بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی جائیداد کا تنازع 65 برس بعد بھی حل نہ ہوسکا

کراچی(انویسٹی گیشن ٹیم) بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی جائیداد کا تنازع 65 برس بعد بھی حل نہ ہوسکا،مُہتہ پیلسقصرفاطمہ سمیت منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کا مقدمہ گزشتہ42 برس سے سندھ ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہے۔
بابائے قوم اورمحترمہ فاطمہ جناح کافرقہ بھی تاحال طے نہیں ہوسکا،سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے اپنے فیصلے میں دونوں قومی رہنمائوں کو شیعہ قراردیا تھا جبکہ دورکنی بینچ نے فیصلے کو کاالعدم کرتے ہوئے قراردیا کہ قائد اعظم اور محترمہ فاطمہ جناح صرف مسلمان تھے ان کا کوئی فرقہ نہیں تھا، ان کی جائیداد اسلامی قوانین اور سورہ نسا میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں تقسیم کی جائے۔امیرجی والجی نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ محترمہ فاطمہ جناح کی چھوڑی ہوئی نصف منقولہ و غیر منقولہ جائیدادکے حقیقی وارث ہیں۔امیر علی جی والجی کی جانب سے دائر درخواست میں کہاگیا ہے کہ ان کے والد حسین جی والجی قائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح کے چچاوالجی پونجا کے پوتے ہیں ،محترمہ فاطمہ جناح کا انتقال10جولائی1967کوکراچی میں ہوا جس کے بعد بابائے قوم کی بیوہ شیریںبائی جناح نے وراثتی سرٹیفکیٹ کیلئے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس پر انہیں سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا۔سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے 23 دسمبر 1976 کوحسین جی والجی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قراردیا کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور فاطمہ جناح کاتعلق شعیہ فرقہ سے تھا اس لیے ان کی جائیداد شعیہ فرقے کے قانون وراثت کے مطابق تقسیم کی جائے تاہم دورکنی بینچ نے مذکورہ فیصلے کے خلاف اپیل منطور کرتے ہوئے سنگل بینچ کے فیصلے کو کاالعدم قراردیتے ہوئے ازسرنوسماعت کیلیے سنگل بینچ کوبھیج دیا تھا۔
دورکنی بینچ نے قراردیا تھا کہ قائد اعظم شیعہ یا سنی نہیں صرف مسلمان تھے ،آنحضرت  اور قرآن کے ہدایات پر عمل کرنے والے تھے،انھوں نے اسلام کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا ، انہیں شیعہ یا سنی قرارنہیں دیا جاسکتا ، ان کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔عدالت کو بتایا گیا کہ محترمہ فاطمہ جناح کے انتقال کے بعد شیریں بائی جناح نے شیریں جناح چیریٹیبل ٹرسٹ قائم کیا اور مہتہ پیلس سمیت منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد ٹرسٹ کے سپردکردی۔انھوں نے ہدایت کی کہ مہتہ پیلس میں ’’شیریں جناح گرلزمیڈیکل کالج‘‘اور اسپتال قائم کیا جائے جہاں خالص میرٹ پر مستحق طالبات کو داخلہ دیا جائے،ٹرسٹیز میں مردان شاہ مردان پیر صاحب پگارا،عبادت یار خان ،اے کے بروہی اور دیگر شامل تھے۔
عدالت میں پیش کی گئی، محترمہ فاطمہ جناح نے مجموعی طور پر 28لاکھ روپے مالیت کے زیورات،شیئرز اور نقدی چھوڑی تھی جن میں۔حبیب بینک فارن ایکسچینج برانچ میں 5 لاکھ 61 ہزار760روپے،گرنڈلیز بینک میلوروڈ برانچ میں 4 ہزار 592 روپے، حبیب بینک لمیٹڈ کے 51 ہزارروپے کے شیئرز،پی آئی اے کے 45ہزارروپے کے شیئرز، راولپنڈی الیکٹرک پاورکمپنی کے 3 ہزار 960 روپے، سوئی گیس ٹرانسمیشن کمپنی کے4لاکھ30ہزار روپے کے شیئرز، آدم جی انشورنس لمیٹڈ کے4لاکھ77ہزار روپے کے شیئرز، مُہتہ پیلس کے فرنیچر، قالین، برتن اور دیگر اشیاء کی مالیت 4لاکھ روپے،مرسڈیز سمیت 4گاڑیوں کی مالیت ایک لاکھ روپے، مُہتہ پیلس سے ملحقہ 8ہزار مربع گز کی اراضی کی مالیت7لاکھ روپے تھی۔ فاضل عدالت نے قراردیا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح کے فرقے کے تعین کیلئے مزید دلائل دئیے جائیں ۔

0 comments

Write Down Your Responses