اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور اور ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے زیر اہتمام انٹرنیشنل کیمل کانفرنس کی تین روزہ شاندار تقریبات گزشتہ شام اختتام پذیر ہوگئیں

بہاول پور (انویسٹی گیشن ٹیم) اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور اور ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے زیر اہتمام انٹرنیشنل کیمل کانفرنس کی تین روزہ شاندار تقریبات گزشتہ شام اختتام پذیر ہوگئیں۔ انجینئر میاں محمد بلیغ الرحمن وزیر مملکت برائے تعلیم و امورِداخلہ تقریب میں مہمان خصوصی تھے ۔وزیر مملکت نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے اونٹ پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے جس کا سہرا پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار وائس چانسلر اور ان کی فعال اور محنتی ٹیم کو جاتا ہے ۔ اونٹ موجودہ دور میں بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ جانور صحرائی علاقوں میں باربرداری کے ساتھ ساتھ دودھ اور گوشت کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہے ۔ عالمگیریت کے اس دور میں اس کی افادیت کم نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھی ہے۔ ابھی حال ہی میں ہمسایہ ملک چین میں اونٹوں کے قافلے پر عالمی تجارتی مہم کا آغاز کیا گیا ۔ اونٹ آج بھی ہماری سرحدوں پر دفاعی مقاصد کے لیے زیر استعمال ہے اور ڈیزرٹ رینجرز کے اونٹ اس کی بہترین مثال ہیں ۔ انجینئر میاں محمد بلیغ الرحمن نے اس بات سے مکمل اتفاق کیا کہ جامعہ اسلامیہ میں اونٹ پر تحقیق کا ایک بین الاقوامی مرکز قائم کیا جائے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔ انہوں نے ملکی اور غیر ملکی مندوبین کی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے بہاول پور آمد کو بے حد سراہا اور امید ظاہر کی کہ کانفرنس میں پیش کیے گئے مقالات اور سفارشات کی بدولت اونٹ کی سماجی ، معا شی اور سائنسی اہمیت پر تحقیقی سرگرمیوں میں مزید نکھار آئے گا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پوروگورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاول پور نے اس موقع پر وزیر مملکت کی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں خصوصی شرکت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انجینئر میاں محمد بلیغ الرحمن کی علم دوستی کا مظہر ہے کہ ان کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ جامعہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں ۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نے کہا کہ آج جامعہ اسلامیہ میں ملکی اور غیر ملکی سائنس دانوں کی ایک کہکشاں موجود ہے جو ہمارے لیے باعث صد افتحار ہے ۔ وائس چانسلر نے کانفرنس کی فوکل پرسن ڈاکٹر شازیہ انجم ، ڈائریکٹر ریسرچ پروفیسر ڈاکٹر محمد اصغر ہاشمی اور کالج آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسزکے استاد ڈاکٹر عمر فاروق کی کاوشوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ وائس چانسلر نے انٹرنیشنل کیمل کانفرنس کے موقع پر کمانڈر ڈیزرٹ رینجرز بریگیڈر ریاض الحسن کے خصوصی تعاون کو بے حد سراہا۔ انہوں نے چولستان ڈویلپمنٹ کونسل کے ڈائریکٹر فاروق احمد خان اور رضیہ ملک کی جانب سے معزز مندوبین کے اعزاز میں صوفی نائٹ کی محفل سجانے اور چولستان پیس فیسٹیول کے شاندار انعقاد کو بے حد سراہا۔ اس موقع پر بیرون ملک سے آئے ہوئے مندوبین پروفیسر ڈاکٹرہدایت اللہ روشن فکر اور بیگم شہناز روشن فکر، ایران، ڈاکٹر انجس اسمارا شمس الدین ، ملائشیا، پروفیسر سعید محمد بسماعیل، سعودی عرب، ڈاکٹر حامد اغب محمد، سوڈان، ڈاکٹر ایچ جے شوارڈز، جرمنی ، ڈاکٹر کسا جے زیڈجما نیگوا ، کینیا،ڈاکٹر این ایل سونفدا ، نائیجیریانے کانفرنس کے انعقاد کو غیر معمولی واقعہ قرار دیا اور بہترین انتظامات پر وائس چانسلر اور فیکلٹی ممبران کو مبارک باد پیش کی۔ اس موقع کانفرنس کی سفارشات پڑھ کر سنائی گئیں۔ تمام مندوبین نے اتفاق کیاکہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورمیں کیمل ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ، چولستان قائم کیاجائے اور اسی طرح اونٹ کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرنے کے لیے چولستانی کیمل ایسوسی ایشن کے قیام کے ساتھ ساتھ اونٹ پالنے والے حضرات کے لیے آوٹ ریچ پروگرام مرتب کیے جائیں ۔ اس سلسلے میں ڈیزرٹ رینجرز کیمل فارم کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں سے روابط بڑھائے جائیں ۔ نیشنل کیمل ورکنگ گروپ قائم کیاجائے تاکہ اونٹ سے متعلقہ مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن پر کام کیاجاسکے ۔ صحرا کے دور دراز علاقوں میں اونٹ پالنے والے حضرات کو لیبارٹری ودیگر سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔ اونٹ پر تحقیق کرنے والے محققین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیاجائے ۔ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ وہ اونٹ پر تحقیق کے لیے ایک علاقہ مخصوص کرے، اونٹ کے ماحولیاتی تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔ کانفرنس کے دوران پاکستان اور بیرون ملک سے آئے ہوئے مندوبین نے کانفرنس کے تین روزہ سائنٹیفک سیشنز میں شرکت کی جن کے موضوعات میں اونٹ کی صحت وصفائی ا ور علاج ، غذااورمتعلقہ مصنوعات ، افزائش اور جنیاتی ،سماجی و معاشی امور شامل تھے ۔پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا وائس چانسلر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز لاہور نے بھی کانفرنس کے ایک سیشن کی صدارت کی ۔ کانفرنس کے انعقاد میں یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز لاہور ، لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگری کلچر ، واٹر اینڈ میر ین سائنسز، اوتھل، بلوچستان، یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد، یونیورسٹی آف ایگری کلچر پشاور، بارانی لائیو سٹاک پروڈکشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کیھڑی مراد ، لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ بلوچستان ، ڈیری اینڈ رورل ڈویلپمنٹ فنڈ، یو ایس ایڈکے نمائندوں نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔کانفرنس کے انعقاد میں لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب ، کیمل ایسوسی ایشن آف پاکستان کا خصوصی تعاون بھی شامل تھا۔ 

0 comments

Write Down Your Responses