چہلم اورکرسمس کے موقع پرڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرنیوالے گروہ کی اطلاع پر پولیس کاعلاقہ ضمیرآبادکے قریب محاصرہ‘دہشتگردوں کی طرف سے دستی بموں اوراسلحہ کااستعمال

ڈیرہ ا سماعیل خان(سید توقیرزیدی) چہلم اورکرسمس کے موقع پرڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرنیوالے گروہ کی اطلاع پر پولیس کاعلاقہ ضمیرآبادکے قریب محاصرہ‘دہشتگردوں کی طرف سے دستی بموں اوراسلحہ کااستعمال‘پولیس کی جوابی فائرنگ کے دوران گروہ کاسرغنہ روشان محسودماراگیا‘نصف درجن دستی بم‘چارپستول اورسینکڑوں کارتوس برآمد‘ماراجانیوالاسرغنہ پولیس کوڈسٹرکٹ سنٹرل جیل ڈیرہ سے فرارہونیوالے واقعہ کے مقدمہ سمیت اغوائیگی‘بھتہ خوری اورڈکیتی کے چارمقدمات میں پولیس کومطلوب تھا۔تفصیلات کے مطابق ایس ایچ اوکینٹ سیف الرحمن کومخبرکی طرف سے اطلاع ملی کہ ضمیرآبادمیں مائنربلوچ کے قریب گنے کی فصل میں کچھ مشکوک افرادموجودہیں اطلاع پر ایس ایچ اوکینٹ نے ایلیٹ پولیس اوراے پی سی کے ہمراہ موقع پر مشکوک افرادکامحاصرہ کیااس دوران ملزمان نے پولیس پارٹی کودیکھ کر ان پراندھادھندفائرنگ کردی۔اس دوران ملزمان نے پولیس پرتین دستی بم بھی پھینکیں۔پولیس کی جوابی فائرنگ سے گروہ کاسرغنہ روشان ولدمحمدخان محسودسکنہ مکین ماراگیا۔تاہم پولیس نے موقع سے گروہ کے دیگرتین اراکین کوگرفتارکرلیا۔گرفتارہونیوالیسخی جان ولدنندرخان محسود سکنہ لدھا حال ضمیرآبادسے دودستی بم ‘ایک پستول تیس بوراورتین کارتوس‘دوسرے ملزم عاشق جمال ولد میراوس محسودسکنہ لدھاسے ایک پستول تیس بور‘دودستی بم اورپانچ کارتوس جبکہ تیسرے ملزم شیرگل ولد آدم خان دوتانی سکنہ طوئے خلہ حال شیخ میلہ درازندہ سے ایک پستول تیس بور‘ایک دستی بم اورایک کارتوس برآمدکرلیا۔پولیس نے گروہ کے سرغنہ روشان کے قریب سے ایک دستی بم ‘ایک پستول تیس بوربلانمبر‘ایک موبائل نوکیہ ماڈل1280‘چارمیموری کارڈزاورچارمتفرق سمزبھی برآمدکرلیں۔ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہواہے کہ ملزمان کرسمس اورچہلم کے موقع پر دہشتگردی کامنصوبہ بنارہے تھے۔ماراجانیوالاگروہ کاسرغنہ روشان پولیس کوڈسٹرکٹ سنٹرل جیل ڈیرہ پردہشتگردوں کے حملے کے دوران فرارہونیوالے قیدیوں کے مقدمے سمیت اغوائیگی‘بھتہ خوری اورڈکیتی کے چارمقدمات میں بھی مطلوب تھا۔یہ پولیس مقابلہ چارگھنٹے تک جاری رہا۔کینٹ پولیس نے ایس ایچ اوکینٹ سیف الرحمن کی مدعیت میں اس واقعہ کامقدمہ ملزمان کیخلاف 324-353/34/13AO-5/4Exp-PPCکے تحت درج کرلیا۔

0 comments

Write Down Your Responses