سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2013 کثرت رائے سے منظور ہوگیا

کراچی( انویسٹی گیشن ٹیم) سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2013 کثرت رائے سے  منظور ہوگیا اس دوران اپوزیشن شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کرگئی جب کہ اسپیکر  کی جانب سے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن اراکین نے اسمبلی کے باہر اجلاس شروع کردیا۔
اپوزیشن کی درخواست پر بلائے جانے والے سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت شروع ہوا تو مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر عرفان اللہ مروت بلدیاتی نظام کے خلاف قرار داد پیش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو اسپیکر نے انہیں روک دیا اور ان کا مائیک بند کردیا، جس پر اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن)، ایم کیو ایم اور فنکشنل لیگ نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کردیا اور ایوان کے باہر الگ اجلاس شروع کردیا۔
اسمبلی کے باہر اپوزیشن کے اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ کسی جماعت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے حلقہ بندیاں بنائے۔ حکومت کی جانب سے ایوان میں سندھ کے عوام کا مقدمہ پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، عوام کی آواز کو اس طرح سے نہیں دبایا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے اجلاس بلانے کی درخواست اور اپوزیشن کو ہی نہیں بولنے دیا گیا۔
مسلم لیگ (ن) کے عرفان اللہ مروت نے کہا کہ جعلی طریقے سے کسی کا مینڈیٹ نہیں چھینا جاسکتا، ہم حق اور انصاف کا راستہ مانگنے نکلے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے قوائد کے تحت اسمبلی میں قرارداد پیش کرنا چاہتا تھا لیکن اسپیکر کی جانب سے روک دیا گیا۔ دوسری جانب اپوزیشن کی غیرموجودگی میں حکومتی اراکین نے قانون سازی شروع کرتے ہوئے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2013 کثرت رائے سے منظور کرلیا

0 comments

Write Down Your Responses