آئین و قانون اور یورو بیگاس

                 تحریر : زین رضا ضیاء
دنیا میں آج بھی ایسے ممالک موجود ہیں جو اپنے بناۓ ہوے قانون و آئین کی ہر حال میں پابندی کرتے ہیں چاہے انھیں کتنی ہی مشکلات در پیش ہوں جتنے ہی کراسس آ جائیں اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ اسپین اس وقت شدید اکانومک کراسس کا شکار ہے شہریوں کے دن بدن بڑھتے روزگار کے مسائل لوگوں کو روزگار نہ ہونے کی وجہ سے رہائش کے مسائل ان کی ایک لمبی فہرست موجود ہے مگر پھر بھی حکومت نے اپنے آئین کی پاسداری کی ہے ابھی حلیہ دنوں میں ہی لاس بیگاس کسینو کے مالک ادلسون جو ایک امریکی ہے جس کے دنیا کے مختلف ممالک میں کسینوں ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو روزگار کی سہولیات مل رہی ہیں ایک پلان مرتب کیا کہ اسپین جو کہ سیاحت کے یورپ کا مشہور ملک ہے اس کے شہر میڈرڈ  کے قریب لاس بیگاس کے بعد یورو بیگاس بنانے کا فیصلہ کیا نقشہ تیار کیا جس میں ڈائریکٹ  اور انڈیریکٹ سات ہزار کے قریب اس کسینو میں روزگار ملے گا کا سارا پلان حکومتی اداروں کے سامنے پیش کیا اور پریس کانفرنس کر کے صحافیوں کو بھی اس حوالے سے آگاہ کیا ایک زاویے دے دیکھا جائے تو اس پروجیکٹ سے اسپین کے معاشی حالت میں یکسر تبدیلی آ سکتی تھی لیکن حکومت نے اس پروجیکٹ کو لینے سے انکار کر دیا ہے کیوں کہ اسپین میں دو ہزار دس میں ایک قانون پاس کیا گیا کہ کسی بھی ایسی جگہ پر آپ سگریٹ نہیں پی سکتے جہاں پر لوگ انٹرٹین کے لئے جمع ہوے ہوں جس میں ہوٹل ریسٹورینٹ بار ڈسکو اور اس کے علاوہ شاپنگ سنٹر شاپس وغیرہ میں پہلے ہی سے پابندی تھی حکومت کا کہنا ہے کہ کسینو جہاں دن اور رات کا فرق نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ وہاں باہر کی روشنی اندر نہیں آ سکتی اور نہ ہی وال کلاک ہوتی ہے اور کسینو میں سگریٹ پینے کی بھی سر عام اجازت ہے اس کے علاوہ رہ زنی اور لوٹ مار کا بھی خطرہ رہتا ہے جس کی بہت سی مثالیں لاس بیگاس اور دوسرے ملک جہاں کسینو واقع ہیں دیکھنے میں ائی ہیں اور ہم اپنے آئین و قانون کے خلاف نہیں جا سکتے اور اس طرح انہوں نے آئین کی رٹ قائم کر دی ..........
اور ادھر ہم اگر اپنے ملک پاکستان کا جائزہ لیں تو حکومت کو کبھی آئین اور قانون یاد ہی نہیں آیا کرپشن کرنے والوں کو اس لئے چھوڑ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے کرپشن کے ہوئی دولت میں کبھی کچھ اور کبھی ساری واپس کر دی ہے کیا ہمارا آئین اس کی اجازت دیتا ہے مجرمانہ عملیات کرنے والوں کا یا تو تبادلہ کر دیا جاتا ہے اور اگر کچھ زیادہ ہو تو گھر بھیج دیا جاتا ہے کبھی سزا نہیں دی جاتی اور اگر اس میں کچھ بڑے لوگ ملوث پائیں تو ایک معاہدہ کیا جاتا ہے اور وہ سارے کے سارے بری قرار پاتے ہیں جیسا کہ این آر او میں ہوا ہے کبھی صدر صاحب کو استثنیٰ حاصل ہے کبھی میمو گیٹ کے مرکزی کردار حسین حقانی سزا پاے بغیر ہی ملک سے چلے جاتے ہیں اور وہاں بیٹھ کر زہر اگل رہے ہیں کبھی اچانک سے ارسلان افتخار کا معامله ختم ہو جاتا ہیں سزاے موت پانے والے اپنی پھانسی کا انتظار کر رہے ہیں مگر حکم نامہ ہی جاری نہیں ہوتا دہشت گردوں کو سزائیں اس لئے نہیں ہو رہی کہ یہ شواہد کم ہیں
یہ ہو کیا رہا ہے اس ملک میں کوئی قانون و آئین پر عمل کرنے کو تیار ہے نہیں ہے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو طعنے دینے اور کیچڑ اچھالنے میں مصروف رہنے ہیں تم نے یہ کیا تھا اور تم نے وہ ملکی مسائل پر توجہ کم اور آپسی باتوں میں زیادہ ہے ڈرون حملے پاکستان کے سلامتی کے خلاف تھے ہیں اور ہوں گے مگر کوئی اس کی جرات نہیں کرتا میں حکومت کی بات کر رہا ہوں بھارت سے تجارت کرو ویزا ختم کرو کیوں کہ وہ ہمارا ازلی دشمن ہے اس نے پاکستان کو توڑا ہے اور مزید کمزور کرنے کو کوشش کر رہا ہے اپنے کسانوں کو ریلیف کم دو کیوں کہ یہ کمیشن نہیں دیتے یہی کہہ سکتا ہوں میں بجلی پر ٹیکس بڑھاتے جاؤ مگر کالا باغ نہ بناؤ کیوں کہ اس سے بجلی سستی ملے گی اور سیلاب کا مسلہ ختم ہو گا کبھی فلاں نہیں مان رہے تو کبھی قردادیں  پاس ہو چکی ہیں اب کچھ نہیں ہو سکتا ایسی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں
میرا حکومت سے سوال ہے کیا ملک ان  کی وجہ سے ہے یا یہ ملک کی وجہ سے ہے خدارا ملک کی خفاظت کریں آئین و قانون کی رٹ قائم کریں کیوں کہ مضبوط اور ترقی یافتہ تب ہی ہو سکتے ہیں جب آئین و قانون پر عمل کیا جائے کسی بھی طبقے کے فرد کو استثنیٰ حاصل نہ ہو اس کی مثال ہمارے ہمسایے ملک چین سے ہی لے لیں اگر کچھ کرنا مقصود ہو تو مثالیں ہزاروں ہیں اور اگر اس قوم کی طرح آنکھیں بند کرنی ہوں جس پر تاتاریوں نے حملہ کیا تو ایک عورت نے کہا تم پر خدا کا عذاب نازل ہو تو اس تاتاری نے جواب دیا میں ہی عذاب ہوں جو تم پر تمہاری وجہ سے مسلط کیا گیا ہوں
الله تعالیٰ پاکستان کو اندرونی و بیرونی عذاب اور سازشوں سے محفوظ رکھے آمین

0 comments

Write Down Your Responses