نوبل انعام یافتہ شخصیت نیلسن منڈیلا طویل علالت کےبعد جوہانسبرگ میں اپنی رہائش گاہ پر انتقال کرگئے

جوہانسبرگ(انویسٹی گیشن ٹیم) جنوبی افریقا کے سابق صدر اور نوبل انعام یافتہ رہنما نیلسن منڈیلا انتقال کرگئے۔
 جنوبی افریقا کے سابق صدر اور نوبل انعام یافتہ شخصیت نیلسن منڈیلا طویل علالت کےبعد جوہانسبرگ میں اپنی رہائش گاہ پر انتقال کرگئے ہیں ۔نیلسن منڈیلا کے انتقال کا اعلان جنوبی افریقی صدر جیکب زوما نے کیا،جیکب زوما کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقا اپنے ایک عظیم بیٹے سے  محروم ہوگیا۔95 سالہ نیلسن منڈیلا کئی ماہ سے پھیپڑوں کے مرض میں مبتلا تھے جنہیں  5 مرتبہ اسپتال منتقل کیا گیا،لیکن آج طویل علالت کے باعث نیلسن منڈیلا انتقال کرگئے۔
نیلسن منڈیلا 18 جولائی 1918 کو جنوبی افریقا کے شہر تانسکی میں پیدا ہوئے،اقوام متحدہ منڈیلا کے یوم پیدائش کو منڈیلا ڈے کا نام بھی دے چکا ہے۔نیلسن منڈیلا کو نسل پرستی کے خلاف آواز بلند کرنے پر نوبل پرائز سے نوازا گیا ۔نیلسن منڈیلا 1994 میں جنوبی افریقا کےپہلے جمہوری صدر منتخب ہوئے،نیلسن منڈیلا جنوبی افریقا کے پہلے سیاہ فام صدر بھی تھے ۔انہوں نے زندگی کے 28 سال جیل میں بھی گزارے۔
نیلسن منڈیلا کے انتقال پر عالمی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔امریکی صدر بارک اوبامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ منڈیلا کو دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے منڈیلا کے انتقال پر وزیراعظم ہاؤس پر قومی پرچم سرنگوں رکھنے اعلان کیا ہے، ڈیوڈ کیمرون نے اپنے بیان میں کہا کہ  نیلسن منڈیلا ایک عظیم شمع تھی جوبجھ گئی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی نیلسن منڈیلا کے انتقال پر افسوس کااظہار کیا، اپنے بیان میں بان کی مون کا کہنا تھا کہ نیلسن  منڈیلا انصاف کے دیوتا تھے.

0 comments

Write Down Your Responses