نفقہ کا دعویٰ بعدالت جناب شیخ نوید احمد صاحب سول جج/فیملی جج تحصیل فورٹ عباس ضلع بہاولنگر میں مورخہ19-05-2012 ء کو دائر کر ادیا اور میرے بیٹے کو ذلیل و خوار کرنا دوبارہ شروع کر دیا اورمیرے بیٹے شہزاد حسین کی جان کی دشمن بن گئے۔ گواہان کی شہادت کی روشنی میں جب اس کا خرچہ نان و نفقہ کا دعویٰ اس کی حد تک خارج ہوا تو اس نے میرے بیٹے شہزاد حسین کو کسی اور مقدمہ میں پھنسانے کیلئے پلان بنایااپنی بہنوں ، بھائی اور ماں کے ساتھ مل کر پلان بنایا اور اس نے مورخہ03-10-13 کو ناجائز اور جھوٹا مقدمہ نمبر527/13 بجرم324 تھانہ سول لائن بہاول پور میں درج کر ادیا یہ سب اس نے اپنے بھائی ، ماں اور بہنوں کے کہنے پر کیا ہے اور پولیس تھانہ سول لائن اور چوکی انچارج لاری اڈہ انوار الحقSi کو رشوت دے کر ناجائز اور جھوٹا مقدمہ کا چالان عدالت بھجوادیا ہے میرا بیٹا شہزاد حسین بے گناہ ہے اس کو ناجائز طور پر ملزم بنایا گیا ہے میں ڈی آئی جی پنجاب، ڈی پی او بہاول پور، آر پی او بہاول پور سے مطالبہ کرتی ہوں کہ انوار الحق کے خلاف محکمانہ کاروائی اور مقدمہ نمبر527/13 مورخہ03-10-2013 جوکہ جھوٹا اور من گھڑت کہانی پر مبنی ہے دوبارہ سے تحقیقات کرائی جائے اور مجھے انصاف دیا جائے۔Si انوار الحق نے چمک کی بنیاد پر مخالف پارٹی سے ساز با ز کرکے تفتیش کا رخ موڑا ہے۔ حقائق پامال کرتے ہوئے میرے بیٹے کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا ہے۔ مذکورہ تفتیشی افسر کے خلاف رشوت ستانی کا مقدمہ درج کیا جائے۔ ایس آئی انوار الحق ایمانی قرآنی بات کہنے کی تلقین کرتا ہے جبکہ اس کا عمل اپنے قول سے بالکل متضاد ہے۔

0 comments

Write Down Your Responses