کرپشن


تحریر : ذیشان انصاری ڈسکوی
ء 1996میں بھارتی وزیرمحکمہ ٹیلی کام سکھرام نے ایک نجی کمپنی کومعاہدہ دینے کیلئے تین لاکھ روپے رشوت لی تھی ، جس کے خلاف CBI نے 1998 ء میں چارج شیٹ جمع کروائی۔ رپورٹ کے مطابق سکھرام نےHTL کمپنی سے کیبل کی فراہمی کے معاہدہ کی مد میں 3 لاکھ روپے رشوت حاصل کی تھی۔ چارج شیٹ کا فیصلہ گذشتہ دنوں سنایا گیا، جس کی رو سے سکھرام کو5 برس کی سزا سنائی گئی۔ اسی طرح دیگرترقی یافتہ ممالک میں بھی کرپٹ سیاستدانوں ۔۔بیوروکریٹ ۔۔فوج۔۔سرکاری ملازمین کو سزا کے فیصلے سامنے آتے رہتے ہیں۔ 
مئی 2010ء میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ایک خط لکھا، جس میں قومی ادارے NLCL میں کرپشن کی داستان درج تھی۔ سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کرپشن کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔ شروع میں اس کیس میں سابقہ وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الہی کے فرزند چوہدری مونس الہی بھی شامل تھے۔ مگر بعد میںPPPP کا ہاتھ تھامنے کی بدولت فرزند چوہدری مونس الہی سلاخوں سے باہر اور خود چوہدری پرویز الہی ڈپٹی وزیراعظم پاکستان بن گے۔بعد ازاں PPPPکی گورنمنٹ اس کیس میں رکاوٹیں ڈالتی رہی مگر گذشتہ دنوں 22نومبر 2013ء کو عدالت عظمی پاکستان نے این ایل سی ایل سکینڈل کیس کی تحقیقات میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام میں چیئر مین نیب قمر زمان چوہدری ، وفاقی ٹیکس محتسب عبدالروف چوہدری و دیگر کے خلاف نیب آرڈیننس کے تحت مقدمے درج کرنے کاحکم دیا ہے۔ عدالت عظمی نے سابقہ وزیر تجارت مخدوم امین فہیم، سابق سیکرٹریوں سلمان غنی، اسماعیل قریشی، نرگس سیٹھی کو ایاز خان نیازی کی بطور چیئرمین این ایل سی ایل غیر قانونی تقرری کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے نیب کو ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ 
فیصلہ کے تحت چئیرمین این ایل سی ایل ایاز خان نیازی کی تقرری غیر قانونی تھی، ان کی تقرری میں سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، مخدوم امین فہیم ، نرگس سیٹھی ، اسماعیل قریشی، خوشنود لاشاری اور سلمان غنی ملوث تھے۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ظفر احمد قریشی کے تبادلے کی وجہ سے 42 کروڑ روپے جو محسن حبیب وڑائچ سے وصول کئے جانے تھے، وہ وصول نہیں ہوسکے۔ محسن وڑائچ، امین قاسم دادا اور خالد انور کو بیرون ملک سے گرفتار کرکے وطن واپس لایا جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
قارئین یہ تو صرف این ایل سی ایل کیس کا فیصلہ ہے جس میں قوم کے کروڑوں روپے ضائع ہوئے، پاکستان کے تمام سرکاری ادارے (واپڈہ ، گیس، ٹیلی فون، زراعت، میونسپل ایڈمنٹریشن وغیرہ) کا یہی حال ہے، روزانہ ہزاروں نہیں ، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی کرپشن ہوتی ہے ، اور کوئی ادارہ ۔۔آفسریاحکومت اس کرپشن کے خلاف جہاد کرنے کو تیارنظر نہیں آتا۔ ایک کہاوت ہے کہ ایک آفسر دس ہزار روپے رشوت لیتے پکڑا گیا، مگر اسی وقت آزاد بھی ہوگیا اور اس کے خلاف کوئی مقدمہ بھی درج نہیں ہوا، آفسر نے بتایا 10 ہزار لیتے پکڑا گیا تھا اور20ہزار دے کر آزاد ہوگیا ہو۔ 
سالانہ اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز ترقیاتی کاموں کیلئے جاری ہوتے ہیں، جن میں سے تقریبا 10% تو ہمارے نمائندگان لے جاتے ہیں ، 10-15% سرکاری آفسران کے ہوتے ہیں، باقی 70-80% فنڈز سے ترقیاتی کام کیلئے بچتے ہیں،ظاہری بات ہے اب 20-30% کی کمی کی بدولت کیسے ترقیاتی کام مکمل ہونگے؟
آجکل پاکستان میں سبزیوں کے ریٹ آسمان سے باتیں کر رہیں ہیں، اورغریب عوام درباروں اور لنگڑخانوں سے تین وقت کی روٹی کھانے پر مجبور ہوگئی ہے، سابقہ ادوار میں یہ پوزیشن 5-10% عوام کے پاس تھی۔مگر موجودہ حکومت کے ایماندار آفسران نے ترقی کرتے ہوئے غیریبوں کی تعداد 20%تک کردی ہے۔ جو پہلے صدقہ دیتے تھے آج لینے کی پوزیشن میںآگئے ہیں۔ پہلے آلو 15-20 روپے کلو تھے اب 100روپے میں میسر نہیں، سبزیوں کی قیمتیں گوشت سے زیادہ ہوگئی ہے۔ دالیں تو ہاتھ نہیں لگانے دیتی۔ پاکستان میں قیمتوں کے کنٹرول کیلئے مارکیٹ کمیٹی کا ادارہ موجود ہوتا ہے ، جو روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس کے آفسرکا عہدہ اعزازی ہوتا ہے جو لاکھوں کی رشوت دیکر میسر آتا ہے۔
بیروزگاری میں اضافہ کی بدولت عوام میں بچت کا رجحان تقریبا ختم ہوچکا ہے، اب نوبت سود پر ادھار لینے تک پہنچ چکی ہے۔ سود پر رقم لیکر اگر کوئی شخص اپنی رہائش بنانے کاخواب دیکھتا ہے تو تحصیل میونسپل ایڈمنسٹر یشن آفس کا ایماندار۔۔فرض شناس۔۔عملہ ایسی تعبیر کرتا ہے کہ وہ بیچار نہ مکان بنا سکتا ہے اور نہ ہی سود کی رقم واپس کرسکتا ہے۔ بیشتر اوقات 9 ماہ سے لیکر ایک سال تک عوام نقشہ پاس کروانے میں کامیابی حاصل نہیں کرپاتے۔ 
پاکستان کی معیشت کو تباہ و برباد کرنے میں کرپشن و سفارش کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ سرمایہ کار کروڑوں کا سرمایہ ہونے کے باوجود کوئی انڈسٹری پاکستان میں نہیں لگا سکتے۔ سرمایہ کاروں کو بجلی ۔۔گیس۔۔پانی و دیگر سہولتوں کی فراہمی کیلئے لاکھوں کی رشوت دینا پڑتی ہے۔ اس کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو و دیگر محکموں کو بھی ماہانہ یا سالانہ کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے۔ اگر خوش قسمتی سے سے کوئی سرمایہ کار انڈسٹری لگانے میں کامیاب ہوجائے اور ملک کے زرمبادلہ میں اضافہ کرنے لگے تو کسٹم آفسران اور بھتہ خور اپنا حصہ لینے آجاتے ہیں۔ابھی گذشتہ دنوں ایک ڈاکٹر 5 کروڑ کے بھتہ کے بعد آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ جبکہ بنگلہ دیش ودیگر ممالک میں سرمایہ کاروں کوجانی و مالی تحفظ حاصل ہے۔ 
ترقی یافتہ و مہذب معاشروں میں اساتذہ کو عزت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے، استاد بھی اپنے طالب علموں کو ایمانداری سے زندگی بسر کرنے کا درس دیتے ہیں اور معاشرہ ترقی کی منازل طے کرتا جاتا ہے۔مگر ہمارے جمہوری ملک میں جاہلی ڈگری ہولڈر سیاستدانوں نے استاد کے معیار میں کمی کردی ہے۔ سیاستدان سفارش ۔۔رشوت کی بنیاد پر نااہل۔۔ناتجربہ کار۔۔کرپٹ لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں۔ اور اگر خوقسمتی سے کوئی ایماندار۔۔فرض شناش۔۔تجربہ کار استاد بھرتی ہوجائے تو اس کے تعیناتی دور دراز علاقوں میں کروائی جاتی ہے اور رشوت لیکر ٹرانسفر نزدیک کی جاتی ہے۔جب استاتذہ سے رشوت کا مطالبعہ ہوگا تو پھر کسطرح ایک مہذب معاشرہ کی تشکیل ممکن ہے؟؟
قارئین اگر ہم پاکستان کا مقابلہ امریکہ ۔۔برطانیہ۔۔چین۔۔روس۔۔اٹلی۔۔بھارت۔۔سری لنکا سے کرنا چاہتے ہیں تو ہم کو پاکستان سے رشوت اور سفارش کانظام مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔ اس کیلئے سب سے پہلے پاکستان میں موجود تمام اعزازی سیاسی سیٹوں پر پابندی لگانا ہوگی ،ان کی جگہ میڑٹ پر سرکاری افسران کو تعینات کرنا ہوگا۔پاکستان میں تمام نوکریاں میڑٹ کی بنیاد پر دینا ہوگئی۔ اینٹی کرپشن کے ادارے کو مزید فعال کرنا ہوگا۔ اور اگر کوئی سیاسی / انتظامی شخصیت رشوت لیتے پکڑی جائے اس پر تاحیات پابندی لگا دی جائے اور مناسب سزا بھی دی جائے۔
بیشک پاکستان میں رشوت کا نظا م یکد م ناز ل نہیں ہوا، اس کیلئے 68سال کا عرصہ لگا ہے، مگر اگر ہم ایمانداری ۔۔پختہ ارادے سے کام شروع کردے تو ہم 5 سے 10سال میں پاکستان سے رشوت کا خاتمہ یقینی بناسکتے ہیں۔اور پھر ہم بنگلہ دیش۔۔بھارت۔۔سری لنکا وغیرہ کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی ہوجائے گے، اور اسی رفتار سے20 سال کے بعد ہم دنیا کی مضبوط معیشت والے ممالک میں شامل ہوجائے گئے۔ 
ہاں یہ کام انتہائی مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ۔ اس کیلئے صرف اورصرف جذبہ اور حوصلہ درکار ہے۔ ویسے بھی پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اسلام میں رشوت لینے والا جہنمی ہے۔ 
آخر میں زاہد عباس کے کچھ اشعار
جس شہر میں نفرت پلتی ہو
اور شہر ہوس کا پالا ہو
جب سودوزیاں کی بستی میں
بس جھوٹ کا سکہ چلتا ہو
اور پیار کی خوشبو سے واقف 
جس شہرکا باسی کوئی نہ ہو
اس شہر کی گہما گہمی میں 
خوشبو کون خریدے گا۔ 

0 comments

Write Down Your Responses