ناقابل تلافی ۔۔۔۔۔۔نا قابل معافی


تحر یر عبدالرؤف چوہان 
انسان اکثریہ سوچتے ہیں کہ انکی زندگی ہمیشہ ایک سی گزرے گی۔بہت اچھی یابہت افسردہ۔لیکن حقیقت بالکل اسکے برعکس ہے۔اورانسان اکثرغلط ثابت ہوتا ہے کبھی کبھی اسکی زندگی میں بہت سے خوشگوارمواقع آتے ہیں تو کبھی تکلیف دہ لمحات کاسامنابھی کرناپڑتاہے لیکن خوشگوارمواقع اورتکلیف کے لمحات کے ذمہ دار بھی انسان خودہی ہوتے ہیں اس کالم کولکھنے کے بارے میں بدھ کی صبح سوات میںآگ سے ماں بیٹیوں کے جھلسنے کے بعدسوچا۔قارین منگل کی رات سونے والی یہ ماں بیٹیاں نجانے کیاکیاخواب آنکھوں میں لیے سوئی ہوں گی،انہیں کیامعلوم تھاکہ ہم رات کوچولہا ہی صیح طرح نہیں بندکرپائے۔انکوکیامعلوم تھاکہ وہ صبح وضوکیلیے پانی گرم کرناچاہیں گی توگیس لیکج کی وجہ سے گیس انکے گھرمیں پھیلی ہوگی۔اوربالکل ایساہی ہواجیسے ہی ان بچیو ں کی والد ہ زیب النساء نے چولہاجلانے کیلیے ماچس کی تلی جلائی فوراًآگ نے پورے گھرکواپنی لپیٹ میں لے لیا۔اوراس گھرمیں موجودچاروں ماں بیٹیاں جھلس گئیں ۔قارئین اسطرح ہم لوگ بہت سی ایسی چھوٹی چھوٹی غفلتیں کر تے ہیں جوبعض اوقات ہماری جان بھی گنوادیتی ہیں
3دسمبر2010کوکوئٹہ میں ہلاک ہونیوالا اے ایس آئی اسکی والدہ،اورگھرمیں موجودایک رشتے داربھی صرف رات کوہیٹرنہ بند کرنیکی وجہ سے پتہ نہیں رات کے کس پہر خاموش نیندسوگئے،17اپریل2012کوجھنگ میں شادی کی پہلی رات مرنے والے میاں بیوی بھی جنریٹرسے نکلنے والے دھواں سے دم گھٹنے سے جان دے چکے ہیں۔قارئین آخرکب تک کبھی گیس کاچولہاکھلارہنے اورکبھی جنریٹرکے دھواں سے دم گھٹنے،اورکبھی گیس ہیٹر رات میںآن رہنے سے موت ہمارابہانہ بنتی رہے گی۔گیس لیکج سے موت کی وجہ بتاتاچلوں کہ سوئی گیس کی لیکج سے نکلنے والے زہریلے مرکبات جیسے کہ میتھین گیس وغیرہ۔ ہمارے جسم میں جاکرخون میںآکسیجن کی مقدارکوکم کردیتی ہے اورہماری خاموش نیندکاسبب بنتی ہے۔
قارئین اب ہمیں ایسی چھوٹی چھوٹی غفلتیں جوخاموش نیندکابہانہ بنتی ہیں نظراندازنہیں کرناہوں گی۔یقیناہماری انہی چھوٹی چھوٹی غلطیوں ہی کی وجہ سے سانحہ گجرات ہوا تھا۔جس میں ایک خاتون ٹیچرسمیت کئی معصوم بچھے بھی جان سے گئے تھے اگرہمارے ہاں ناقص سی این جی سلنڈروں کااستعمال نہ ہوتاتوشایدسانحہ گجرات میں مرنیوالے اپنے پیاروں میں ہنستے کھیلتے اپنی زندگی گزاررہے ہوتے۔آخرہمارے ہاں ایساکیوں ہوتاہے کہ جب کوئی سانحہ ہوتا ہے اسکے بعد ہی قانون ہرکت میںآتا ہے اورافسوس تو یہ کہ چندروزدو ڑدھوپ کے بعد نیتجہ پھرصفررہتا ہے ۔پاکستان بھرکے کونے کونے میں پٹرول اورایل پی جی گیس کھلے عام ایجنسیوں میں فروخت ہورہے ہیں لیکن انتظامیہ کو پتہ نہیں کیوں نہیںیہ کھلے عام سیل پوائنٹ نظرنہیںآتے۔آخرایسی کیاضرورت ہوتی ہے کہ پٹرول پمپ سے چندگزکے فاصلے پرہی ایجنسیاں نہ صرف کھلاپٹرول فروخت کررہی ہوتی ہیں بلکہ اضافی قیمت بھی وصول کررہی ہوتی ہیں لاہورمیں گذشتہ چند ماہ میں پٹرول ایجنسیوں میںآگ لگنے کے دوواقعات رونماہوئے ہیں جوبڑی تباہی کاسبب بن سکتے تھے لیکن ریسکیوجوانوں نے بہت مشکل سے حالات پرقابوپایا۔ان وقعات کے بعدچندروزتوانتظامیہ ہرکت میںآئی لیکن کچھ روزکے بعدوہ ہی کھلا پٹرول،وہی سیل پوائنٹ،اوروہی ہم جیسے خریدار۔
کیا ہم صُمٌ بُکْمٌ عُمْیٌ کی کیفیت میں مبتلاہیں کہ ہمیں ایسی چیزیں نظرآتیں ہی نہیں جو ہمارے لیے جا نی ومالی نقصان کاسبب بنتی ہیں کیاان کھلے عام پڑول وگیس بیچنے والے قانون شکنوں کے ہاتھ قانون سے ذیادہ لمبے ہیںیاپھرانکی غیرقانونی کمائی کا کچھ حصہ قانون نافظ کرنیوالوں کی جیبوں تک پہنچ رہاہے قارئین یہ توغفلتوں کی تصویرکاایک رخ تھاجبکہ اسی تصویرکادوسرارخ انتہائی مسخ شدہ اوربھیانک ہے ہمارے معاشرے میں روزبروزجنسی زیادتی اور بعدازقتل کے مقدمات میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔اورافسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان ذیادتیوں کاشکارجوان بچیوں تو ہیں لیکن اس کیساتھ ساتھ کمسن اور معصوم بچے اور بچیوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے 
آخریہ سب کچھ اس قدرآسانی سے کس طرح ممکن ہوتاہے کیا کہیں ہم جرائم کی اس نگری میں جرم کی راہ ہموارتونہیں کر رہے۔کیاہم نے بحیثیت ہمسائیہ،دوست،رشتہ دار،باپ،ماں،بھائی،بہن،بیٹے کاکرداربخوبی نبھایاہے یاہم بھی دوسروں کی طرح صرف محوتماشاہیں۔
ہم اکثراپنے گردونواح میں بچوں کیساتھ کسی اجنبی کوبے تکلف ہوتادیکھتے ہیں تونظراندازکردیتے ہیں اورہماری یہ لاپرواہی بعض اوقات ہمارے بچوں کے اغواء کاسبب بنتی ہے توکبھی زیادتی کیس بعدازقتل جیسے واقعات کا �آاسی طرح ہم اپنی جواں سالہ بچوں اوربچیوں کو موبائل تو لے دیتے ہیں لیکن اسکے بعدموبائل چیک کرنیکی زہمت نہیں کرتے کہ ہمارے بچوں کے موبائل میں کس کس کے نمبرہیں اورکس قسم کے میسج۔اگرہمارے پاس روزانہ بچوں کے موبائل دیکھنے کاوقت نہیں تو پھربچوں کوپریپیڈ سموں کی جگہ پوسٹ پیڈسمیں مہیاں کریں تاکہ روزانہ نہیں توماہانہ وارہی ہم اپنے بچوں کی فون ریکارڈزکوچیک کرنیکی زحمت کرلیں۔
اسی طرح ہم اپنی کم عمربچوں کوموٹرسائیکل یا گاڑی مہیا کرنیکے کاشوق تورکھتے ہیں لیکن کبھی بچوں کے پیچھے جاکریہ جاننے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ بچوں کی موٹرسائیکل چلانے کاطریقہ کیاہے انکی حدسپیڈکیاہے اورہماری اسی لاپرواہی کی وجہ سے بچے نہ صرف اورسپیڈمیں موٹرسائیکل چلاتے ہیں بلکہ اکثراوقات ون ویلنگ بھی کرنے لگتے ہیں موٹرسائیکل کی ریس کھیلنے لگتے ہیں اورماں،باپ کی طرف سے یہ چھوٹی سی غفلت یا تو بچوں کی موت کاسبب بنتی ہے اور یاان بچوں کوہمیشہ ہمیشہ کے لیے معذو رکردیتی ہے اوراسکے ساتھ بڑے بزنس مین حضرات کی بات کرتے ہیں جن کی فیکٹریوں میں سینکٹروں لوگ کام تو کررہے ہوتے ہیں لیکن ان میں سے کئی فیکٹریوں میں مزدوروں کے باہرنکلنے کیلیے ایک ہی راستہ ہوتاہے اورکسی بھی قسم کاایمرجنسی گیٹ نہ بنانیکی غفلت سے مختلف حادثات میں کئی مزدوراپنی قیمتی جانوں کوگنوابیٹھتے ہیں وہ مزدورجن میں سے اکثر اپنے گھر کاواحدسہاراہوتے ہیں جن کی بنیادی ذمہ داری میں بوڑھے ماں باپ کاعلاج ،بیوی بچوں کی ضروریات کو پوراکرناشامل ہوتاہے لیکن سر مایہ دارفیکڑی مالکان کی غفلت غریب مزدوروں کی موت کی سبب بنتی ہے
قارئین غفلتیں چھوٹی لیکن نقصانات بڑے اورناقابل تلافی ہوتے ہیں لیکن تھوڑی سی سمجداری اور زمہ داری سے باآسانی بہت سے حادثات سے بچاجاسکتاہے
قارئین رات کوگیس کاچولہاچیک کرنے اورگیس ہیٹربندکرنے میں کچھ سیکنڈزہی لگتے ہیں لیکن یہ چندسیکنڈزکی ذمہ داری بہت سے لوگوں کی جانیں محفوظ بناسکتی ہے،اگرگھروں میں جنریٹررکھتے ہیں تواسکوبندکمروں میں نہیں بلکہ کھلی جگھوں میں رکھنے چاہئیے۔آخرکھلا پٹرول بیچنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے ہاں کوئی ایسی جگہ جہاں سے پٹرول تک لوگوں کی رسائی نہ ہو وہاں مجبوری کے باعث کھلے پٹرول کی فروخت سمجھ آتی ہے ۔آخرکیوں ہم کچھ ہزاربچانے کے لیے کمرشل گاڑیوں میں ناقص سی این جی سلنڈرلگواتے ہیں جو بعض اوقات کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں اگرہم اپنے اردگردہونیوالی نقل وحرکت پردھیان دیں تویقیناجنسی زیادتی کے کیسزمیں کمی آسکتی ہے اگر ہم اپنے بچوں کوپری پیڈسموں کی جگہ پوسٹ پیڈسمیں مہیاکرنی شروع کردیں اور ماہانہ وارآنیوالے بلزمیں موجودکال ریکارڈز دیکھناشروع کردیں تو یقیناجوان بچے،بچیاں جوگمراہ ہوجاتے ہیں اورگھروں سے بھاگ جاتے ہیںیقیناان کیسزمیں بھی کمی ہوسکتی ہے
کم عمربچوں کو موٹربائیک یا گاڑی دینے کے بعدانکی نقل وحرکات کوچیک بھی کرتے رہیں لیکن اسکے ساتھ ساتھ خود بھی ٹریفک حادثات سے بچنے کیلیے ٹریفک قوانین پرعمل کر یں۔بڑے بڑے کاروباری حضرات کو بھی چاہیے کہ غریب مزدوروں کی قیمتی جانوں کو یقینی بنائیں جو اکثراپنے گھروں کے واحدخودکفیل ہوتے ہیں فیکٹریوں میںآگ بجھانے کے آلات کی تنصیبات کو یقینی بنایں۔اورفیکڑیوں کوکھلے فیکڑی علاقوں میں قائم کریں۔اورمیڈیابھی مختلف آگاہی پروگرام شروع کرکے لوگوں کوتربیت فراہم کرے۔
خدا کرے تیر ے دل میں اتر جائے میر ی بات۔

0 comments

Write Down Your Responses