دھرنوں کے ذریعے خود کو سیاسی طورپر زندہ رکھنے کیلئے ہاتھ پاؤ مارے جارہے ہیں : مولانافضل الرحمن

ڈیرہ اسماعیل خان(سید توقیر حسین زیدی سے)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانافضل الرحمن نے کہا ہے کہ دھرنوں کے ذریعے خود کو سیاسی طورپر زندہ رکھنے کیلئے ہاتھ پاؤ مارے جارہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں حکومت نام کی چیز نہیں ہے۔ صوبے میں کسی کی رٹ نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب مولانا نے کہاکہ صوبے کے حالات کو ہم راہ راست پرکیوں لائیں جن پس پردہ قوتوں نے صوبے پر یہ قوت مسلط کی تھی وہ اب خود اس مصیبت کو سنبھالیں حالات پر ہماری بھی نظر ہے۔ پاکستان اور بھارت نے مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر کے ذریعے کشمیریوں کو مایوس کیا تو وہ خودمختار کشمیر کی طرف جاسکتے ہیں وزیراعظم عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے خصوصی احکامات جاری کریں ۔۔ سیاسی طورپر دھرنوں کے ذریعے خود کو زندہ رکھنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارے جارہے ہیں۔شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن دہشتگردوں کیخلاف نہیں بلکہ عوام کے خلاف ہورہاہے۔ ہم نے ہمیشہ غیرمسلم مظلوم کی آواز بھی بلند کی غیرمسلم قوتوں کو بھی چاہیے کہ وہ مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کریں۔بھارتی عوام نے پاکستان کے عوام کو امن کا پیغام دیا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعیۃ علماء اسلام کے رہنماء چوہدری محمد اشفاق ایڈوکیٹ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مولانافضل الرحمن نے کہاکہ شمالی وزیرستان ایجنسی میں دعویٰ کیاگیا تھا کہ فوجی قافلے پر حملہ ہوا تھا جبکہ جب بھی فوجی قافلے گزرتے ہیں کرفیو نافذ کردیا جاتا ہے کرفیو ہی میں فوجی قافلوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔ فوجی قافلے کے بعد عام آبادی کو نشانہ بنایاگیا ہے۔ ہیلی کاپٹرز کا استعمال کیاگیا۔ تین دنوں تک لاشوں اور زخمیوں کو گھروں سے نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔8واں دن ہے شمالی وزیرستان کرفیو کی زد میں ہے۔ خوراک کے حوالے سے مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ میرعلی بازارکو مکمل طورپر منہدم کردیاگیا ہے۔ مساجد شہید ہوچکی ہیں حکومت کو چیلنج کرتا ہوں کہ اس آپریشن میں65عام شہری شہید ہوئے ہیں ایک بھی دہشتگردی نہیں مارا گیا۔ انتقام کی آگ ٹھنڈی کی جارہی ہے اور حکومت کے ان اقدامات کے نتیجے میں علاقے میں امن مزید خراب ہوجائیگا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مارشل لاء کبھی مسائل کا حل ثابت نہیں ہوا اس سے مزید تباہی آتی ہے ملک کی ترقی پیچھے چلی جاتی ہے بلکہ ترقی رک جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو بھی سیاست دان اور ادارے ان حالات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں یہ ان کی بھول ہے کہ وہ اپنی مقصد میں کامیاب ہوجائینگے معیشت اور قیام امن کیلئے سیاسی جمہوری استحکام ضروری ہے ایسا نہ ہوتو معاشی زبوں حالی مقدر رہتی ہے۔ بھارت میں ڈالر 55روپے کا پاکستان میں110روپے کا ہے اب تو افغانستان کی کرنسی بھی پاکستان کی کرنسی سے طاقت ور ہوچکی ہے۔ معیشت سے حوالے سے صورتحال انتہائی خراب ہے اورپاکستان کسی بھی وقت اقتصادی طورپر دیوالیہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں بیلٹ پیپرز فوٹو سٹیٹ کرکے تقسیم کئے گئے کئی اضلاع اور حلقوں میں ہمارا انتخابی نشان بھی بیلٹ پیپرز پر نہیں تھا اور اسی وقت پنسل سے کتاب کا نشان بنا کر اس کی فوٹوسٹیٹ کی گئی اور ووٹرز کو دیئے گئے اس سے حالات کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عوام کو مایوس نہ کیا جائے۔

0 comments

Write Down Your Responses