پاکستانی عوام !


تحریر : علی رضا جتوئی
آپ نے بھی میری طرح کئی بار شاہ دولہ کے چوہوں کو دیکھا ہوگا کبھی ان سے خوف کھایا ہوگا اور کبھی ان پر ترس کھایا ہوگا، دل میں ان کی بیچار گی کا خیال بھی آیا ہوگا ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ شاہ دولہ کے چوہے کہا ہوتے ہیں کہاں سے آتے ہیں اور ان کا کیا مصروفیت ہوتی ہے شاپ دولہ ایک مزار ہے جو گجرات میں ہے اور ہر سال اس کا عرس دھوم دھام سے منایا جاتا ہے یوں ہوتا ہے اور پھر بڑے ہونے پر بھیک مانگنے کے کام پر لگادیا جاتا ہے بعض ماں باپ جن کی اولاد نہیں ہوتی یا ہوتی ہے اور مرجاتی ہے یا کسی اور سبب سے منت مانگتے ہیں کہ وہ اپنا بچہ شاہ دولہ کے مزار کی بذر کر دیں گے ایسے بچے پیدائشی طور پر صحت مند وتے ہیں مگر ان کے سر پر ایک آ ہنی خول چڑھا دیا جاتا ہے اور پھر ام کا سر چھوٹا ہی رہ جاتا ہے اب ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد رہ جاتا ہے جوکہ بھیک مانگنا اور کھانا کھانا ایسے لوگ ذہنی طور پر بھی چھوٹے رہ جاتے ہیں اور چنے سمجھنے کے قابل رہتے ہیں نہ زندھی کی بھاگ دوڑ میں حصہ لے سکتے ہیں ۔
ہم پاکستانی بھی جب پاکستان بنا اور ہم نے پیدا ہوئے تو بہت صحت مند تھے بڑے توانا تھے ایک نظریے کی کو کھ سے جنم لیا تھا اور دنیا لرذا بر اندام تھی کہ نہ جانے یہ دنیا میں کیا کر گزریں گے اگر عالم اسلام کے یہ قائدبن گئے تو عالم اسلام کہیں کفر کی طاغوتی قوتوں کو ملیا میٹ ہی نہ کر دے پاش پاش ہی نہ کر دے۔پھر دنیا بھر کے قابل ترین زہن سر جوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے پاکستان میں موجود اپنے ایجنٹوں سے رابطہ کیا جو سیاست میں بھی تھے بیورو کریسی میں بھی اور صنعت کاروں میں بھی اور پھر انہوں نے پاکستانی قوم کو شاہ دولہ کا چوہا بنانے کا فیصلہ کر لیا ۔اس مقصد کیلئے انہوں نے ایک بڑے ہی آسان سے سیدھ راستے کا انتخاب کیا اور اپنے ایجنٹوں کو اس کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی اور صلے میں ان کی اور ان کی نسلوں کے مفادار کے تحفظ کا ذمہ اٹھایا فیصلہ یہ کیا گیا کہ اس ملک کے لوگوں کے ذہنوں پر انگلش کا خول چڑھا دیا جائے یہ تمام عمر اس خول میں ہی قید رہیں نہ ان کی علم تک رسائی ہو ،نہ ان کو تحقیق کا پتا چلے ،نہ سائنس کا ،نہ ٹیکنالوجی اور ہمارے ایجنٹ ان کو بتاتے رہیں کہ انگلش ہی ترقی کا واحد ذریعہ ہے انگلش سے ہی سائنس اور ٹیکنا لوجی کے دروازے کھلتے ہیں اور دنیا میں رابطے کی واحد زبان انگلش ہے66 سال ہو گئے یہ خول چڑھی انگریزی کی غلام بن چکی ہے ،اس کو بھی روٹی ،پیسے اور کرسی کے سوا کچھ نہیں چاہے ،دنیا بھر میں بھکاری اور گڈاگر کے نام سے پہچانی جاتی ہے ،جس کا جی چاہتا ہے جوتے اتروالیتا ہے ،جو چاہے کپڑے اتار لیتا ہے ،جس کو جتنی دیر چاہیں کسی بھی جگہ روک کر پوچھ کچھ شروع کر دیتے ہیں اور اس عمل کیلئے مقام ،وقت اور دورانئے کی کوئی قید نہیں ۔
ہمیں بھی اب صرف دو وقت کی روٹی چاہیے ،چاہے اس کی جوبھی قیمت دینی پڑے ،شاہ دولہ کے چوہوں کو بھی تو یہی چاہیے کل صبح جب منہ دھونے کیلئے آئینے کے سامنے کھڑے ہوں تو اپنی شکل کو غور سے دیکھیں اور ہاں سر کے سائز پرضرور غور کریں 

0 comments

Write Down Your Responses