اساتذہ علم کی ترویج او رترقی کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کردیں

سرگودھا (بیورو رپورٹ) ڈی سی او طارق محمود نے کہاکہ اساتذہ علم کی ترویج او رترقی کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کردیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار تعلیم انتہائی مایوس کن ہے ۔ والدین اور اساتذہ اگر اپنے بچوں کو اونر شپ دیں تو ہمارا معیار تعلیم بہتر ہو سکتا ہے ۔ اساتذہ کی تنخواہیں معقول ہیں لیکن نتائج انتہائی مایوس کن ۔ ہمارے بچے نظر انداز ہو رہے ہیں ۔ اساتذہ نئی نسل کیلئے روشنی کا مینار ہیں انہیں سنت نبویؐ کا احیاء کر کے رول ماڈل بننے کی ضرورت ہے وہ آج اپنے دفتر کے کمیٹی روم میں محکمہ تعلیم کے افسران او رمانیٹرنگ ٹیموں کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اجلاس میں ای ڈی ایجوکیشن ظفر ریحان ‘ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد نواز لالی ‘ ڈی ایم او ڈاکٹر صفدر حسین ‘ ڈی ای او ایلیمنٹری مقصود احمد اور دیگر افسران نے شرکت کی ۔ ڈی سی او نے اساتذہ کرام کے سکول کے اوقات کار کے دوران کلاس میں موبائل فون کے استعمال پر سختی سے
پابندی عائد کر تے ہوئے ای ڈی او ایجوکیشن کو اس ضمن میں ایک ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی او رخلاف ورزی کی صورت میں موبائل فون ضبط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اگر اساتذہ ہی کلاس کے اندر موبائل فون سے کھیلیں گے تو طلبا وطالبات پر کیا اثر پڑے گا ۔ انہوں نے کہاکہ اگر اساتذہ سنجیدہ ہوں گے تو طلبا ء بھی سنجیدگی کامظاہر ہ کرینگے ۔ڈی سی او نے کہاکہ محکمہ تعلیم کو اعداد وشمار کے گورکھ دھندے سے نکل کر کوالٹی ایجوکیشن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے بچوں کی کردار سازی او رگرومنگ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ۔ ڈی سی او نے کہاکہ قانون پر عملدرآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ غیبی ہاتھ ہیں جس کی وجہ سے بچے نظر انداز ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے اساتذہ او روالدین کی میٹنگ کی روایت کو برقرار رکھنے کی بھی ضرورت پر زور دیا ۔ ڈی سی او نے گزشتہ ماہ 53 اساتذہ کی غیر حاضری کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے نوکری سے فارغ کرنے او رای ڈی او فنانس کو ایسے ا ساتذہ کی تنخواہ بند کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔ ڈی سی او نے ضلع بھر کے زنانہ تعلیمی اداروں میں چار دیواری ‘ پینے کے صاف پانی ‘ ٹائلٹ او ربجلی کی سہولتیں ترجیحی بنیادوں پر مہیا کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔ اجلاس میں ڈی او بلڈنگ سلیم حسین نے بتایا کہ ضلع سرگودہا میں 2012-13 کے دوران مسنگ فسٹیلیٹز کی 57 سکیموں میں سے 49 سکیمیں مکمل ہو چکی ہیں ان سکیموں کیلئے دس کروڑ 70 لاکھ روپے کے مختص شدہ فنڈز میں سے آٹھ کروڑ بیس لاکھ روپے کے فنڈز خرچ ہو چکے ہیں ۔ اسی طرح 2013-14 کے دوران دس سکیموں میں سے نو سکیمیں مکمل ہو چکی ہیں ۔ جن کیلئے ایک کروڑ کے فنڈز میں سے 87 لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں ۔ سکولوں میں بجلی کی فراہمی کی 82 سکیموں کیلئے پانچ کروڑ دس لاکھ روپے مہیا کئے گئے تھے جس میں سے اب تک ایک کروڑ 56 لاکھ روپے کے اخراجات سے 31 فیصد کام مکمل ہو چکاہے ۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ضلع سرگودہا میں قبرستانوں کے گرد چاردیواری کی تعمیر کی 13 سکیموں کاکام مکمل ہو چکاہے ۔ جن کیلئے تین کروڑ 38 لاکھ 40ہزار روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ان سکیموں پر 60 فیصد کام مکمل ہو چکاہے ۔

0 comments

Write Down Your Responses