ایٹمی ٹیکنالوجی میں مہارتوں کے بعد اب ہمیں فوڈ سیکورٹی کے لئے اسی جذبے سے آگے بڑھنا ہو گا، پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد

فیصل آباد( سلیم شاہ ،چیف انوسٹی گیشن سیل ) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل ایکسٹنشن اینڈ رورل ڈویلپمنٹ نے پنجاب کے زرعی شعبہ جات کے اشتراک سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں تک رسائی کے لئے زرعی بیٹھک منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کسانوں کو مختلف فصلوں کے بارے میں جملہ معلومات، مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور دیگر امور کے بارے میں آن لائن مواد دستیاب ہو گا۔ یہ بات یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام ایک روزہ بین الاقوامی سمپوزیم برائے انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی توسیع میں مشاورتی نظام سے مقررین نے اپنے خطاب کے دوران بتائی۔ سمپوزیم کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کی جبکہ مہمانان اعزاز امریکی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس کے ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر جم ہل اور ڈاکٹر مارک بل تھے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایک بار پھر 1960ء کے اوائل میں برپا ہونے والے زرعی انقلاب کی ضرورت ہے جس کے لئے آئی سی ٹی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے نئی کامیابیوں کی طرف گامزن ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی میں مہارتوں کے بعد ملکی سیکورٹی کو یقینی بنایا گیا ہے اب ہمیں فوڈ سیکورٹی کے لئے اسی جذبے سے آگے بڑھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ سے ہماری زراعت ٹماٹر اور مکئی کے علاوہ دیگر فصلات کی پیداوار کے حوالے سے جمود کا شکار ہے اس کے لئے ہمیں عالمی سطح پر دستیاب نئی ٹیکنالوجیز عام کسان تک پہنچانے کے لئے آئی سی ٹی کو اپنانا ہو گا۔امریکی سائنسدان ڈاکٹر جم ہل نے کہا کہ فوڈ سیکورٹی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کے لئے تمام ممالک کے ماہرین اور سائنسدانوں کو مل کر زرعی پیداوار بڑھانے پر توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز سے نارمن بورلاگ نے انسانیت کے لئے غذائی محاذ پر جدوجہد کی اسی جذبے سے ایک بار پھر بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراک پوری کرنے کے لئے ہم سب کو کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ ڈاکٹر مارک بل نے کہا کہ دنیا سمٹ کر ایک موبائل فون کی سکرین تک محدود ہو گئی ہے جس کے ذریعے اطلاعات کی فراہمی کا عمل تیز تر ہو گیا ہے اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کی معراج کے اس دور میں کسانوں تک جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کا عمل تیزی سے مکمل کیا جانا چاہیے۔ یونیورسٹی کے ادارہ زرعی توسیع و دیہی ترقی ڈاکٹر تنویر علی نے کہا کہ زرعی توسیع کے شعبے میں مختلف فصلات کے ماہرین کے ذریعے مربوط اطلاعاتی نظام وضع کر کے ملک کے لئے غذائی حوالے سے بھرپور پیداوار کا اہتمام کیا جا سکتا ہے اس مقصد کے لئے یونیورسٹی اپنے وسائل کے ذریعے آؤٹ ریچ پروگراموں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ڈائریکٹر انفارمیشن پنجاب محمد رفیق اختر نے کہا کہ محکمہ زرعی اطلاعات پنجاب جہاں مختلف ٹی وی چینلز کو زرعی پروگراموں کی تیاری اور دیگر مواد کی فراہمی میں مدد دے رہا ہے وہاں پندرہ روزہ زراعت نامے اور ٹی وی پروگراموں کے ذریعے عام کسان کی دہلیز تک جدید ٹیکنالوجی منتقل کرنے میں بھرپور کاوشیں بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں بیس ہزار افراد کے لئے صرف ایک توسیعی کارکن دستیاب ہے یہی وجہ ہے کہ تمام لوگوں تک رسائی کے لئے آئی سی ٹی کا استعمال شروع کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر خالد محمود شوق نے کہا کہ نجی شعبے میں زرعی اطلاعاتی نظام کے لئے کاوشوں کو سرکاری شعبے کی مدد سے زیادہ مربوط بنایا جا سکتا ہے اس مقصد کے لئے سوشل میڈیا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہو گا۔ ڈاکٹر محمد رشید نے کہا کہ یونیورسٹی نے پنجاب کے تمام اضلاع میں ہر فصل کے لئے پیش گوئی پر مبنی نظام وضع کیا ہے جس کے ذریعے کمپیوٹر پر بیٹھ کر کوئی بھی کسان اپنے کھیتوں سے زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لئے سفارشات حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کھادوں کے متناسب استعمال سے 300ارب روپے کا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد منیر ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ سائنس نے کہا کہ اداروں کی کامیابی مسلسل محنت کی مرہون منت ہوا کرتی ہے اور یونیورسٹی کی قیادت نے اپنی محنت کی بنیاد پر جامعہ کو دنیا کی 100بہترین یونیورسٹیوں میں شامل کر کے محنت کی عظمت کے اصول پر مہرتصدیق ثبت کر دی ہے۔ ڈاکٹر بابر شہباز نے کہا کہ زرعی بیٹھک محکمہ زراعت توسیع اور دیگر شعبہ جات کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے جس کے ذریعے کسانوں کو ان کے مسائل کا حل فوری طور پر پیش کیا جا رہا ہے

0 comments

Write Down Your Responses