اگر محنت کرنے کی لگن اور جذبے جوان ہوں تو معذوری بھی بہتری کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی

وہاڑی(انویسٹی گیشن ٹیم) اگر محنت کرنے کی لگن اور جذبے جوان ہوں تو معذوری بھی بہتری کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔ وہاڑی کا 38 سالہ محمد لطیف دونوں ٹانگوں سے معذور ہونے کے باوجود پانچ سال سے اپنے سات بہن بھائیوں اور بوڑھی والدہ کی کفالت کر رہا ہے ۔پیپلز کالونی کا رہائشی محمد لطیف اپنے سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے ۔جب وہ چار سال کاتھا تو پولیو کا شکار ہو کر دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گیا لیکن اُس نے ہمت نہ ہاری اور اپنے محنت کش باپ جو سرکاری سکول کے باہر سموسے پکوڑوں کی ریڑھی لگا کر گھر کا سلسلہ چلا رہا تھا کی خواہش پر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جب وہ میٹرک میں پہنچا تو اُس کا باپ محمد ادریس اللہ کو پیار ا ہو گیا اُ س نے انتہائی مشکل حالات میں میٹرک کا امتحان پاس کر نے کے بعد اپنے والد کی جگہ ریڑھی لگا کر اپنے گھر کا سلسلہ چلانے کی کوشش کی لیکن معذوری کے باعث وہ ایسا نہ کر سکا لیکن اُس نے گھر والوں کی کفالت کیلئے کئی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں ملازمت کیلئے درخواستیں دیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر گھر کا گزارہ بھی چلاتا رہا لیکن اسے نوکری نہ ملی تو مقامی کیبل نیٹ ورک کے مالک چوہدری طاہر انور واہلہ نے اُسے اپنے دفتر میں ملازمت دے دی ۔محمد لطیف کا دفتر تیسری منزل پر واقع ہے جہاں وہ روزانہ صبح 8 بجے انتہائی مشکل اور تکلیف سے پہنچتا ہے اور شام 5 بجے اُسے پھر اسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اُس نے بھیک مانگنے کی بجائے مشکلات کو ترجیح دی ہوئی ہے اور اپنی معذوری کو آڑے نہ آنے دیا اور گھر کی کفالت بڑی مشکل سے جاری رکھے ہوئے ہے ۔بدقسمتی سے محمد لطیف معذور افراد کیلئے کام کرنے والی سماجی تنظیموں اور سرکاری ملازمت میں دو فیصد کوٹہ دینے والوں کی نظروں سے آج تک دور ہے یا جان بوجھ کر ان ذمہ داروں نے ایسے افراد سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں محمد لطیف کی
والدہ اور شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اُسے سرکاری ملازمت دی جائے تا کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت بہتر انداز میں کر سکے 

0 comments

Write Down Your Responses